انسانی ذہن کا ارتقائے معکوس

248

میں: ذہن انسانی کے ارتقا پر کل معاً ایک خیال آیا کہ لاکھوں ہزاروں صدیاں گزرنے کے بعد انسان ترقی کے کس درجے تک پہنچا ہے؟
وہ: میرے خیال سے آج کے ماہرین بشریات اور سائنس دانوں کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ وہ ذہن انسانی کے ارتقا کو دنیا کی مادی ترقی کے پیمانے سے جانچتے اور پرکھتے ہیں۔ یعنی آغاز تمدن میں صدیوں پہلے انسان غاروں اور پہاڑوں کی کوہ میں رہا کرتا تھا مگر آج اپنے علم وہنر کو کام میں لاتے ہوئے عالیشان گھروں میں رہ رہا ہے۔ پہلے روشنی کے لیے لکڑی سے آگ جلایا کرتا تھا اب بجلی کے نت نئے قمقموں سے مستفید ہورہا ہے۔ پہلے ستاروں کی چال، سورج اور چاند کی گردش سے موسم اور وقت کے اتار چڑھائو کا حساب انگلیوں پر لگا لیا کرتا تھا اور مختلف اعداد وشمار اسے زبانی از بر ہوا کرتے تھے، آج کے انسان کی یہ صلاحیت بھی چھوٹی چھوٹی مشینوں کی مرہون منت ہوچکی ہے۔
میں: میری سمجھ میں تمہاری یہ بات بالکل نہیں آئی، یہ ذہن انسانی کا ارتقا ہی تو ہے جو دنیا آج خلائوں کو چھو رہی ہے، چاند کو انسان نے اپنا گھر آنگن بنا رکھا ہے، اس نے آج کائنات کے کئی رازوں سے پردہ اٹھا کر نجانے کتنی گتھیاں سلجھالی ہیں۔
وہ: اصل میں انسان کی ذہنی صلاحیت کا ارتقا مادی ترقی سے زیادہ اس کی روحانی ترقی ہے اور یہ آج کے انسان کی کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں روحانیت علم کی بنیاد نہیں ہے۔ حصول علم کا مقصد صرف مادی اشیاء پر تصرف تک محدود ہے۔ یعنی علم بس وہی اچھا ہے جو زیادہ سے زیادہ مادی فائدے کا ذریعہ بنے، جسمانی ضرورتیں پوری ہوں اور بلا روک ٹوک خواہشات کی تکمیل ہوتی رہے۔ یہ ذہن انسانی کا کیسا ارتقا ہے کہ آج کا انسان ذہنی سکون کو ترس رہا ہے، علوم کی اعلیٰ وارفع منازل طے کرنے کے بعد بھی روح کی تسکین کا سامان میسر نہیں۔
میں: لیکن روح کی بالیدگی کسی تعلیمی سند کی محتاج تھوڑی ہوتی ہے، یہ تو ریاضت قلبی کا معاملہ ہے، جس نے ربّ کی ذات سے زیادہ لو لگالی اس کا بیڑا پار ہوگیا۔
وہ: تمہارا تجزیہ بالکل درست ہے، لیکن آج میرا تم سے سوال ہے کہ آج کا علم انسان کو خدا سے قریب کررہاہے یا دور لے جارہا ہے، اس کی روح کو آسودہ کررہا ہے یا آلودہ۔؟
میں: تم نے تو مجھے مخمصے میں ڈال دیا، آج کا تعلیم یافتہ انسان تو مجھے خدا سے زیادہ دور نظر آتا ہے، اس کی سوچ تو کھانے کمانے اور خوب مال بنانے سے آگے ہی نہیں بڑھتی تو پھر روح کی سیرابی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
وہ: اس حوالے سے یہ بھی بہت اہم نکتہ ہے کہ روحانی ترقی انسان کو دوسرے انسان کا مونس وغم خوار بناتی ہے، معاشرتی قدروں اور باہمی رشتوں کا احترام سکھاتی ہے۔ اور یہ صرف اور صرف اسی وقت ہوتا ہے جب علم وہنر کی بنیادیں روحانی ضابطوں پر استوار کی جائیں۔ اور یوں پروان چڑھنے والے معاشروں میں عالم اور جاہل دونوں ہی کی ذہنی تشکیل ایک ہی زاویے، ایک ہی طرز پر ہوتی ہے۔ اور جب معاملہ اس کے برعکس ہو یعنی علم وہنر کی بنیادیں مادی ضابطوں پر مستحکم ہوں تو دیکھ لو اس وقت دنیا میں کیا ان پڑھ اور کیا فاضل دونوں ذہنی سطح پر ایک ہی مقام پر کھڑے ہیں۔
میں: میں تمہاری بات سے سو فی صد متفق ہوں، لیکن ارتقا کے اس عمل کا اگر صرف آج کی میڈکل سائنس کے حوالے سے موازنہ کیا جائے، تو یہ معاملہ ما ضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید اور بہتر ہوگیا ہے۔
وہ: کچھ نئی ایجادات کی حد تک شاید یہ بات درست ہو لیکن اصل میں ایسانہیں ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق انسان کے جسم کو طبی حوالے سے اب تک صرف بائیس سے تیئس فی صد تک جانا جاسکا ہے۔ آج اگر کسی کو بلڈ پریشر ہوگیا تو ہوگیا، علاج کوئی نہیں، سوائے اس کے وہ ساری عمر احتیاط اور دوائوں پہ گزارے دے، یہی معاملہ شوگر اور گردوں کے امراض کا بھی ہے۔ آج کا معالج ہزاروں روپے کے لیبارٹری ٹیسٹ کے بغیر ایک معمولی سے مرَض کی بھی تشخیص نہیں کرپاتا۔ دورِ رفتہ کے یونانی معالج ہوں یا اسلام کے ترقی یافتہ دورکے طبیب اور حکماء چہرے کی رنگت، ناخنوں کے ابھار، جسم کے دھبوں، دل کی دھڑکن، بے ربط سانسوں اور نبض کی رفتار دیکھ کر تشخیص اور علاج دونوں کرلیا کرتے تھے۔ چلو یہ ذرا زیادہ پرانی باتیں ہوگئیں، تم نے حکیم اجمل کا نام تو سنا ہوگا، جن کی حکمت، تشخیص اور علاج کا تو تاج ِ برطانیہ بھی معترف تھا۔ حکیم صاحب ۱۹۲۷ء میں کم وبیش ۶۰سال کی عمر میں دہلی میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی قابلیت کا امتحان لینے کے لیے پردے کے پیچھے ایک مرد کی کلائی سے دھاگہ باندھ کر ان کے ہاتھ میں تھمادیا اور حکیم صاحب نے ایک ہی لمحے میں بتادیا تھا کہ یہ کسی عورت
کی نبض نہیں ہے۔
میں: کیا واقعی ماضی میں ایسے ایسے قابل طبیب گزرے ہیں؟
وہ: بالکل، اور تم نے قرآن میں سیدنا سلیمان ؑ اور ملکہ سبا کا واقعہ پڑھا ہے نا، جس میں ایک دیوہیکل جن کے مقابلے میں دربار میں موجود ایک صاحب علم آدمی سبا کو اس کے تخت سمیت پلک جھپکتے میں حاضر کردیتاہے۔ سیدنا سلیمانؑ کا دور عیسیٰ ؑ سے تقریباً ہزار سال قبل کا ہے یعنی یہ آج سے کم وبیش تین ہزار سال پہلے کی بات ہے جب انسان صرف اور صرف اپنی علمی استعداد کی بنیاد پر ہزاروں میل کے فاصلے پر موجود کسی شخص یا شہ کو اپنی دسترس میں لے لیتا تھا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ذہن انسانی کا ارتقا اصل میں علم کی بنیاد پر تسخیر کائنات ہے، نہ کہ کائنات میں پھیلی اشیاء کو دیکھ کر اس جیسی چیزیں بنا کر اپنی تخلیقیت کے گُن گانا اور کاروبار کے نئے افق تلاش کرنا۔
میں: تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ انسان کے ذہن میں صرف اسی چیز سے متعلق کوئی تخلیقی خیال آسکتا ہے جس کا مشاہدہ اور تجربہ اس نے اپنے حواس خمسہ کے ذریعے براہ راست کیا ہو۔
وہ: تم نے بہت اچھے پہلو کی نشاندہی کی ہے اس پر ان شااللہ آئندہ نشست میں گفتگو کریں گے۔ مگر میری دانست میں یہ دنیا اس وقت انسانی ذہن کے ارتقائے معکوس سے دوچار ہے۔ انسان آگے کے بجائے پیچھے کی جانب سفر کررہا ہے، ذہن کے دریچے کھلنے کے بجائے مقفل ہورہے ہیں۔ اور اس کی سب سے اہم وجہ علم کے راستے پر جستجو کا مادہ مفقود ہوگیا ہے اور انسان نے روح کی سیرابی کے بجائے صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کو حصول علم کا مقصد بنا رکھا ہے۔