مقبوضہ کشمیر کے نہتے اورمظلوم لوگوں کیلئے برطانوی ایوان میں بھی آوازیں اٹھنے لگیں

129

لندن:مقبوضہ کشمیر کے نہتے اورمظلوم لوگوں کی حالت زار کے حوالے سے دنیا کے ایوانوں میں آوازیں اٹھنے لگیں، برطانیہ کے اراکین پارلیمان ہندوستان کی ریاستی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے خلاف بول اٹھے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی حالت زار پر برطانوی پارلیمنٹ ویسٹ منسٹر ہال میں انتہائی متاثر کن گفتگوہوئی، ایک برطانوی وزیر اور 10اراکین پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی بے بسی کا پردہ چاک کیا،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی تشویشناک صورتحال پر گفتگو کرنے والوں میں لیبر پارٹی سےتعلق رکھنے والی ممبر یو کے پارلیمنٹ سارا اوون،جیمز ڈیلی، کنزرویٹو پارٹی کی سارا برٹیکلئیر،لیبر پارٹی کے جان سپیلر،لیبر پارٹی کی ناز شاہ کے علاوہ کنزرویٹو رکن روبی مور  شامل ہیں۔

برطانوی اراکین پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کا لاک ڈاؤن عوام کے تحفظ کیلئے نہیں بلکہ جبری تسلط کے لئےہے،5لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو قید کر رکھا ہے،انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیاں مشاہدے میں آئی ہیں،کشمیری مسلمانوں کو اسپتالوں میں جانے سے بھی روکا جا رہا ہے۔

برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ ہندوستانی فوجی خواتین کو ان کی دہلیز پر حراساں اور ان کی عصمت پر حملے کر رہے ہیں،برطانیہ نے ہمیشہ خواتین کے تحفظ کی بات کی ہے،کیا مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اراکین پارلیمنٹ کے بیانات ان کے اقدامات سے مطابقت رکھتے ہیں؟مقبوضہ کشمیر سے پناہ کی درخواست کرنے والی خواتین کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہلاکتوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں، مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار پر پابندی ہ، مودی سرکار کیخلاف بات کرنا دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے  لیبر پارٹی کےرکن  برطانوی پارلیمنٹ جان سپیلر نےکہا کہ مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ ہے،مقبوضہ کشمیر میں تشدد اور جبری گمشدگیاں عام ہیں،مغربی میڈیا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر خاموش ہے،مقبوضہ کشمیر میں ریپ اور جنسی تشدد کے اندوہناک واقعات ہو رہے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ ہمیں مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کیخلاف متحد ہونا ہے،مقبوضہ کشمیر اور پنجاب کی صورتحال بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں،ہم بھارت کے اس نکتہ نظر کو مسترد کرتے ہیں،ہم بھارت کیخلاف نہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہندوستان کی مقبوضہ کشمیر میں خلاف ورزیوں پر اسے ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے،انسانی حقوق ایک عالمی معاملہ ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار بھارت ہے کنزرویٹو پارٹی  کی سارا برٹیکلئیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے لئے ہندوستان نے اپنے قانون میں ردوبدل کیا، بھارت مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی کو تبدیل کر رہا ہے،ڈیموگرافی کو تبدیل کر کے ہندوستان ایک ممکنہ ریفرنڈم  کے  مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے1984میں گولڈن ٹیمپل پر حملے کے بعد قتل و غارت کا بازار گرم ہوا۔

لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے کہا کہ گذشتہ سال سے سیاسی و انسانی حقوق کے لئے بات کرنے والے ہزاروں کشمیریوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو شفاف ٹرائل کا حق بھی نہیں دیا جا رہا،2ایٹمی طاقتوں کے درمیان یہ تنازعہ باعث تشویش ہونا چاہئیے۔

رکن برطانوی پارلیمنٹ روبی مور کا کہنا تھا کہ 2015 سے 2020 کے دوران برطانیہ نے 50 ارب پاؤنڈ مالیت کا اسلحہ بھارت کو بیچا،یہی اسلحہ کشمیریوں کا خون بہانے میں استعمال ہو گا،بورس جونسن نے بھارت کا دورہ تو ملتوی کیا ہے، کیا وہ اسلحہ بیچنا بھی بند کریں گے؟عالمی اداروںِ حکومتوں اور لیڈرز کو ہندوستان کو کشمیروں کی نسل کشی سے روکنا ہو گا،یہ امن کا وقت ہے ، کچھ نہ کیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

کنزرویٹو پارٹی  کے رکن برطانوی پارلیمنٹ  پال برسٹو نے کہا کہ بھارت کسی غیر ملکی صحافی کو مقبوضہ کمشیر میں جانے کی اجازت نہیں دیتا،آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد 300سے زیادہ  کشمیری مارے جا چکے ہیں،یو این ایچ آر کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی حاصل کر کے حقائق کا پتہ لگانا چاہئیے،برطانیہ کو فریڈم کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئیے،

لیبر پارٹی کےسٹیفین کنوک نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسس کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 144کشمیری بچوں کو حراست میں لیا،یو این کی رپورٹ کے مطابق بچوں کی حراست کے حوالے سے کسی قسم کی تحقیقات نہیں کی گئیں،کشمیر چیمبر آف کامرس کے مطابق آرٹیکل 370کی منسوخی کے پہلے 3ماہ میں 204ارب ڈالر کا نقصان ہوا،مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادی پامال کی جا رہی ہے،برطانوی حکومت کو بین الاقومی مبصرین کی مقبوضہ علاقے تک رسائی کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر سب سے پرانا حل طلب مسئلہ ہے،گذشتہ 30برس سے 95ہزار سے زیادہ کشمیریوں کو قتل کیا جا چکا ہے،مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مانتے ہیں جبکہ ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی  کے رکن برطانوی پالیمنٹ  جم  شینن  کا کہنا تھا کہ حق خودارادیت انسانوں کا بنیادی حق ہے،ہمارے وزیروں کو بھارتی وزرا کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھانا چاہئیے۔