فوجی حکمران بمقابل جمہوری حکمران؟

322

جمہوریت کے حوالے سے ہمیں گہرائی سے تجزیہ کرنا چاہیے تا کہ قوم کی رہنمائی کرسکیں۔ فوجی جنرلوں اور سیاسی حکمرانوں کا بے رحمانہ سیاسی تجزیہ وقت کی ضرورت ہے۔ آج کی نوجوان نسل ماضی کی اس تاریخ سے اتنی باخبر نہیں ہے جتنی ہونی چاہیے۔ ہم اس کا آغاز 1957ء سے کرتے ہیں جب سیاسی حکومتیں اپنی مخالف قوتوں کے خلاف سازشوں میں مصروف تھیں۔ وزراء اعظم کی اُکھاڑ پچھاڑ کا دور تھا صدر با اختیار تھا، یہ عجیب حکومت تھی، نہ مکمل صدارتی نظام تھا اور نہ بلدیاتی نظام تھا پس پردہ خطرناک سازشیں متحرک تھیں۔ یہ کھیل جنرل اسکندر مرزا کے دور میں عروج پر تھا، وزیراعظم کی حیثیت ایک کٹھ پتلی کی سی رہ گئی تھی۔ اسکندر مرزا کے ہاتھ میں تاش کے تمام پتے تھے، ایک وزیراعظم آرہا تھا تو دوسرا جارہا تھا۔ یہ کھیل اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب اسکندر مرزا نے وزیراعظم سہروردی کو فارغ کیا اور اُنہیں جیل بھیجا دیا، بعد میں اُنہیں بیروت کا راستہ دکھایا گیا وہ بیروت کی ایک ہوٹل میں مردہ پائے گئے، اُن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور تحریک پاکستان میں بہت سرگرم تھے۔ پاکستان اور جمہوریت سے محبت کا انجام بڑا عبرت ناک تھا۔ حسین شہید سہروردی نے بیروت میں یادداشت لکھی جو بڑی دلچسپ اور عبرت ناک ہے۔ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا نتیجہ جنرل ایوب خان کے مارشل لا کی صورت میں نکلا اور جو تھوڑی بہت جمہوریت تھی اس کا خاتمہ ہوگیا۔ فوجی جنرلوں کے دور حکومت کا تجزیہ اس حوالے سے کرنا مطلوب ہے تاکہ ہم جمہوریت کے حقیقی خدوخال کو سمجھ سکیں۔ جنرل ایوب خان نے اپنی مرضی کا انتخابی طریقہ ایجاد کیا۔ بی ڈی کے ذریعے صدارتی انتخاب کرایا۔ اس کی حکومت کا ایک پہلو قابل تعریف ضرور ہے کہ جنرل ایوب خان نے عوامی مسائل کے لیے لوکل سطح پر ارکان کے انتخاب کا فیصلہ کیا اور اس کا ایک چیئرمین بھی منتخب کیا گیا۔ ایوب خان نے 1962ء کا دستور تشکیل دیا اور مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) اور مشرقی پاکستان میں انتخاب کرایا۔ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کی تمام مذہبی جماعتوں، سیکولر پارٹیوں اور قوم پرست پارٹیوں نے ایوب خان کے تشکیل کردہ دستور کے تحت قومی اور صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑا۔ نواب خیر بخش مری قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، سردار عطا اللہ مینگل مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بلوچستان سے باقی بلوچ سیاسی اُفق پر طاقتور شخصیت کے طور پر اُبھرے تھے اور ان کا کردار قوم پرست لیڈروں سے زیادہ جاندار تھا۔ میر غوث بخش بزنجو نے ضمنی انتخاب لڑا اور وہ کامیاب ہوگئے۔ کراچی کے کروڑ پتی تاجر ہارون خاندان نے سپورٹ کیا۔ ایوب خان نے حبیب اللہ خان کی حمایت کی۔ اس دور میں گورنر مغربی پاکستان نواب کالا باغ اور ایوب خان میں سیاسی چپقلش شروع ہوگئی تھی۔ گورنر کالا باغ کے کہنے پر ہارون فیملی نے میر غوث بخش بزنجو کی حمایت کی اور وہ جیت گئے۔ یہ ایوب خان کے زوال کا آغاز تھا۔ اب ایک سرمایہ دار کی حمایت سے غوث بخش بزنجو قومی اسمبلی میں پہنچ گئے۔ ایک فوجی جنرل نے عوام کو بنیادی حقوق ضرور دیے اور بنیادی طور پر لوکل باڈی کے انتخابات کے ذریعے یہ حقوق دیے گئے۔ اب غور کریں تو عجیب لگے گا کہ ملک کی تمام دائیں بازو اور بائیں بازو کی پارٹیوں نے فوجی جنرل کی سیاسی قیادت کو قبول کیا اور انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ایوب خان کے خلاف 1968ء اور 1969ء میں ایک زبردست سیاسی بحران کھڑا ہوگیا اور اس کی بنیادی وجہ صدارتی انتخاب تھا جس میں قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح نے ایوب خان کو چیلنج کیا۔ مولانا مفتی محمود نے ایوب خان کی حمایت میں ایک فتویٰ جاری کیا کہ سیاست میں خاتون کا حصہ لینا حرام ہے اور عورت کی حکمرانی ناجائز ہے۔ جماعت اسلامی نے ایوب خان کے خلاف فاطمہ جناح کی حمایت کی۔
ایوب خان کے بعد جنرل یحییٰ خان نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا اس کا سب سے بڑا ’’کارنامہ‘‘ ون یونٹ کا خاتمہ تھا اور یوں تاریخ میں پہلی بار بلوچستان کا صوبہ وجود میں آگیا۔ 1970ء کے انتخابات کے نتیجے میں پنجاب نے تسلیم نہیں کیا اور مجیب الرحمن کو اقتدار نہیں دیا اور نہ اس کی عددی برتری کو جو قومی اسمبلی میں حاصل ہوگئی تھی کو تسلیم کیا۔ ملک کو تقسیم کرنا پسند تھا لیکن مشرقی پاکستان کو اقتدار دینا قبول نہ تھا۔ لیکن آج پنجاب کو اپنی آبادی کی برتری کا خمار چڑھا ہوا۔ ہے آج آبادی کی برتری کے ہر پہلو کو چھوٹے صوبوں کے خلاف استعمال کرتا ہے۔
جنرل یحییٰ خان کے بعد جنرل ضیا الحق نے بھٹو کا تختہ اُلٹ دیا اور اقتدار پر قبضہ کرلیا، اس نے بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرائے اور نچلی سطح پر لوکل باڈی کے انتخابات کرائے۔ ان کے بعد جنرل مشرف نے نواز حکومت کا تختہ اُلٹ دیا، انتخابات کرائے اور مذہبی پارٹیوں نے اس کی ترمیم کو وردی سمیت قبول کرلیا۔ جنرل مشرف کے دور میں مولانا شیرانی اور مولانا فضل الرحمن جنرل مشرف کے بہت قریب چلے گئے۔ جمعیت علما اسلام کی قربت فوجی جنرل سے بہت بڑھ گئی تھی اور جماعت اسلامی مختلف سمت میں کھڑی ہوگئی۔ ایم ایم اے کا خاتمہ ہوگیا۔ قاضی صاحب مرحوم علٰیحدہ ہوگئے۔ جنرل مشرف نے لوکل باڈیز کو اتنا طاقتور کردیا تھا کہ بعض ارکان قومی اسمبلی نے استعفا دے دیا اور چیئرمین بن گئے۔ مالی اور انتظامی اختیارات بہت زیادہ تھے۔ افسر شاہی نے اس کھیل کو قبول نہیں کیا۔ جمعیت علما اور جماعت اسلامی کا تلخ ترین اختلاف صرف ایک نکتہ پر آکر ٹھیر گیا تھا۔ پاکستان کی تینوں صوبائی اسمبلیوں کو آئینی پہلو سے جنرل مشرف کو صدر بننے کا اختیار دے دیا تھا۔ صرف صوبہ سرحد کی اسمبلی رہ گئی تھی، آئینی طور پر چاروں صوبائی اسمبلیوں سے تائید ضروری تھی ورنہ وہ صدر نہیں بن سکتا تھا۔ قاضی حسین احمد نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی اور کہا کہ صوبہ سرحد کے اسپیکر سے کہیں کہ وہ صوبائی اسمبلی توڑ دیں یوں جنرل مشرف دستوری لحاظ سے صدر نہیں بن سکیں گے۔ لیکن جمعیت علما اسلام درپردہ جنرل مشرف سے ملی ہوئی تھی اس لیے اسپیکر نے صوبائی اسمبلی نہیں توڑی، یوں قاضی صاحب نے ایم ایم اے سے علٰیحدگی اختیار کرلی اور جنرل مشرف جمعیت علما اسلام کی حمایت کی بدولت صدر پاکستان بن گئے۔
فوجی جنرلوں نے اختیارات ہمیشہ نچلی سطح پر عوام کو دیے لیکن بدقسمتی سے جب بھی سیاسی حکمران اقتدار میں آئے انہوں نے ان حقوق کو ہمیشہ پامال کیا ہے۔ اب عمران خان نے ڈھائی سال گزار دیے ہیں لیکن بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریزاں ہیں۔ یہ عجیب پہلو ہے کہ جنرلوں نے اختیارات دیے ہیں اور سیاسی پارٹیوں نے عوام کو ان حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے۔
ہمیں اس پہلو پر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہیے کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے اور عوام کو بنیادی حقوق سے کیوں محروم کیا جاتا ہے؟ اور اب سیاست میں ایک پہلو کسی بھی لحاظ سے جمہوری نہیں ہے اور وہ یہ کہ اب سیاست میں بادشاہت طرز کی راہ اختیار کرلی گئی ہے، بادشاہ کے بعد اس کا بیٹا، پوتا، نواسہ، نواسی کو اقتدار منتقل ہوتا رہا ہے، اب یہ طرزِ بادشاہت، سیاسی اور مذہبی پارٹیوں نے اختیار کرلیا ہے۔ باپ کے بعد اس کا بیٹا، بیٹی، پوتی، پوتا، نواسہ سیاست کے بادشاہ گر ہوں گے، صرف جماعت اسلامی اس سے بچی ہوئی ہے۔