ٹرمپ کے حامی واشنگٹن پہنچ گئے، حالات کشیدہ، فوج طلب

295

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں ڈیمو کریٹک نومنتخب صدر بائیڈن کے خلاف ٹرمپ کے حامی تشدد پر اترآئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالتی اور عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد ٹرمپ کے چاہنے والوں نے اب احتجاج کا راستہ چن لیا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں پُرتشدد ریلیوں کے پیش نظر وائٹ ہاؤس کے اطراف اور نیشنل مال کے آس پاس کی سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ میٹرو اسٹیشن کے اطراف میں پولیس اور ان کے ساتھ نیشنل گارڈز بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی کی میئر نے اپنے خصوصی بیان میں شہریوں سے اپیل کہ وہ احتجاجی مظاہروں سے دور رہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق کانگریس میں صدارتی انتخابات کے لیے ڈالے گئے الیکٹورل ووٹوں کی گنتی اور بائیڈن کی کامیابی کے اعلان کے موقع پر مظاہروں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں پراؤڈ بوائزنامی تنظیم سرگرم ہے اور شہر کے باہر سے ٹرمپ کے حامیوں نے مظاہرے میں شرکت کے لیے پہنچنا شروع کردیا ہے۔ میئر موریل باؤزر اور قائم مقام پولیس چیف رابرٹ کونٹی نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ وہ اپنے ساتھ کسی قسم کا اسلحہ لے کر نہ آئیں۔ کسی بھی شخص کو شہر میں تشدد یا شہریوں کو خوف زدہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مقامی میڈیا کے مطابق منگل کی شب اسلحہ و آتش گیر مواد رکھنے اور پولیس پر حملے کے الزام میں 6افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ میئر نے اپنے بیان میں کہا کہ نیشنل گارڈ زکو اس خدشے کے تحت طلب کر لیا ہے تاکہ مظاہرین کے درمیان گزشتہ مظاہروں کی طرح جھڑپیں نہ پھوٹ پڑیں۔ اس سے قبل گزشتہ برس دسمبر میں صدر کے حامیوں اور جوابی مظاہرہ کرنے والوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران 4افراد چاقو کے وار سے زخمی ہو گئے تھے۔ واضح رہے کہ پراؤڈ بوائز نامی گروہ کو نفرت پھیلانے والے کے نام سے جاناجاتا ہے۔ گروہ کا سربراہ ہنری انریک ٹاریو املاک کو نقصان پہنچانے اور بلیک لائیوز میٹر کے جھنڈے کو نذرآتش کرنے کے الزام کے تحت زیر حراست ہے۔ یہ جھنڈا گزشتہ ماہ واشنگٹن میں ایک احتجاج کے دوران سیاہ فاموں کے تاریخی چرچ سے اتار کر جلایا گیاتھا۔ ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الیکٹورل کالج کی جانب سے 14دسمبر کو جو بائیڈن کے باضابطہ انتخاب کے بعد یہ حتمی کارروائی ہو گی۔ کانگریس میں ٹرمپ کے 100 سے زیادہ حامی بائیڈن کی توثیق کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے منگل کے روز ڈیموکریٹس کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ بطور رکن کانگریس ہم پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اصول کی پاسداری کریں کہ عوام خود مختار ہیں اور وہ اپنے ووٹوں کے ذریعے رہنما چننے کا اختیار رکھتے ہیں۔