استعفوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی ذہنی طور پر تیار نہیں، شاہ محمود

186

اسلام آباد: وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہناہےکہ 31جنوری گزر جائے گا لیکن عمران خان وزیراعظم ہی رہیں گے جبکہ پیپلزپارٹی نے استعفے نہ دینے اور سینیٹ انتخابات سے لاتعلق نہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے، لانگ مارچ اور استعفوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی ذہنی، سیاسی طور پر تیار نہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں استعفوں پر اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے اور اندر کی کہانی یہ ہےکہ پی پی ارکانِ اسمبلی کی بڑی تعداد استعفوں کے خلاف ہے۔

اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن دی تھی اور 31 دسمبر کی تاریخ گزر گئی جبکہ استعفے نہیں آئے اور پی ڈی ایم نے اب 31 جنوری کی تاریخ دی ہے اور وہ بھی گزر جائے گی۔

مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے آج کے اجلاس میں بھی کچھ نہیں ہو گا، اندر کی کہانی ہے کہ پی پی ارکانِ اسمبلی کی بڑی تعداد استعفوں کے خلاف ہے جبکہ 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں اہم اجلاس تھا  اور مریم نواز گڑھی خدا بخش گئی تھیں، بلاول جاتی امراء کیوں جا رہے ہیں؟

وزیرٍِ خارجہ کا کہناتھا کہ اجلاس میں زرداری صاحب نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، ویڈیو لنک اور اجلاس میں شرکت زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، زرداری نے اجلاس میں ان لوگوں کو بھیجا جو بااختیار نہیں ہیں، پیپلز پارٹی سندھ حکومت سے استعفے دینے کے لیے تیار نہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی پی نے اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ استعفے نہیں دے گی، پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ضمنی الیکشن میں حصہ لے گی، پیپلز پارٹی میں فیصلہ کرنے کا اختیار آصف زرداری کے پاس ہے، ہم سیاسی عمل کے قائل ہیں، کس چیز پر بات کرنا چاہتے ہیں، ایجنڈا سامنے اور این آر او کو ایک طرف رکھیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کرک میں واقعہ رونما ہوا اور مندر کو نقصان پہنچایا گیا، اس کا صدمہ ہے اور ہم اس بات کی شدید مذمت بھی کرتے ہیں جبکہ وزیرِاعظم عمران خان نے بھی اس واقعے پر صدمے کا اظہار کیا ہے اور جن لوگوں نے یہ کیا ہے انہوں نے انتہائی غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہناتھا کہ یہ قانون کے خلاف اور مذہبی اقدار کے برعکس ہے، اس طرح کے عمل سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے، مندروں، گوردواروں اور گرجا گھروں کا احترام مذہبی اقدار کا عکاس ہے اور 4 جنوری کو اس واقعے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ قوم پی ڈی ایم کی حقیقت جان چکی ہے، اسے مسترد کر چکے ہیں، اپوزیشن سے ملنا محمد علی درانی کی پارٹی کا فیصلہ ہے، وہ تحریکِ انصاف کا حصہ نہیں، پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں ذہنی ہم آہنگی نہیں، یہ فطری اتحاد نہیں، قوم کے ساتھ مذاق نہ کریں، سنجیدہ ہیں تو سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ اپوزیشن نے کرنا ہے، این آر او پر عمران خان کی سوچ بڑی واضح ہے، این آر او احتساب کے عمل سے بچنے کا راستہ ہے، اپوزیشن کی یہ خواہش ایف اے ٹی ایف قانون سازی کے دوران بے نقاب ہوئی، ایف اے ٹی ایف قانون میں 34 شقوں میں ترمیم کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم احتساب کے عمل کے قائل ہیں، احتساب اور انتقام میں فرق ہے، ہم انتقام کے قائل تھے اور نہ ہیں، جے یو آئی کی صفوں میں بھی سب اچھا نہیں ہے، مولانا جو راستہ اختیار کرنے جا رہے ہیں اس پر ان کی پوری جماعت متفق نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ نمائندہ اسرائیل بھیجنے کا ایک غبارہ چھوڑا گیا تھا، جس کی اسرائیل نے خود تردید کی، فلسطین کے معاملے پر قوم کا جذباتی لگاؤ ہے، بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کا مسئلہ فلسطین پر مؤقف ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، حیران ہوتا ہوں جب سنتا ہوں کہ اسرائیل نامنظور ریلی نکالی جائے گی، نامنظور ریلی تو تب ہوگی جب اسرائیل منظور ہو گا۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت کو قائم رکھنے کے لیے ضرورت ایک مرتبہ پھر راہیں جدا کر رہی ہے، مشرف دور میں این آر او دینے کے الگ عوامل تھے، پی ٹی آئی کا مؤقف ہےکہ احتساب سب کا ہونا چاہیئے۔