افغان حکومت اورطالبان میں امن مذاکرات کے لیے ابتدائی معاہدہ ہوگیا

122

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے ابتدائی معاہدہ طے پاگیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کیمطابق فریقین نے اس ابتدائی معاہدے کو اہم پیش رفت قرار دیا ہے جب کہ اقوام متحدہ، امریکا اور پاکستان کی جانب سےبھی اس کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔اس ابتدائی معاہدے میں اگرچہ امن مذاکرات کے لیے لائحہ عمل طے کیا گیا ہے تاہم اسے بڑی پیش رفت قرار دینے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس کے بعد مذاکرات کار جنگ بندی سمیت کئی اہم امور پر بات چیت کا آغاز کرسکیں گے۔افغان حکومت کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کے رکن نادر نادری کا کہنا ہے کہ اس دستاویز میں مذاکرات کا ابتدائی مرحلہ طے کرلیا گیا ہے اور اس کے بعد سے گفت شنید کا ایجنڈا اسی کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔ طالبان ترجمان نے بھی ٹوئٹر پر معاہدے کی تصدیق کردی ہے۔واضح رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین یہ پیش رفت قطر میں امریکا کے ساتھ طالبان کا معاہدہ طے پانے کے کئی ماہ بعد ہوئی ہے۔ دوسری جانب اس دوران میں طالبان کے افغان حکومت کے خلاف حملے جاری رہے ہیں۔امریکا کے خصوصی نمائندہ برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تین صفحات پر مبنی اس معاہدے میں سیاسی روڈ میپ کی تیاری اور جامع جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے قواعدوضوابط اور لائحہ عمل کا تعین کرلیا گیا ہے۔طالبان نے ابتدائی طور پر مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے تک جنگ بندی سے انکار کردیا تھا تاہم خلیل زاد کے مطابق افغان حکومت کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے میں فریقین مشکل امور پر بات کرنے کے لیے آمادہ ہوگئے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان دوحہ میں مختلف افغان فریقین کے مابین رولز اینڈ پروسیجرز کے حوالے سے معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کرتا ہے۔زاہد حفیظ چودھری کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اس معاہدے سے فریقین کے بات چیت کے ذریعے حل کی تلاش کے عزم کی عکاسی ہوئی ہے۔ معاہدہ ایک کامیاب اور نتیجہ خیز بین الافغان مزاکرات کی جانب اہم پیش رفت ہے جس کے لیے ہم پرامید ہیں۔ پاکستان بین الافغان مزاکرات کی حمایت جاری رکھے گا۔