وزیر اعظم صرف آپ کے پلاٹ کا معاملہ ہی نہیں

205

وزیراعظم عمران خان نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ وزیراعظم کی حیثیت سے ان کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ ’’قبضہ مافیا،، سے اپنے بہنوئی کا پلاٹ خالی نہیں کرا سکے یہی وجہ تھی کہ موجودہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو مقرر کیا گیا تھا وہ گزشتہ دو سال سے پنجاب حکومت سے کہہ رہے ہیں لیکن پلاٹ پر قبضہ مافیا کا غیر قانونی قبضہ خالی نہیں کرا سکے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم نے خود ایک عوامی مجلس یہ بات بتائی کہ ٹی وی دیکھتے ہوئے جب مار پیٹ کا کوئی سین سامنے آیا تو اپنی اہلیہ سے کہا کہ دیکھو کتنا ظلم ہورہا ہے تو اہلیہ محترمہ نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم تو آپ خود ہیں۔ وزیراعظم جس پلاٹ کی بات کر رہے ہیں وہ کسی عام بے بس شہری کا نہیں ہے بلکہ ان کے بہنوئی عبدالاحد خان کی ملکیت ہے مگر عدالتی حکم امتناع کی وجہ سے معاملہ لٹکا ہوا ہے، یہ پی آئی اے سوسائٹی میں 1984ء میں خریدا تھا لیکن 2008ء میں ان کے انتقال کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ پلاٹ پر قبضہ مافیا نے قبضہ کرلیا ہے اور مختلف عدالتوں سے اپنے حق میں حکم امتناع لے لیا ہے۔
جناب وزیر اعظم: ملک میں یہ کوئی پہلا پلاٹ نہیں ہے کہ جس پر قبضہ مافیا نے قبضہ کرلیا ہو، ملک میں ایسے لاکھوں پلاٹ ہیں، جن کی یہی کہانی ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد جعلی اسٹامپ پیپرز پر مافیا عدالت چلا جاتا ہے اور وہاں سے اسے حکم امتناعی مل جاتا ہے، بس پھر وارث مارے مارے پھرتے ہیں، کئی مالک تو ایسے بھی ہوں گے کہ انہیں علم بھی نہیں ہوگا کہ ان کے پلاٹ کے کاغذات کوئی دوسرا فریق بنائے بیٹھا ہوگا، سی ڈی اے میں تو یہی کچھ ہورہا ہے اور ایسی کہانیاں لاہور ایل ڈی اے، ایکسائز ڈیپارٹمنٹ سے لے کر سی ڈی اے اور سی ڈی اے سے لے کر ایف ڈی اے حتی کہ اس کہانی کے سایے کے ڈی اے تک پھیلے ہوئے ہیں، کبھی کوئی حکومت ان اداروں کے ملازمین کے اثاثے تو کھنگالے کہ یہ لوگ کہاں کہاں اپنی جائداد بنائے بیٹھے ہیں، ایل ڈی اے اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ لاہور کے کتنے ملازمین ہیں کہ جو عدالتوں میں ایسے پلاٹوں پر اپنے حق میں حکم امتناعی لیے بیٹھے ہیں، ذرا معلوم کیجیے، مگر اس میں بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ اب جب کہ بات کھل گئی ہے اور یہی مافیا بے نامی جائداد بنانے کی طرف نکل جائے گا۔
یہ رجحان ملک میں بڑھ رہا ہے، قبضہ مافیا آکاس بیل کی طرح ہمیں چمٹ گیا ہے ان کے مکروہ دھندے کی وجہ سے ملک کے تمام حصوں میں لاکھوں پاکستانی متاثر ہو رہے ہیں ایسے مقدمات میں برسوں مقدمہ بازی چلتی رہتی ہے، سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ طے کرچکی ہے کہ اسٹامپ پیپرز کے ذریعے حق جتانے کی ایک متعین مدت ہے، مگر یہاں کیا ہورہا ہے کہ مافیا تیس تیس سال پرانا اسٹامپ لے کر پھر رہا کہ اور ایسے پلاٹوں پر اپنی ملکیت جتاتا ہے، اکثریت کا خیال ہے کہ لاہور میں پولیس، ہائوسنگ سوسائٹی کا مافیا، انتظامیہ اور ایل ڈی اے سب مافیا کے لیے کام کر رہے ہیں ایسے تمام پلاٹوں کا ہال یہ ہے کہ قانونی مالک ہونے کے باوجود کوئی مالک اپنا پلاٹ استعمال کر سکتا ہے اور نہ ہی فروخت کر سکتا ہے، ہائوسنگ سوسائٹی اور قبضہ گروپ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ایک دوسرے کے لیے آکسیجن ہیں اور ریونیو ڈپارٹمنٹ بھی جڑوں تک کرپٹ ہے۔ وزیر اعظم کے اپنے عزیز کے کیس میں بھی تو یہی کچھ ہوا حتی کہ پولیس بھی کارروائی سے گریزاں تھی لیکن وزیراعظم کی مداخلت کی وجہ سے عدالتی حکم امتناع کے ختم ہونے کی وجہ سے پولیس متحرک
ہوئی، جناب احد خان نے تو پلاٹ کا قبضہ ملنے کے بعد پہلا کام یہی کیا کہ چار دیواری تعمیر کرا دی لیکن دو دن بعد ہی انہیں پتا چلا کہ سول کورٹ نے ’’قبضہ مافیا‘‘ کے حق میں ایک اور اسٹے آرڈر جاری کر دیا ہے ریونیو ڈپارٹمنٹ میں زمین کی ’’انتقال‘‘ (میوٹیشن) سوسائٹی اور قبضہ مافیا کے نام پر ہے، ان کے پلاٹ پر تو چار دیواری نہیں تھی، مگر ٹائون شپ کے علاوہ لاہور اور دیگر جگہ پر ایسے بے شمار اور بہت سے پلاٹ بھی مافیا کے قبضے میں ہیں جہاں اصل مالک نے چار دیواری تعمیر کرائی اور گیٹ لگوایا، اپنے نام کا بجلی اور گیس کا میٹر لگوایا تھی اس کے باوجود مافیا کے مکروہ دھندے سے محفوظ نہیں، وزیراعظم عمران خان کے بہنوئی جس مصیبت میں مبتلا ہیں اس میں وہ تمام لاکھوں پاکستانی مبتلا ہیں جنہیں ان کی زمین جائداد سے عدالتی حکم امتناع کی وجہ سے اور روینیو ڈپارٹمنٹ اور پولیس کی کرپشن کی وجہ سے محروم کر دیا گیا ہے اب ہوگا کیا؟ یہ مسئلہ پولیس کے ذریعے نہیں بلکہ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے سے حل ہوگا ریونیو ڈپارٹمنٹ کرپٹ ہے یہی کرپشن قبضہ مافیا کی طاقت ہے حکم امتناع مل جانا سونے پہ سہاگہ ہے حکم امتناع برسوں تک چلتا رہتا ہے اور جب یہ ختم ہوتا ہے تو نیا اسٹے آرڈر لے لیا جاتا ہے اگر حکومت واقعی ان مسائل کے حل کے لیے آگے بڑھے تو لاکھوں پاکستانیوں کو ریلیف مل سکتا ہے۔