ایران نے نطنز میں بھی یورینیم کی افزودگی شروع کردی

67

تہران ؍ واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے اپنے ایک زیر زمین جوہری مرکز میں نصب سینٹری فیوجز پرکام شروع کر دیا ہے، تاہم جوہری پیش رفت پر نظر رکھنے والے اس ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے باوجود وہاں افزودگی کی مجموعی صلاحیت میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ہے۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں پریس بریفنگ کے دوران عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ جنرل رافیل گروسی نے بتایا کہ 174 سینٹری فوجز کو ایران کی جوہری تنصیب نطنز منتقل کیا گیا ہے اور حال ہی میں ان پر یورینم کی افزودگی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ یہ عمل اُس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جو ایران نے 2015ء میں عالمی طاقتوں کے ساتھ کیا تھا۔گروسی کا کہنا تھا کہ ایران پہلے ہی معاہدے کے تحت مقرر کردہ افزودہ یورینم کی حد کو کافی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔تفتیش کاروں کی جانب سے ایران سے وضاحت بھی مانگی گئی، لیکن اس کا جواب تسلی بخش نہیں تھا۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف مزید پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے زیر انتظام بنیاد مستضعفان فاؤنڈیشن کو بھی بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق گزشتہ برس ایرانی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے دوران مظاہرین پر کریک ڈاون اور حقوق کی پامالیوں کی وجہ سے وزیر انٹیلی جنس محمود علوی اور دیگر سینئر عہدیدار بھی پابندیوں کی زد میں آئے ہیں۔ حکام کے مطابق حالیہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی مہم کا حصہ ہے۔ تازہ پابندیوں میں 10 افراد سمیت توانائی، کان کنی اور مالیاتی خدمات کے شعبوں سے وابستہ فاؤنڈیشن کے ذیلی اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے تحت ان کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں اور کوئی امریکی ان کے ساتھ تجارت نہیں کر سکے گا۔