ایاز صادق کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی درخواست تھانے میں جمع

255

بھارتی پائلٹ ابھی نندن سے متعلق بیان دینے پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی گئی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق لاہور کے ایک شہری فرقان احمد نے سول لائنز تھانے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق کے حالیہ بیان کے خلاف درخواست دے دی۔

درخواست میں شہری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں ملکی سالمیت اور پاک فوج کے خلاف بیان دیا۔ شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس ایاز صادق کے خلاف قانونی کارروائی کرے اور مقدمے کا اندراج کرے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق تھانہ سول لائنز نے شہری کی درخواست کے کر قانونی رائے کے لیے ایس پی لیگل کے پاس بھیجوا دیا ہے۔ جب ایس پی لیگل درخواست واپس تھانے بھیجیں گے تو ایاز صادق کے خلاف مقدمے کی کارروائی کی جائے گی۔

ایاز صادق کا ابھی نندن سے متعلق بیان

ایاز صادق نے 28 اکتوبر کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے گھٹنے ٹیک کر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو واپس بھارت بھیجا۔ میٹنگ میں وزیراعظم نے آنے سے انکار کردیا تھا مگر آرمی چیف اس میں شریک تھے، پسینے میں شرابور وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا کہ خدا کے واسطے ابھی نندن کو واپس جانے دیں، آج رات 9 بجے بھارت حملہ کررہا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے بھی حکومت پر بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کی رہائی کے لیے سہولت کاری کرنے کا الزام لگایا تھا۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا تھا کہ حکومت ابھی نندن کی طرح کلبھوشن کو بھی باعزت، بری اور رہا کر کے بھارت بھیجے گی اور اسی مقصد کیلیے قانون سازی بھی کی جارہی ہے۔

دوسری جانب وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق کے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی سے متعلق بیان کو حقیقت کے برعکس قرار دے دیا۔ اپنے ردعمل میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایاز صادق سے ایسی بات کی توقع نہیں کرتا، انہوں نے جو مؤقف بیان کیا وہ حقیقت کے برعکس ہے، انٹیلی جنس معلومات پر پارلیمان کواعتماد میں لیا تھا جس میں ابھی نندن کا ذکر نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصدکیلیے ایسی غیرذمہ دارانہ گفتگو کی جارہی ہے، ذمہ دار لوگ غیر ذمہ دارانہ گفتگو کررہے ہیں جس پر حیرانی ہے، اپوزیشن عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کا فیصلہ پڑھ لے اور پاکستان کامؤقف بھی پڑھ لیا جائے، یہ لوگ کلبھوشن اور ابھی نندن کے معاملے پر قوم کو گمراہ کررہے ہیں۔