پاکستان نے سزا مکمل کرنے والے 5بھارتی جاسوس رہا کردیے

43

اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان نے سزا پوری کرنے والے 5 بھارتی جاسوسوں کو رہا کرکے واپس بھارت بھیج دیا۔ بھارتی ہائی کمیشن نے فوجی عدالت سے سزا پانے والے اپنے مجرمان کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں موقف پیش کیا گیا تھا کہ لاہور جیل میں قید 3 بھارتی مجرم اور کراچی جیل کے ایک مجرم کو پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گرد کارروائیوں پر سزا ہوئی، جیل میں موجود بھارتی قیدی اپنی سزا پوری کر چکے، قانونی طور پر ایسی کوئی وجہ نہیں کہ وہ جیل میں قید رہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں8بھارتی شہریوں کی رہائی کی لیے دائر درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کی، وزارت داخلہ کی جانب سے رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی، ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے عدالت کو بتایا کہ 5 بھارتی قیدیوں کو سزا مکمل ہونے پر 26 اکتوبر 2020 کو رہا کردیا گیا۔بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ مزید 3 شہری بھی سزا پوری کرنے کے باوجود جیل میں ہیں، ایک بھارتی شہری سزا پوری کرنے کے باوجود واپس نہیں جانا چاہتا تھا لیکن اسے ڈی پورٹ کردیا گیا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے جواب دیا کہ بھارت کے 3 مزید قیدیوں کی حد تک ہدایات لے کر بتاتا ہوں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ جب سزا مکمل ہو گئی تو آپ کیسے ان کو مزید رکھ سکتے ہیں؟۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے جواب دیا کہ کچھ قیدیوں کا معاملہ ریویو بورڈ کے پاس ہے۔ عدالت نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جب سزا مکمل ہوگئی تو ریویو بورڈ درمیان میں کہاں سے آگیا؟ اگر انہوں نے سزا مکمل کر لی ہے تو ان کو واپس بھیج دیں۔عدالت نے 4بھارتی شہریوں کو رہا کرنے سے متعلق ایک درخواست نمٹا دی، کیس کی مزید سماعت 5 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔