’’اقتدار کی سیاست‘‘ کی پھر وہی ’’تاریخی جدوجہد‘‘

285

’’اقتدار کی سیاست‘‘ کی ’’تاریخی جدوجہد‘‘ ایک بار پھر جاری ہے۔ قوم زور وشور سے اس میں حصہ ڈال رہی ہے اس بات سے بے پروا کہ ان کے ہاتھ کچھ نہیں آنا۔ عوام بھی کہاں جائیں، اس نظام میں ان کے پاس کچھ نہیں سوائے ان زبردست اداکاروں کے۔ ایک طرف وزیراعظم عمران خان کی نااہل اور نالائق حکومت ہے اور دوسری طرف اتفاق فونڈری اور پی پی کی شکل میں سابق مسٹر ٹین پرسنٹ کی سیاسی اجارہ داری۔ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے اتحاد نے ظلم یہ کیا کہ ان لوگوں کو ایک مرتبہ پھر عوام کی آنکھ کا تارا بنا دیا ہے۔
واقعات کی چلت پھرت میں اضافہ ہورہا ہے جو تندوتیز تبدیلیوں کو جنم دے سکتا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کی مثال اس جاندار کی سی ہے جو تیز رفتار ٹریفک میں سڑک کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔ اس خطرے سے بے نیاز کہ اس کے ساتھ کوئی بھی حادثہ ہوسکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے وہ محض نوازشریف سے انتقام لینے کے لیے اقتدار میں آئے ہیں اور اس ’’مقدس مشن‘‘ کی قیمت غریبوںسے ادا کروانا چاہتے ہیں۔ ان غریبوں سے جن کے کاندھے ان کے ڈھائی تین سالہ اقتدار میں مزید ناتواں ہوگئے ہیں۔ غرباء، ضعیف، بیمار، بے روزگار، محنت کش اور درمیانہ طبقہ، ہولناک مہنگائی نے جن کی ہر سکت چھین لی ہے۔ تیز تر مہنگائی نے جن کے اوسان خطا کردیے ہیں۔ وزیراعظم کی ذہنی اور اخلاقی حالت تباہ ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ عوام کو تباہی کے دہانے پر لے جاکر دھکا دے رہے ہیں۔
پی ڈی ایم کی تحریک آسمان سے نہیں گری۔ یہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے اس اتحاد کا نتیجہ ہے جو زندگی کا ہر تانا بانا بکھیرنے اور ہر شخص کی زندگی جہنم بنانے پر تلا ہوا ہے۔ یہ اتحاد آج ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک عوام کو احتجاج کی طرف دھکیل رہا ہے۔ نواز شریف کی وہ تقریر جس کا بیانیہ ایک دیو ہیکل قوت بنتا جارہا ہے محض بھاپ ثابت ہوتا اگر عمران خان بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قیادت کا بحران پیدا نہ کرتے، غریب سے روٹی نہ چھینتے۔ ایک فرینڈلی انٹرویو میں ان کا یہ کہنا کہ آئی جی سندھ کے اغوا کا سن کر ہنسی آتی ہے اس بات کا غماز ہے کہ وہ حقائق کے ساتھ زیادہ دیرتک نہیں چل سکتے یا پھر وہ حکومت کر ہی نہیں رہے، وہ محض فوج کے شو بوائے ہیں۔ جو حکومت کررہے ہیں انہوں نے اس واقعے کا نوٹس بھی لیا، بلاول کو فون بھی کیا اور انکوائری کا حکم بھی دیا۔
ہر بات کے جواب میں وزیراعظم کا یہ راگ کہ نواز شریف کو نہیں چھوڑوں گا ان کی بے بسی کا اظہار ہے۔ ہر دن ان کی ایک نئی لاف وگزاف سے شروع ہوتا ہے۔ تازہ ہرزہ سرائی انہوں نے یہ کی ہے کہ ’’نواز شریف کی واپسی کے لیے مجھے برطانیہ جانا پڑا تو جائوں گا اور برطانوی وزیراعظم سے بات کروں گا‘‘۔ کیا یہ بیان کوئی ایسا شخص دے سکتا ہے جس کا دعویٰ ہو کہ میں نے زندگی یورپ میں گزاری ہے اور میں وہاں کے نظام کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ عمران خان تو کیا پورا پاکستان بھی بورس جانسن کے پائوں پکڑلے تب بھی ایسا ممکن نہیں۔ یہ بورس جانسن کے دائرہ کار سے باہر برطانوی عدالتوں کا اختیار ہے جو نیب عدالتیں نہیں کہ وزیراعظم کے دبائو میں آجائیں یا بلیک میل ہوکر فیصلے دیں۔
تحریک انصاف کے ساتھ شراکت اقتدار سے اسٹیبلشمنٹ کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ایک صفحے پر ہونے کے بیانات نے انہیں شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عمران خان کا ہر پتا اسٹیبلشمنٹ کی شکست کا سبب بنا ہے۔ نواز شریف الیکشن کے حوالے سے جنرل باجوہ کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں، عمران خان خواجہ آصف کی جنرل باجوہ کو ٹیلی فون کال کی صورت اس کا ثبوت مہیا کردیتے ہیں۔ نواز شریف بیان دیتے ہیں کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام نے آدھی رات کو پیغام بھیجا کہ آپ استعفا دیں۔ عمران خان اس حرکت کا جواز پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آئی ایس آئی کو نوازشریف کی کرپشن کا پتا تھا اس لیے انہوں نے نواز شریف سے استعفا طلب کیا۔ اسٹیبلشمنٹ ضرور عمران خان کے ساتھ ہے لیکن عمران خان بڑی مہارت کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے بارہا عمران خان کو اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی تاکید کی۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے طور پر اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت کی راہیں کھولنے کی کوشش بھی کی لیکن عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی ہر کاروائی کو سبوتاژ کرتے رہے اس چالاکی کے ساتھ کہ آج عمران خان نہیں اسٹیبلشمنٹ پی ڈی ایم کی نفرت کا نشانہ ہے۔ عمران خان کے بجائے اسٹیبلشمنٹ عوامی اشتعال کی زد پر ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کا کردار جس طرح ہر جگہ موضوع بحث ہے یہ وہ آسمانی بجلی نہیں جو یکایک نمودار ہوئی ہو۔ ایسے مباحثے عدم سے وجود میں نہیں آتے۔ کئی عشروں میں اس بحث کے اجزا پک کر تیار ہوئے ہیں۔ عمران خان کو جس طرح لایا گیا پاکستان میں ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ عمران خان نے عوامی غم وغصے، نفرت اور عدم اطمینان کو بے حدوحساب مہنگائی سے ملا کر جوتندو تیز دھماکے کیے، ان سے پیدا شدہ عوامی غم وغصے کو فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہونے سے زائل کرنے کی کوشش کی۔ نواز شریف نے عمران خان کی اس حرکت کو بڑی مہارت کے ساتھ عوامی غیظ وغضب سے ٹکرا دیا اور ایک تقریر میں وہ جست لگائی کہ عشروں کا فاصلہ طے کر گئے۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ اس حکومت نے معیشت کا ستیاناس ماردیا لیکن کہیں اضطراب نہیں جب کہ اس سے کہیں زیادہ بہتر کارکردگی کے باوجود نوازشریف کے خلاف آئے دن ہنگامے برپا رہتے تھے۔ ڈان لیکس پر نواز شریف کا جینا حرام کردیا گیا تھا، آج عمران خان کا ہر عمل فوج کے الٹ ہے، پھر بھی عمران خان کی تائید میں بیان آرہے ہیں۔ عمران خان بڑی مہارت سے وفاق اور صوبوں کو باہم لڑارہے ہیں۔ وفاق کے خلاف نفرت کی فصل بورہے ہیں لیکن کہیں نوٹس نہیں لیا جارہا ہے۔ کروڑوں ملازمین نوکریوں سے نکالے جا چکے ہیں، کارخانے اور فیکٹریاں بند ہیں، مزدوروں کی سانسیں بند ہورہی ہیں، اسلام آباد میں سرکاری ملازمین اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ہڑتالوں کی لہر نے سماج کے اندر دور دور تک اضطراب اور بے چینی کی بارود بچھادی ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ عمران خان حکومت کی بقا کی ضامن بنی ہوئی ہے۔
عمران خان پی ڈی ایم کے عوامی دبائوکو طاقت سے کچلنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک منتقم مزاج اور ڈکٹیٹر شپ پر یقین رکھنے والے وزیراعظم کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ عوام میں عمران خان کی حکومت کی کوئی ساکھ نہیں رہی ہے۔ پی ڈی ایم پر جبر کی صورت میں عمران خان اور ان کے وزرا یہی تاثر دیں گے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد سے ہورہا ہے جس سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عوامی غصہ بڑھے گا اور یہی شاید عمران خا ن چا ہتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو عوام کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا پڑے گا ورنہ ملک کا بہت نقصان ہوجائے گا۔ اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں عوام دشمن تاثر بڑھتا جارہا ہے جو ملک وقوم کے لیے اور خود اسٹیبلشمنٹ کے لیے لمحہ فکر ہونا چاہیے۔
عمران خان حکومت کی تحلیل مسئلے کے حل کا ایک قلیل حصہ ہے مسئلے کا مکمل اور اصل حل نہیں ہے۔ صرف چہرے بدلنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہمیں اس نظام کی، لامتناہی دہشت سے نجات حاصل کرنا ہوگی جس نے دنیا بھر میں انسانیت پر خوفناک بربادی مسلط کردی ہے۔ یہ نظام دنیا بھر میں اچھی حکومتیں دینے میں ناکام رہا ہے۔ نہ اس نظام کی اصلاح ممکن ہے اور نہ اس کے تحت وجود میں آنے والی حکومتوں کی۔ خالی دماغوں کے ساتھ اپوزیشن کے جلسے بھرنے سے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ عوام کو ان لوگوں کا ساتھ دینا ہوگا جو اس ملک میں اسلام کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں۔ انسانیت کے دکھوں کا مداوا اسلام کے پاس ہے۔ صرف اسلام اچھی حکومتیں دے سکتا ہے۔ پی ڈی ایم کی جدوجہد کا محور اسلام نہیں ہے۔ اس میں شامل مرکزی جماعتوں کا خواہ وہ ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں جیسا کہ تحریک انصاف کی ریاست مدینہ کا۔ پھر تبدیلی سے کیا حاصل ہوگا سوائے سال دوسال کی خوش فہمی کے۔