سندھ میں سگ گزیدگی کی ویکسین کی قلت‘ نیب نے تحقیقات شروع کردی

28

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں سگ گزیدگی کی ویکسین کی قلت۔نیب نے تحقیقات شروع کردی۔تفصیلات کے مطابق نیب نے سندھ روشن پروگرام اسکینڈل کے ملزمان سے پلی بارگین کے تحت وصول کیے گئے 22 کروڑ 40 لاکھ روپے سندھ حکومت کے حوالے کردیے ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس( ر) جاوید اقبال نے رقم کا چیک چیف سیکرٹری ممتاز علی شاہ کے حوالے کیا۔اس موقع پر چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے 50 کروڑ مالیت کے دو پلاٹ بھی سندھ حکومت کے واپس کرائے ہیں ، نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں بلا واسطہ اور باالوسطہ 23 ارب روپے وصول کیے ہیں، شوگر اسکینڈل میں 10 ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔ پاکستان اسٹیل ملز کی ایک ارب روپے مالیت کی 300 ایکڑ زمین بھی واپس کرائی، اس کے علاوہ کراچی کی احتساب عدالت نے پاکستان اسٹیٹ آئل کیس میں ملزم کی ایک ارب 27 کروڑ روپے پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی ہے۔جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے سندھ کے اسپتالوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسینز کی قلت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی شاندار پراسیکیوشن کے باعث متعلقہ احتساب عدالت کراچی نے پاکستان سٹیٹ آئل کیس میں ملزم کامران افتخار لاری کی 1.27 ارب روپے کی پلی بارگین کی درخواست قبول کر لی ہے۔ نیب سندھ بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں کتے کے کاٹے کی ویکسین کی کمی کے کیس کی بھی تحقیقات کر رہا ہے کیونکہ سندھ حکومت صحت عامہ کیلیے شہریوں کو یہ ویکسین فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے تاہم شکایات کی بنیاد پر لاڑکانہ ڈویلپمنٹ پیکیج کے علاوہ دیگر سرکاری ہسپتالوں میں یہ ویکسین اب بھی دستیاب نہیں ہے۔واضح رہے کہسندھ روشن پروگرام کیس میں وزیراعلیٰ سندھ پر الزام ہے کہ انہوں نے سندھ میں شمسی توانائی سے چلنے والی لائٹس کی خریداری اور تقسیم کے لیے غیر قانونی ٹھیکے دیے۔ مراد علی شاہ پر 4 ارب کی غیر معیاری سولر لائٹس 400 فیصد مہنگے داموں خریدنے کا الزام ہے۔ من پسند کمپنیوں کو ٹھیکہ دلانے کے لیے مراد علی شاہ نے بطور وزیر خزانہ سال 2014.15 میں خصوصی نوٹ لکھا تھا۔