چین اور روس کا خوف نیٹو کے نئے خلائی مرکز پر کام شروع

104

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں ہفتے کیسٹر سیٹلائٹ گراؤنڈ پر ایک نئے خلائی مرکز کا آغاز کررہا ہے، جو دنیا میں مصنوی سیاروں کے ذریعے مواصلات اور اس کی اہم ترین عسکری تنصیبات کے انتظام میں مدد دے گا۔ واضح رہے کہ کیسٹر سیٹیلائٹ گراؤنڈ اسٹیشن، نیٹو کی خلائی مواصلات کا دل سمجھا جاتا ہے۔ جسے مغربی دفاعی اتحاد کے تمام اسٹیشنوں میں سب سے بڑا اور جدید ترین بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ برس دسمبر میں نیٹو رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ بری، بحری، فضائی اور سائبر اسپیس کے بعد اب خلا ان کی کاروائیوں کا نیا میدان ہوگا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق آج سے شروع ہونے والے نیٹو میں شامل ممالک کے وزرائے دفاع کے 2 روزہ اجلاس میں نئے خلائی مرکز کی منظوری دی جائے گی، جس کی تعمیر ریمس ٹائین جرمنی میں قائم نیٹو کے فضائی کمان مرکز میں ہوگی۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹالٹن برگ کا اجلاس سے پہلے کہنا ہے کہ اتحاد کی کاروائیوں میں رابطہ کاری اور اطلاعات کے تیادلے کے لیے حالیہ اجلاس میں خلائی اسٹیشن کی مدد یقینی بنانے پر توجہ مرکوز رہے گی۔ نیٹو کے رکن ممالک کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب چین اور روس کا رویہ اپنے خلائی پروگراموں کے حوالے سے مسلسل جارحانہ ہوتا جا رہا ہے، ایک سطح پر نیٹو کا خلائی پروگرام، تیز رفتاری سے آگے بڑھتے جدید ترین ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنے آپ کو اس کی رفتار کے ساتھ مل کر چلنے کی ایک کاوش ہے۔