وزارت قانون میں خلاف ضابطہ وکلا کی بھرتیوں کا انکشاف

39

اسلام آباد(آن لائن ) وفاقی وزارت قانون کی جانب سے پیپرا قوانین کے برخلاف بغیر اشتہار کے وکلا کی خدمات حاصل کرنے کا انکشاف ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آڈٹ حکام نے موجودہ حکومت کی وزارت قانون و انصاف کا من پسند وکلا کو نوازنے سے لے کر بار ایسوسی ایشنز کی فنڈنگ اور بھرتیوں کے اشتہارات تک کچا چٹھا کھول دیا۔ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بغیر اشتہار دیے 487 وکلا کی خدمات حاصل کی گئیں اور 58 لاکھ سے زاید فیس ادا کی گئی، بغیر اشتہار وکلا کی خدمات حاصل کرنا پیپرا قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزارت قانون و انصاف نے وکلا کی خدمات سال 2018-19ء کے دوران حاصل کیں جبکہ بھرتیوں کے لیے 6 لاکھ سے زاید مالیت کے 2 اشتہار جاری کیے لیکن بھرتیوں کا عمل دونوں مرتبہ شروع نہ ہوسکا۔ آڈٹ حکام نے مجاز افسران سے اشتہار کی مد میں خرچ رقم وصول کرنے کی سفارش کرتے ہوئے وزارت قانون کی جانب سے 31 بار ایسوسی ایشنز کو جاری فنڈز پر بھی اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز کو 2 کروڑ 96 لاکھ سے زاید رقم دی گئی لیکن ان سے فنڈز کا آڈٹ حساب نہیں لیا گیا۔