نیول فارمز اور سیلنگ کلب کیس کا فیصلہ محفوظ‘کوئی قانون سے بالاتر نہیں‘ اسلام آباد ہائیکورٹ

87

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے پاکستان نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کے خلاف درخواستوں پروکلا کے دلائل مکمل ہونے پرفریقین کو ایک ہفتے میں تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔گزشتہ روز سماعت کے دوران نیوی کے وکیل ملک قمر افضل نے1981ء میں بحریہ فاونڈیشن کی اجازت کا وفاقی حکومت کا نوٹیفکیشن پیش کرتے ہوئے کہاکہ جو آج اعتراض ہم پر آرہا ہے یہی 1981 میں آیا۔ کہا گیا کہ وفاقی حکومت سے اجازت لینا ہو گی، اس وقت وفاقی حکومت سے اجازت کے لیے لکھا گیا جس پر وفاقی حکومت نے اجازت کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ کیا بحریہ فاونڈیشن ابھی موجود ہے ۔عدالت نے کہاکہ اگر یہ کسی سے قرض لیتے ہیں اور وہ ڈیفالٹ ہو جائے تو کیا کیس نیول چیف کے خلاف بنے گا؟آپ نے جو پڑھا ہے اس کے مطابق کسی غلطی کا ذمے تو یہ کمیٹی ہو گی قانون سب کے لیے برابر ہے کوئی قانون سے بالاتر نہیں اس طرح تو اس میں شہریوں کے بنیادی حقوق شامل ہوجاتے ہیں ۔نیول وکیل نے کہاکہ بحریہ فاؤنڈیشن آئل ریفائنری بورڈنگ سسٹم، شپنگ، اسکولنگ سمیت دیگر پروجیکٹس کرتے ہیں نیول فارمز پروجیکٹ بحریہ فاؤنڈیشن کا ہی حصہ ہے بحریہ فاؤنڈیشن کو صرف بیرون ملک سے قرضوں کی اجازت نہیں اور فاؤنڈیشن میں جو پیسہ لگایا گیا وہ پیسہ حکومت سے نہیں آیا۔ عدالت نے کہاکہ کچھ افسران نے پرائیویٹ فیصلہ کیا اور پرائیوٹ جگہ خرید کر پرائیویٹ بندے سے چلایا ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے امیر خان نامی شخص کو کیوں زمین دینے سے انکار کیا اور پھر نیوی کو دے دی؟سی ڈی اے نے اس شہر کو تباہ کردیا، عدالت کو بتائیں کہاں پر لکھا ہے کہ ایک محکمہ سوسائٹی بناسکے؟کہاں لکھا ہے کہ زون فور میں ایک عام شہری سوسائٹی نہیں بنا سکتا اور سرکاری محکمہ بناسکتا ہے؟کس ریگولیشن کے تحت زون فور میں پاکستان نیوی کو زمین دی گئی؟چیف جسٹس نے نیوی وکیل سے استفسارکیاکہ کیا آپ ٹریول ایجنسی بھی چلاتے ہیں؟ کیا ابھی بھی یہ چل رہی ہے؟نیوی وکیل نے کہاکہ جوائنٹ ونیچر کے ذریعے ہے ابھی تفصیلات میرے پاس نہیں۔ عدالت نے کہا کہ سی ڈی اے نے پاکستان نیوی کو نوٹس کیا اور اس کے بعد افتتاح کیا گیا،ان اداروں کی جو عزت ہے وہ برقرار بھی رہنیچاہیے،یہ سارا معاملہ مفاد عامہ کا ہے،سی ڈی اے اپنے نوٹس پر عمل نہیں کراسکتا، چیف جسٹس نے کہاکہ سی ڈی اے کمزور نہیں، اگر یقین نہیں تو کسی کھوکھے والے سے پوچھیں،سی ڈی اے کے ہر بندے کو مستعفی ہونا چاہیے۔نیول وکیل نے کہاکہ نیول فارمز کی تعمیرات کے لیے وفاقی حکومت نے ہی نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، یہ زمین فورسز کے لیے ہے کمرشل سرگرمیوں کے لیے نہیں، نیول فارمز میں کوئی بھی کمرشل بلڈنگ نہیں ہے،وکیل نیول فارمزنے کہاکہ بحریہ فارمز کے لیے مختلف اوقات میں 2 وزرائے اعظم نے نوٹیفکیشن جاری کیے۔عدالت نے وکیل نیول فارمزسے استفسارکیاکہ اگر یہ کام پارلیمنٹرین نے پبلک فنڈ سے کیا ہوتا تو اس کے کیا اثرات ہوتے؟ وزیر اعظم نے کس حیثیت سے یہ زمین دی؟سی ڈی اے آرڈیننس سے تو وزیر اعظم نے زمین دی نہیں؟ عدالت نے تمام فریقین کو ایک ہفتے میں تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔