قاتلانہ حملہ کیس: اورنگزیب فاروقی نے کالعدم تنظیم کے دہشتگرد کو شناخت کرلیا

102

کراچی (اسٹاف رپورٹر)انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میںمولانا اورنگزیب فاروقی پر قاتلانہ حملے کا معاملہ، مولانا اورنگ زیب فاروقی نے کالعدم تنظیم کے دہشتگرد کو شناخت کرلیا،دوران سماعت ملزم جوہر حسین عرف رحمن عرف جعفر کو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا،مقدمہ کے چشم دید گواہ مولانا اورنگزیب فاروقی نے ملزم جوہر حسین کو شناخت کرتے ہوئے اپنا بیان قلمبند کرادیا، ان کا کہنا ہے کہ 25 دسمبر 2012ء کوگھر سے جامعہ مسجد صدیق اکبر ناگن چورنگی
جارہا تھا،گلشن اقبال موتی محل کے قریب ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ حملہ کیا، حملے میں ڈرائیور عبد الوکیل، گن میں عبید اللہ، کانسٹیبل ارشد، وحید اور سلیم جاں بحق ہوئے ، یہ وہی ملزم ہے جس نے حملہ کیا تھا ،عدالت نے بیان قلمبند کرنے کے بعد سماعت 10اکتوبر تک ملتوی کردی ،مقدمے میں 10 گواہوں کے بیان قلمبند کیے جاچکے ہیں،مفرور ملزموں میں محمد علی عرف ڈاکٹر، سید وسیم احسن عرف شاہد، نثار حسین عرف رحمت ،ملزم عدنان عرف منجن، عمران عرف موٹا اور عباس عرف گورا بھی شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں سی ٹی ڈی نے ایم کیو ایم لندن کے ٹارگٹ کلرز کو ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کردیا، جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے ملزمان منور اور وسیم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا،سی ٹی ڈی کا الزام ہے کہ ملزمان کے خلاف غیر قانونی اسلحے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے،ملزمان محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر نعیم اور ڈپٹی ڈائریکٹر معین اور پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔ مزید برآں جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کی عدالت میں تھانہ پاکستان بازار پولیس نے مبینہ کھمبا چور بابر علی کو پیش کیا ، جہاں عدالت نے ملزم کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا، ملزم پر مبینہ طور پر56 بجلی کے کھمبے چوری کا الزام ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی نشاندہی پر کھمبے ریکور کیے، مفرور ملزموں کی گرفتاری کے لیے ملزم سے تفتیش کرنا ہے ریمانڈ دیا جائے، عدالت نے آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔