جماعت اسلامی کا ”حقوق کراچی مارچ“، 14اکتوبر کو ”ملک گیر یوم یکجہتی کراچی“کا اعلان

377

کراچی:جماعت اسلامی کے تحت شاہراہ قائدین پر ہونے والے عظیم الشان اور تاریخی ”حقوق کراچی مارچ“ میں 14اکتوبر ملک گیر سطح پر ”یوم یکجہتی کراچی“منانے اور 15,16,17اکتوبر کو کراچی بھر میں حقو ق کراچی تحریک کے مطالبات کی منظوری کے لیے ”عوامی ریفرنڈم“کرانے کا اعلان کیا گیا ہے،مارچ میں یہ بھی کہا گیا کہ کراچی کے عوام کے حقوق کے حصول کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس یا سندھ اسمبلی کا گھیراؤ بھی کیا جاسکتا ہے،عروس البلاد کراچی اور اس کے تین کروڑ عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،کراچی کے عوام کے مسائل کے حل اور آئینی وقانونی اور جائز حق کے حصو ل کی جدوجہد جاری رہے گی۔

ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اورکراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مارچ میں ”اعلان کراچی“ کے عنوان سے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں ”حقوق کراچی تحریک“ اور عوام کے مسائل کے حل کے حوالے سے مختلف مطالبات کیے گئے ہیں۔

 مارچ سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، ڈپٹی سکریٹری کراچی عبد الرزاق خان،رکن سندھ اسمبلی و امیر جماعت اسلامی ضلع جنوبی سید عبد الرشید، بلدیہ عظمیٰ میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر جنید مکاتی،کورنگی انڈسٹریل اینڈ ٹریڈ ایسوسی ایشن کے سابق صدر زاہد سعید،KNگروپ کے چیئرمین،معروف صنعت کاروکالم نگارخلیل احمد نینی تال،معروف صنعتکار ادریس گگی، فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن کے صدر عبد اللہ عابدودیگرنے بھی خطاب کیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عظیم الشان ”حقوق کراچی مارچ“ پر میں کراچی کے عوام اور جماعت اسلامی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،کراچی منی پاکستان ہے،جب کراچی پریشان ہوتا ہے تو پورا ملک پریشان ہوتا ہے،کراچی میں ملک کے ہر حصے اور ہر زبان بولنے والے لوگ رہتے ہیں،کراچی کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور اس کی تباہی پورے ملک کی تباہی ہے۔

انہوں نےکہا کہ ایوب خان سے لے کر آج تک کسی حکومت نے کراچی کو اس کا حق نہیں دیا ہے،صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت نے بھی ہمیشہ کراچی کے لوگوں کا استحصال کیا ہے، موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت بھی کراچی کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے،کراچی میں مردم شماری پر اعتراضات ہیں لیکن وفاقی حکومت نے ابھی تک اعلان کے باوجود مردم شماری کو درست کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے ساتھ ہے اور 14اکتوبر کو ملک بھر میں یوم یکجہتی کراچی منارہے ہیں،شہر کے بزر گ،جوانوں،ماؤں،بہنوں، بیٹیوں اور پورے کراچی کے عوام کے لیے ملک بھرمیں اظہار یکجہتی کریں گے،اس وقت کراچی ہی نہیں اندرون سندھ کے عوام بھی سخت پریشان ہیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم جماعت اسلامی کراچی کے اعلامیے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، کراچی کو بااختیار شہری حکومت دی جائے،مردم شماری درست کی جائے،عوام کو بجلی،پانی سمیت جو بے شمار مسائل درپیش ہیں ان سے نجات دلائی جائے۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ وفاقی حکومت کے 780دن ان کی ناکامیوں کی داستان ہے، معیشت تباہ اور عوام بدحال ہیں،ریاست مدینہ کے دعویدار حکومت بچے، بچیوں اور خواتین سے عصمت دری کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرسکی،عوام کو آٹا 60روپے فی کلو مل رہا ہے،دال، چاول، چینی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے،چینی 105روپے میں فروخت ہورہی ہے،دوائیوں کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی کی معصوم بچی،نوشہرہ، ڈی آئی خان میں بچے،بچیاں زیادتی کا شکار ہوئی ہیں اور مجرم کیفر کردار تک نہیں پہنچ سکے،حکومت نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے پرانی مشینری لائی ہے اور ان سب نے مل کر جو حشر کردیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک بھر میں عوام کی نمائندہ اور ترجمان بنے گی،کراچی کے عوام کو بھی ہم ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے،کراچی کے حکمران جماعتوں نے اس شہر کو تباہ کیا ہے یہ اسے سنوارنے کی صلاحیت نہیں رکھتے،صرف جماعت اسلامی ہی مسائل حل کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں کرپشن بڑھ رہی ہے پہلے لوگ ناجائز کاموں کے لیے رشوت دیتے تھے ا ب جائز کاموں کے لیے بھی دینا پڑتی ہے،وزیر اعظم یوٹرن لینے کے حامی ہیں ہم کہتے ہیں کہ وہ رائیٹ ٹرن لے لیں اور عوام پر رحم کریں،حکومت کی کشمیر پالیسی ناکام ہوگئی ہے اور کشمیریوں کو اس حکومت نے بھی مایوس کیا ہے،حکومت کی معاشی پالیسی انڈے،مرغیوں سے شروع ہوئی تھی،اب کہتے ہیں کہ بھنگ پیدا کر کے معیشت بہتر کریں گے۔ایسے لوگ حکومت کیسے چلاسکتے ہیں اور عوام کے مسائل کیسے حل کرسکتے ہیں؟۔