امریکا: حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر غور

110

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کو مزید تنہا کرنے کی کوشش میں حوثی ملیشیا پر دباؤ بڑھانے کے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ یمنی حوثی باغیوں کی ملیشیا کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے دیا جائے اور باغیوں کے مالی اثاثے منجمد کردیے جائیں، جس کے نتیجے میں ملیشیا کی معاونت کرنے کا عمل غیر قانونی ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ قانونی اور انٹیلی جنس جائزہ لینے کے لیے تیار ہے تا کہ اس بات کا تعین ہو سکے کہ حوثی ملیشیا دہشت گرد قرار دیے جانے کے معیار پر پورا اترتی ہے یا اس پر صرف پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ اس سے قبل یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ وہ حوثی ملیشیا اور اس کے سرپرستوں پر فیصلہ کن دباؤ ڈالے۔ دوسری جانب یمن کے مشرق میں واقع شہر مآرب میں حوثی ملیشیا نے ایک رہایشی علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شہر کا ایک بڑا اسکول تباہ ہو گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی جمعے کی شام کی گئی۔ میزائل سے ہونے والے دھماکے کی آواز سے شہر لرز اٹھا۔ حملے میں المیثاق اسکول کو براہ راست نقصان پہنچا اور اسکول کی عمارت میں وسیع تباہی پھیل گئی اور اسکول سے ملحقہ عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ میزائل حملے کے وقت اسکول میں 26 ستمبر 1962ء کے انقلاب کے حوالے سے مشعل روشن کرنے کی یادگاری تقریب جاری تھی جس میں طلبہ بھی موجود تھے۔ مآرب صوبے کے گورنر سلطان العرادہ نے حوثی ملیشیا کی جانب سے دوران تقریب بیلسٹک میزائل داغے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی شہریوں کے خلاف اپنے جرائم کے ارتکاب کا سلسلہ نہیں روکے گی جب تک کہ پورے وطن میں قومی پرچم نہ لہرا دیا جائے۔