سانحہ بلدیہ کا فیصلہ

220

11ستمبر 2012 کا دن پاکستان ہی کیا دنیا کی تاریخ کا وہ المناک دن ہے جب کراچی کی بلدیہ فیکٹری کو ظالم دہشت گردوں نے کیمیکل ڈال کر جلا دیا تھا۔ اس آگ سے علی انٹرپرائز کے 259محنت کش جل کر خاکستر ہوگئے جبکہ 50سے زائد افراد جھلسنے سے شدید زخمی ہوئے تھے۔ سائٹ پولیس نے 24گھنٹے بعد مقدمہ درج کیا۔ فیکٹری مالکان شاہد بھائلہ اور ارشد بھائلہ نے سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ سے حفاظتی ضمانت حاصل کر لی تھی بعد میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج ویسٹ عبداللہ چنا نے فیکٹری مالکان کی ضمانت مسترد کردی۔ 2013 میں سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج زاہد قربان علوی کی سربراہی میں بننے والے جوڈیشنل کمیشن نے آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ اور متعلقہ اداروںکی غفلت کو قرار دیا۔ کمیشن کی رپورٹ کے بعد حکومتی سطح پر ہلچل ہوئی اور مقدمے میں تبدیلیاں آنی شروع ہو گئیں۔ پولیس نے دوسرا چالان پیش کیا تو مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 خارج کرنے کے ساتھ مقدمے کے گواہوں کی تعداد بھی آدھی کر دی گئی۔ 2014 میں مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نوشابہ قاضی کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں منتقل کردیا گیا۔ فیکٹری مالکان ضمانت کے بعد عدالت کی اجازت سے بیرون ملک منتقل ہوگئے۔ سال 2015 شروع ہوا تو صوبائی حکومت نے ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں نو رکنی جے آئی ٹی بنا دی۔ اسی دوران سندھ رینجرز کی ایک رپورٹ نے طوفان برپا کر دیا۔ 6فروری 2015 کو رینجرز رپورٹ میں بتایا گیاکہ ناجائز اسلحہ کیس کے ملزم رضوان قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ بلدیہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی۔ آگ لگانے والاکوئی اور نہیں بلکہ ایم کیو ایم تھی۔ مقدمے کے ایک اور چالان میں ملزمان حماد صدیقی، رحمان بھولا، زبیر عرف چریا کا اضافہ کردیا گیا۔ 2016 میں دہشت گردی کی دفعات کے ساتھ مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کردیا گیا۔
حماد صدیقی، رحمان بھولا کے ریڈوارنٹ جاری ہوئے۔ ملزم زبیر چریا سعودیہ، رحمان بھولا تھائی لینڈ میں انٹر پول کی مدد سے گرفتارکرلیے گئے اور انہیں دسمبر میں پاکستان لایا گیا۔ رحمان بھولانے عدالت میں بیان دیا کہ 20کروڑ روپے بھتا نہ ملنے پراس نے زبیر چریا کے ذریعے آگ لگوائی۔ کاروائی حماد صدیقی اور پارٹی قیادت کے ایما پر کی گئی۔ ملزم نے یہ بھی کہا کہ معاملہ دبانے کے لیے حماد صدیقی اور رئوف صدیقی نے مالکان سے رقم بھی وصول کی۔ پولیس نے ایک اور چالان میں میں رئوف صدیقی کو سہولت کار ملزم ظاہر کیا۔ جے آئی ٹی رپورٹ رپورٹ منظر عام پرآئی تو مقدمے کا ایک اور چالان پیش ہوا۔ اس میں پولیس نے رئوف صدیقی کو بے گناہ قرار دے دیا۔ لیکن عدالت نے رپورٹ مسترد کردی جس پر پولیس نے ایک اور چالان پیش کرکے رئوف صدیقی کوملزم بنا دیا۔ رحمن بھولا اور زبیر چریا نے عدالت کے سامنے قیادت کے ایما پر آگ لگانے کا اعتراف کیا لیکن جنوری 2019 میں وہ اپنے بیان سے مکر گئے۔ جبکہ خوف سے کئی وکلا نے مقدمے کی پیروی چھوڑ دی۔ عدالتیں تبدیل ہوتی رہیں۔ گواہ منحرف ہوگئے لیکن رینجرز کے پبلک پراسیکوٹر ساجد محبوب شیخ مقدمے کی پیروی کرتے رہے۔ استغاثہ نے 768 گواہوں کی فہرست عدالت میں جمع کرائی تھی۔ چار سو گواہوں نے بیانات ریکارڈ کرائے اور تین سو چونسٹھ گواہوں کے نام نکال دیے گئے۔ مقدمہ میں رحمان بھولا اور زبیر چریا گرفتار ہیں۔ متحدہ رہنما رئوف صدیقی، علی محمد، ارشد محمود، فضل احمد جان، شاہ رخ لطیف، عمر حسن قادری اور ڈاکٹر عبدالستار ضمانت پر ہیں۔ متحدہ کے حماد صدیقی اور علی حسن قادری مفرور ہیں، مقدمہ میں تاخیر کی وجہ مرکزی ملزم حماد صدیقی کی عدم گرفتاری، جے آئی ٹی رپورٹ پر عملدرآمد کا نہ ہونا اور ملزمان کے تاخیری حربے شامل ہیں۔
آٹھ سال کے بعد انسداد ہشت گردی کی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری علی انٹر پرائز کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت دینے کا حکم دیاگیا۔ عدالت نے ایم کیو ایم کے رہنما رئوف صدیقی، ادیب خانم، علی حسن قادری، عبدالستار کو عدم شواہد پر بری کردیا۔ عدالت نے چاردیگر ملزمان فضل احمد، علی محمد، ارشد محمود اور فیکٹری مینجر شاہ رخ کو بھی سہولت کاری کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 2ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ آٹھ سال کے بعد اس اہم مقدمے کے فیصلے سے شاید کہ علی انٹر پرائز کے لواحقین کے اشکوں کا بہنا کم ہوجائے۔ اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔ قاتلوں اور ان کے سرپرست کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے۔ زندہ انسانوں کو جلانے والے انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سانحہ کے دو اہم ملزمان کو تو پھانسی کی سزا سنا دی ہے لیکن ان کے سرپرست ابھی تک سزا سے بچے ہوئے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ انٹر پول کے ذریعے باقی تمام ملزمان کو گرفتار کر کے تختہ دار پر لٹکائے۔ محنت کشوں کو جلانے والو کو سزا دی جاسکتی ہے تو انہیں جلانے کا حکم دینے والے کیسے سزا سے بچ سکتے ہیں۔ ادھورا انصاف ریاست مدینہ کے دعویداروں کے لیے ایک چلینج ہے۔ پانچ سال سے سانحہ بلدیہ کا کیس سیشن کورٹ اور تین سال اے ٹی سی میں زیر سماعت رہا۔ ان آٹھ سال میں سانحہ بلدیہ کے 259شہیدوں کے لواحقین روز جیتے اور روز مرتے تھے۔ انصاف کی طلب کے لیے وہ اپنے ربّ سے مددکے طلب گار تھے اور اللہ ہی ہے جو انصاف اور عدل قائم کرتا ہے اور اپنے بندوں کو بھی حکم دیتا ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ محبت اور بھائی چارگی قائم کریں۔ اس دنیا میں جس نے ظلم اور درندگی قائم کی ہے اسے اپنے ایک ایک ظلم کا حساب دینا ہوگا۔ دنیا کی زندگی دھوکا اور فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ آخرت کی نہ ختم ہونے والی زندگی کی تیاری کی جائے۔ دنیا میں فساد اور ظلم کو ختم کیا جائے ورنہ اللہ کی پکڑ بہت خطرناک ہے۔ سانحہ بلدیہ کے مرکزی ملزمان دنیا میں تو انٹر پول کی ایجنسی کے ہاتھ بھی نہیں آرہے ہیں لیکن کل قیامت میں وہ ربّ کی پکڑ سے کیسے بچ سکے گے۔ آٹھ سال کے بعد پاکستان کے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ ہوا ہے اور انصاف اور عدل کی پاسداری ہوئی ہے۔ سفاکی درندگی کی سیاست کو دوام بخشنے والے آج بے نقاب ہوگئے ہیں۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب تمام ملزمان کٹہرے میں ہوںگے اور ظلم کرنے والے نشان عبرت بن جائیں گے۔