مگر خطرہ موجود ہے

208

 ملک بھر کے تعلیمی ادارے ایک طویل تعطل کے بعد دوبارہ مرحلہ وار کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں میٹرک، انٹر اور جامعات کھل گئے ہیں اور ہائی اور پرائمری کلاسز کی بحالی کا اعلان اس ماہ کے اواخر میں اگلے دومراحل میں کیا جارہا ہے۔ کورونا نے جہاں دنیا کے پورے نظام کو تلپٹ کرکے رکھ دیا تھا وہیں تعلیم کا شعبہ بھی اس سے بری طرح متاثر ہو کر رہ گیا تھا۔ تعلیمی نظام کو پہنچنے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے آن لائن ایجوکیشن سمیت کئی متبادل ذرائع اور انداز اپنائے گئے مگر اس سے مجموعی نقصان کی تلافی ممکن نہ ہو سکی۔ بچوں کو امتحان کے بغیر ہی اگلی کلاسز میں ترقی دے کر مشکل لمحوں میں ایک عارضی سہارا تلاش کیا گیا۔ اب جوں جوں حالات میں بہتری پیدا ہورہی ہے دنیا بھر کی طرح حکومت پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرتی جا رہی ہے۔ تعلیمی اداروں کا کھلنا اور تعلیمی سرگرمیوں کا بحال ہونا بھی زندگی کے واپس اپنی ڈگر پر آنے اور حالات میں معمول کا ایک ثبوت ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ اسکول واپسی پر ہم لاکھوں بچوں کو خوش آمدید کہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہماری ترجیح اور اجتماعی ذمے داری ہے کہ ہر بچہ حصول علم کے لیے اسکول جاسکے۔ ہم نے اسکولوں میں تدریسی سرگرمیوں کو کورونا وائرس کے حوالے سے صحت عامہ کے قواعد سے ہم آہنگ بنانے کا خاص اہتمام کیا ہے۔
کورونا پاکستان سے اب رخصت ہوا چاہتا ہے اور زندگی ایک بار پھر رنگوں اور روشنیوں میں رقصاں نظر آنے لگی ہے۔ شادی ہالوں اور تعلیمی اداروں کی تالہ بندی کا خاتمہ کورونا کی آخری ہچکیوں کا ثبوت ہے۔ یہ وہی قاتل ہے جس نے لاتعداد انسانوں کو آخری ہچکیوں تک پہنچا کر دنیا کے اوپر خود اور دہشت کی ایک چادر سی تان رکھی تھی۔ اس خوف نے زندگی سے سارے رنگ چھین لیے تھے اور انسان صدیوں پیچھے چلا گیا تھا۔ وبا کے خوف میں کئی دوسرے خوف مل گئے تھے اور یوں چہار سو دہشت کا سماں تھا۔ قحط کا خوف، بے موت مرنے کا خوف۔ کسمپرسی میں پیوند خاک ہوجانے کا خوف، بیماری میں تنہا رہ جانے کا خوف، خوف کی ایک ناگن کی کوکھ سے خوف کے رنگا رنگ سنپولیے جنم لے کر معاشرے کے اعصاب پر لرزہ طاری کیے ہوئے تھے۔ جن لوگوں اور معاشروں کو اپنی دیانت اور حسن انتظام پر ناز تھا کورونا نے انہیں بھی ناکام اور نااہل ثابت کر دکھایا تھا اور ہم تو ٹھیرے ازل کے بددیانت، پھوہڑ، کاہل، کام چور، آج کا کام کل پر چھوڑنے کو زندگی اور ریاست کا ماٹو بنائے رکھنے والے لوگ اور یہی وجہ ہے کہ ایک تو ہمیں کورونا کا خوف لاحق تھا اس سے بھی بڑا خوف کورونا کے مقابلے میں اپنی عادات اطوار کا ماضی کھلی کتاب کی طرح سامنے تھا۔ دنیا کے منظم معاشروں اور متحرک اور فعال فلاحی ریاستوں کا انتظام جواب دے رہا تھا تو اس عالم میں قطعی متضاد عادات اور ریکارڈ کے حامل ہم لوگ کس کھیت کی مولی تھے۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا کہ جب قدرت کو ترس آیا اور وبا سے متعلق ہمارے اندازے اور خوف غلط ثابت ہوتا چلا گیا۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی اوسی) کی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا کی وبا اب ملک میں دم توڑرہی ہے۔ ملک بھر میں کورونا کے 330 نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ پانچ مریض جاں بحق ہوئے۔ چند دن قبل کے اعداو شمار کے مطابق کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 91 ہزار 232 ہوگئی ہے جبکہ اموات 6ہزار 350 ہیں۔ اس وقت ملک میں 93مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں کوئی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں۔ ملک میں فعال کیسز کی تعداد 6ہزار 726 وبا سے صحت یاب ہونے والوںکی تعداد2لاکھ 86ہزار 157 ہے۔ اس دوران پاکستان میں ورلڈ بینک کے کنٹری کورآرڈی نیٹر نجی بخسین نے وزیر خزانہ وترقی اسد عمر سے ملاقات میں کہا ہے کہ حکومت کورونا کو کنٹرول کرنے کے لیے جو منظم طریقہ اپنایا وہ قابل ستائش ہے۔ واضح رہے کہ ورلڈ بینک کوڈ 19ایمر جنسی رسپانس کے تحت پاکستان سے تعاون کررہا ہے۔ یوں آثار وقرائن سے پتا چلتا ہے کہ مارچ میں شروع ہونے والی کورونا کی لہر اب کمزور پڑ چکی ہے اور زندگی کو خوف زدہ کرنے والی لہر پر زندگی اپنے معمولات کی بحالی کی صورت میں غالب آرہی ہے۔ اس بحالی کا ثبوت تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی ہے۔ بھوت بنگلہ بن جانے والی عمارتوں میں زندگی کی چہل پہل لوٹ آنا ہے۔ سکوت کی چادر میں باتوں اور قہقہوں کی صور ت چھید ہونا ہے اس بدلی ہوئے فضاء میں ہماری منصوبہ بندی اور حسن تدبیر وانتظام اور کرشمے وکمال کے بجائے قدرت کی مہربانی کا خصوصی دخل ہے۔ کورونا کی رخصتی کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ کورونا کی واپسی کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے اور علاج کے دریافت تک یہ خطرات کرۂ ارض پر منڈلاتے رہیں گے۔ یورپ اور مغربی ملکوں میں کورونا کی دوسری لہر کا خوف اور خطرہ موجود ہے۔ کورونا کی جونک ابھی تک امریکا کو چمٹی ہوئی ہے اور حالات پر پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا۔ ہمارے پڑوس میں بھارت بھی اس کمبل سے جان چھڑانے میں ناکام ہے بلکہ کورونا مودی کی حقیقی اپوزیشن بن کر سامنے آرہا ہے۔ مودی کی مقبولیت کو اپوزیشن تو کم نہ کر سکی مگر کورونا بحران میں بے تدبیری اور معیشت کو پہنچنے والے نقصان نے مودی حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کورونا ابھی اس خطے میں موجود ہے۔ اس لیے کورونا کی وبا سے جان چھوٹنے پر جشن مناتے ہوئے اس حقیقت کو ہر قدم پر پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔