اسلامی بینکاری اور مالیاتی نظام کو وسعت مل رہی ہے ، صدر مملکت

73

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آج گلوبل اسلامک فنانس ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی بینکاری اور مالیاتی نظام کو وسعت مل رہی ہے ، پاکستان میں اسلامی بینکاری نظام کے فروغ کیلئے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں اور پاکستان میں 17فیصد اسلامی بینکاری قوانین کے مطابق ہو رہی ہے، سٹیٹ بینک اسلامی بینکاری کو ترقی دینے کیلئے کوشاں ہے ۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ کورونا وباء کی صورتحال میں بینکاری نظام میں بھی دباؤ آیا۔ اسلامی بینکاری کے 5 اصول ہیں ، پہلا یہ جو قرضہ لے رہا ہے اس کے ساتھ معاشرتی انصاف ہو، کیونکہ اسلامی بینکاری صرف پیسوں کے لین دین کا نام نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ یکسانیت ہو، سب برابر ہوں ، تیسرا سہولیات نچلے طبقے تک پہنچائی جائے، چوتھا شفافیت ہو، چھپ کر کوئی کام نہ ہو جو چھپ کر کام ہوتا ہے اس پر اسلام اور نظام کا نظریہ خراب ہو جاتا ہے ۔ پانچواں اصول یہ ہے کہ سماجی ہم آہنگی ہو ۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں کہا کہ ترقیاتی عمل میں انصاف، مساوات اور شفافیت کلیدی اہمیت رکھتے ہیں اور سماجی و معاشی ترقی کیلئے دولت کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے جبکہ کاروباری سرگرمیوں میں منافع کے ساتھ اخلاقیات کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ اسلام کسی بھی شعبے میں استحصال کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سود کا خاتمہ بھی معاشرے سے ضروری ہے، سود کے حوالے سے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں، پروفیسر خورشید صاحب کو اس حوالے سے بہت پڑھا ہے ، سودی نظام کا خاتمہ ہی معاشی ترقی کام ضامن بن سکتا ہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسلامی بینکاری میں خواتین کی شراکت داری ضروری ہے 52 فیصد ملک کی آبادی کو گھروں میں بیٹھا کر ترقی کا سفر ممکن نہیں ہے۔ ہمیں خواتین کو آگے لانا ہو گا ، علما کرام سے مشاورت کرنی ہوگی ، خواتین ، معذور اور تمام پیچھے رہ جانے والے طبقات کو اوپر اٹھانا ہے ، ریاست مدینہ کے تصور میں بھی پسے ہوئے طبقے کو اوپر اٹھانا تھا۔ ہمیں بھی آج اپنے تمام محروم طبقات کو سپورٹ کرنا ہے ۔