ڈومیسٹک سیزن میں شرکت کیلیے ڈیپارٹمنٹ سے استعفیٰ کی ضرورت نہیں، پی سی بی

110

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان کرکٹ بورڈ ایک مرتبہ پھر واضح کرتا ہے کہ ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کا کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے کھلاڑیوں کو ان کے ڈیپارٹمنٹ سے استعفٰی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ قومی ٹی ٹوئنٹی کپ سے شروع ہونے والے ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کا آغاز 30 ستمبر سے ہوگا۔پاکستان کرکٹ بورڈ ڈومیسٹک کنٹریکٹ لینے کے خواہشمند کھلاڑیوں سے نہ تو استعفٰی دینے کا کہہ رہا ہے اور نہ ہی انہیں ڈیپارٹمنٹس سے اپنا موجودہ معاہدے منسوخ کرنے کا کہہ رہا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ تو ملازمت اور کنٹریکٹ رکھنے والے تمام کرکٹرز سے یہ کہہ رہا ہے کہ پالیسی اور ایس او پیز کے مطابق انہیں ڈومیسٹک سیزن برائے 21-2020 کا کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے اپنے ڈیپارٹمنٹ سے این او سی درکار ہوگی۔ ان ڈیپارٹمنٹس کی جانب سے ایس او پیز کا اجراء معمول کی ایک کارروائی ہوگی۔ یہ نہ صرف پی سی بی اور ڈیپارٹمنٹ دونوں کی ضرورت بلکہ یہ عمل پہلے سے جاری بھی ہے۔پی سی بی بیان میں کہہ چکا ہے کہ جب ایک کھلاڑی اپنے ڈیپارٹمنٹ کا جاری کردہ متعلقہ این او سی جمع کرادے گا تو پی سی بی اس کھلاڑی کو معاہدے کے مطابق ادائیگی کردے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے ہی وضاحت کرچکا ہے کہ ایک ملازمت رکھنے والا کرکٹر بھی ڈومیسٹک سیزن برائے 21-2020 کے کنٹریکٹ کا اہل ہے اور اگر اس کھلاڑی کا ڈیپارٹمنٹ اسے سیزن بھر بھی ادائیگی کرتا رہے تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ملازمت رکھنے والا کرکٹر کو اس شرط پر ڈومیسٹک سیزن 21-2020 کے کنٹریکٹ کی پیشکش کی جاسکتی ہے کہ وہ کھلاڑی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کردہ متعلقہ این او سی کو قواعد و ضوابط کے مطابق پی سی بی کو پیش کرے۔اب کھلاڑی کو اس کا ڈیپارٹمنٹ ادائیگی کرتا ہے یا نہیں ، یہ ان دونوں کے آپس کا ایک معاملہ ہے۔پی سی بی مزید وضاحت کرچکا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 21-2020 کے لیے کھلاڑیوں کو 2 قسم کے معاہدے پیش کیے جائیں گے۔ہر کرکٹ ایسوسی ایشن میں زیادہ سے زیادہ 32 کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ پیش کیا جائے گا جبکہ باقی کھلاڑیوں کو سیزنل کنٹریکٹ پیش کیا جائے گا۔ڈومیسٹک کنٹریکٹ کے تحت ایک کھلاڑی ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ کی ذمہ داریوں کا پابند ہوگا اور اسے میچ فیس ، ڈیلی الاؤنس اور دیگر متعلقہ مراعات سمیت ماہانہ وظیفہ بھی ملے گا۔سیزنل کنٹریکٹ کے تحت ایک کھلاڑی ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت تجویز کردہ زمہ داریوں کا پابند ہوگا لیکن اسے ماہانہ وظیفہ نہیں ملے گا۔ تاہم ایسے کھلاڑی کو میچ فیس ، ڈیلی الاؤنس اور دیگر متعلقہ مراعات ضرور ملیں گی۔