یورپ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ 

334

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یہودی اور نسل پرست سفید فام امریکیوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے پہلے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے اوراب اپنی انتخابی مہم کے دوران اسرائیل کو اسلامی ممالک سے تسلیم کروانے کے سلسلے میں جہاں متحدہ عرب امارات کو شیشے میں اُتار چکے ہیں وہیں ان کا تازہ نشانہ جنوب مشرقی یورپ کا مسلمان ملک کوسوو بنا ہے جس نے اپنی بعض مجبوریوں کی وجہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کا اعلان کردیا ہے جب کہ اس کے ہمسایہ ملک سربیا جس نے ابھی تک کوسوو کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر تسلیم نہیں کیا، نے بھی اپنا سفارت خانہ امریکی خواہش اور لالچ پر مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب کوسوو اور سربیا کے سربراہان معاشی تعلقات کی بحالی کے معاہدے کے لیے امریکا میں موجود تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والے اس اجلاس میں کوسوو کے وزیر اعظم عبداللہ ہوتی اور سربیا کے صدر الیگزینڈر وِک کی موجودگی میں دونوں ہمسایوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کایہ معاہدہ طے پایا ہے۔ اس موقع پرایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سربیا اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرے گا۔ جب کہ کوسوو اور اسرائیل ایک دوسرے کو تسلیم کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات استوار کیے جائیں گے اور کوسوو بھی مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ کھولے گا۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ کوسوو پہلا مسلمان اکثریتی ملک ہو گا جو مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ کھولے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سربیا کا اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنا ثابت کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا خواہاں ہے۔ اس معاہدے کے بعد ٹرمپ کہنا تھا کہ دونوں ممالک معاشی معاملات معمول پر لانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ برسوں بعد سربیا اور کوسوو کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لیے راستے تلاش کیے ہیں۔ خیال رہے کہ کوسوو کی پارلیمان نے 2008ء میں سربیا سے آزادی کا اعلان کیا تھا اور مغربی ممالک کی اکثریت نے کوسوو کی آزادی کو تسلیم کر لیا تھا لیکن سربیا اس آزادی کو اب تک تسلیم کرنے سے انکارکرتا رہا ہے لیکن اب امریکی دبائو اور لالچ کے نتیجے میں نہ صرف ان دونوں ریاستوں کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ ہوا ہے بلکہ اس معاہدے کی قیمت ان دونوں کو یورپی ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کروانے اور ان کے سفارت خانے مقبوضہ بیت المقدس میں قائم کرانے کی صورت میں بھی وصول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد سب سے زیادہ نقصان وارسا پیکٹ کے تحت سوویت اتحاد میں شامل مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ملکوں بالخصوص یوگوسلاویہ کو برداشت کرنا پڑا تھا جو سربیا، کروشیا، مقدونیا، مانٹی نیگرو اور بوسنیا ہرزی گووینا کے درمیان نسلی اور مذہبی بنیادوں پر نہ صرف تقسیم ہوگیا بلکہ یہاں خانہ جنگی کے شعلوں نے جہاں سارے یورپ کے امن کو دائو پرلگا دیا تھا وہاں سربوں اور کروٹس کی جانب سے مسلمانوں کی منظم نسل کشی کے ردعمل میں دہائیوں سے سوئے ہوئے مسلمانوں کے اندر بیداری اور آزادی کی تحریکوں نے بھی جنم لیا تھا۔ یہ ان ہی تحریکوں کا اثر تھا جن کے بطن سے یورپ کے اکلوتے مسلمان ملک البانیہ کے بعد بوسنیا ہرزی گونیا اور کچھ عرصے بعد کوسوو آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔
یاد رہے کہ کوسوو اقوام متحدہ کے زیر انتظام جنوبی سربیا کا علاقہ ہے اور اس کو یورپ کے نیم خود مختار علاقوں میں شمارکیا جاتا ہے حالانکہ 2008 میں سربیا سے آزادی کے اعلان کے بعد سے اب تک اقوام متحدہ کے سو سے زیادہ ممالک اس کی خودمختاری اور آزادی کو تسلیم کر چکے ہیں لیکن سربیا اور حتیٰ کہ روس نے بھی اسے تاحال ایک آزاد اور خودمختار مملکت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جس کی بنیادی وجہ اس کا اسلامی تشخص اور ماضی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کوسوو جس کی سرحدیں سربیا، مونٹی نیگرو، البانیہ اور مقدونیہ سے ملی ہوئی ہیں 15ویں صدی عیسوی سے لیکر 20ویں صدی عیسوی کی دوسری دہائی تک خلافت عثمانیہ کا حصہ رہا ہے اور یہی وہ عرصہ ہے جس کے دوران یہاں اسلام کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا لیکن پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ کی شکست اور جدید ترکی کا خلافت عثمانیہ کے زیر قبضہ علاقوں سے دستبرداری کے بعد دیگر علاقوں کی طرح کوسوو بھی ان علاقوں میں شامل تھا جنہیں پہلی جنگ عظیم کی فاتح اقوام نے آپس میں بانٹ لیاتھا۔ کوسوو کی موجودہ آبادی بیس لاکھ سے کچھ زائد ہے جن میں اکثریت البانوی نژاد مسلمان باشندوں پرمشتمل ہے جب کہ ان کے علاوہ دیگر قابل ذکر آبادکاروں میں سرب، ترک، بوسنیائی اور رومانیہ کے لوگ شامل ہیں۔ تقریباً دس سال تک ناٹو فورسز کے زیر کنٹرول رہنے کے بعد کوسوو نے 2018 میں کوسوو سیکورٹی فورس کو قومی فوج کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا تب سے کوسوو نہ صرف اپنی آزادی اور بقاء کی جنگ کامیابی سے لڑ رہا ہے بلکہ امید ہے کہ وہ یورپ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ بھی بنے گا۔