سانحہ موٹر وے پر کراچی تا اسلام آباد خواتین سراپا احتجاج ، مجرموں کو سرعام پھانسی کا مطالبہ

76

 

کراچی اسلام آباد/لاہور(نمائندگان جسارت)جماعت اسلامی (حلقہ خواتین )کراچی کے تحت کراچی پریس کلب پرایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ، مظاہرہ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور پرانی سبزی منڈی میں 5سالہ بچی کے اغوا وزیادتی اور قتل سمیت خواتین اور بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے اس قسم کے افسوس ناک واقعات کے خلاف کیا گیا ،مظاہرے میں شریک خواتین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ ز اٹھائے ہوئے تھے جن پر خواتین اوربچیوں کے ساتھ زیادتیوں کے خلاف عبارات درج تھیں۔جماعت اسلامی خواتین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے ملک میں بچے، بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے مجرموں سمیت موٹر وے کے حالیہ واقعے اورکراچی میں 5سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اورقتل کرنے والے مجرموں کوکیفرکردار تک پہنچایا جائے، بچوں اور بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی وقتل کے مجرموں کوقانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بِلاتاخیر سرِ عام پھانسی دی جائے۔ آئین ِ پاکستان کے آرٹیکل 35 کے مطابق
شادی، خاندان،ماں اور بچے کی حفاظت کے حوالے سے ریاست اپنی ذمے داری پوری کرے، آئین کے آرٹیکل 37(g) کے مطابق حکومت عصمت فروشی، قمار بازی، ضرررساں ادویات کے استعمال، فحش لٹریچر اور اشتہارات کی طباعت، نشر و اشاعت اور نمائش کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ملک میں حیا کا کلچر عام کیا جائے، ان گھنائونے اوراندوہناک واقعات کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کے ساتھ روابط کے ذریعے پورے ملک میں ایسے اداروں، افراد کا سراغ لگائے جو فحاشی اور برائی پھیلارہے ہیں ، فحش مواد اور فحاشی و عریانی کو فروغ دے رہے ہیں،ملک بھر میں فحاشی و عریانی پر مبنی مواد اور ایسے مواد کو فروخت کرنے، رواج دینے والے ذرائع اور ایسے ہمہ اقسام کے مواد کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عاید کی جائے۔ میڈیا پر ہیجان پھیلانے کے بجائے اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے، بچوں، بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں رہا شدہ مجرموں کا نام ای سی ایل میں ڈالاجائے اور اصل مجرموں کا سراغ لگانے کے لیے کیسز کو ری اوپن کیا جائے۔مظاہرے میں جماعت اسلامی (حلقہ خواتین پاکستان )کی مرکزی جنرل سیکرٹری دردانہ صدیقی ،ناظمہ صوبہ سندھ عطیہ نثار ،ناظمہ کراچی اسما سفیر ویمن اسلامک لائرز موومنٹ کی طلعت یاسمین ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کی جبکہ جماعت اسلامی کراچی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری نے خطاب کیا۔ مظاہرے میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹریزتسنیم معظم ، فرحانہ اورنگزیب ، رعنا فضل، نائب ناظمہ سندھ عظمیٰ عمران، معتمدہ کراچی فرح عمران اور دیگر ذمے داران نے بھی شرکت کی ۔دردانہ صدیقی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ چند سال کے دوران بہت بڑی تعداد میں قوم کی بیٹیاں اور معصوم بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے اوربہیمانہ طریقے سے ان کی زندگیوں کا خاتمہ کیا گیا لیکن افسوس کہ حکومتیں اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے نہ صرف ناکام ہوئے بلکہ مجرموں کو شک کی بنیاد پر ریلیف دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی وارداتوں میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، کراچی کی مروہ، پشاور کی گل پانڑہ اور گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کے ساتھ حالیہ زیادتی کااندوہناک واقعہ، یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑی ہے، لاہور میں 2020ء کے پہلے 2 ماہ میں ہی 73 زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے اور رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد علیحدہ ہے ۔ یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے، جو کہ معاشرے اور حکومت کے لیے لمحہ فکرہے۔عطیہ نثار نے کہاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ،امن وامان کا قیام،چادر و عصمت کاتحفظ اور فوری انصاف کی فراہمی حکومت کی ذمے داری ہے جس میں کوتاہی اور لاپروائی کے نتائج اس طرح کے بھیانک حادثات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اسما سفیر نے کہاکہ المیہ یہ ہے کہ اب تو بڑی شاہراہوں پر بھی خواتین کی عزت محفوظ نہیں رہی ، امن و امان اور سلامتی و تحفظ کے ذمے دار ادارے کہاں ہیں؟ملک میں جنگل کا قانون اور بھیڑیوں کا راج ہے۔بچوں اور بچیوں کو زیادتی کے بعدقتل کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، اگر پہلے ہی واقعے کے بعد جنسی درندوں کو نشان عبرت بنادیا جاتا تو زیادتی کے واقعات کو بڑھنے سے روکا جاسکتا تھا۔ محفوظ اور پاکیزہ معاشرے کاقیام اور استحکام حکومت وقت کی ذمے داری اور ہماری ضرورت ہے۔ خواتین اور بچے بچیوں کے ساتھ درندگی کے مرتکب کسی معافی کے حقدار نہیں، خواتین کی عفت و عصمت کے تحفظ کو لا حق خطرات اور اس سر عام درندگی کے خلاف جماعت اسلامی حلقہ خواتین ملک بھر میں ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔زاہد عسکری نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معاشرے میں خواتین اور بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے جرائم اور مظالم کو روکنے کے لیے وہ تمام عوامل جو اس قسم کے واقعات کو پیدا کرنے کا سبب ہیں ان کا سدباب کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ دین سے دوری، میڈیا کے بعض چینلز کے طرز عمل اورخاص طور پر ہیجان خیز ڈرامے مل کر معاشرے میں بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں حکومت اور میڈیا کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری عملی اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں جبکہ تعلیمی اداروں کو بھی اس حوالے سے اپنا تربیتی نظام مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے ، اسلام آباد میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام نیشنل پر یس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل و سابق ایم این اے عائشہ سید، ڈپٹی سیکرٹری جنرل سکینہ شاہد، نائب ناظمات شمالی پنجاب نذہت بھٹی، کوثر پروین اور رخسانہ غضنفر، ناظمہ ضلع اسلام آباد نصرت ناہید او سابق ایم این اے بلقیس سیف سمیت سیکڑوں خواتین نے شر کت کی اس موقع پر خواتین نے واقعے کے خلاف زبر دست نعرے بازی بھی کی۔ احتجاجی مظاہرے سے جماعت اسلامی اسلام آباد کے نائب امیر محمد کاشف چودھری ، اور ڈاکٹر طاہر فاروق نے بھی خطاب کیا ۔مظاہرین سے خطاب کر تے ہو ئے عائشہ سید نے موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صنف نازک کے ساتھ درندگی کا یہ افسوسناک مظاہرہ انسانیت کے نام پر سیاہ دھبا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محفوظ اور پاکیزہ معاشرے کاقیام حکمرانوں کی اولین ذمے داری اور ہماری ضرورت ہے۔ امن وامان کا قیام، چادر و عصمت کاتحفظ اور فوری انصاف کی فراہمی حکومت کی ذمے داری ہے جس میں کوتاہی اور لاپروائی سے اس طرح کے بھیانک نتائج نکلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تو بڑی شاہراہوں پر بھی خواتین کی عزت محفوظ نہیں رہی، امن و امان اور سلامتی و تحفظ کے ذمے دار ادارے کہاں ہیں؟ملک میں جنگل کا قانون اور بھیڑیوں کا راج ہے۔ بچوں اور بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ اگر ان جنسی درندوں کو بروقت نشان عبرت بنایا جاتا تو زیادتی کے واقعات کو بڑھنے سے روکا جاسکتا تھا۔جماعت اسلامی حلقہ خواتین لاہور نے بھی سانحہ موٹروے کے خلاف لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کی قیادت ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثمینہ سعید،ربیعہ طارق صدر وسطی پنجاب، ڈاکٹر زبیدہ جبیں صدرلاہور، رہنما جماعت اسلامی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ڈائریکٹر فلاح خاندان عافیہ سرور و دیگر قائدین نے کی۔ احتجاجی مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنسی درندگی کرنے والے کو قرآن و سنت کے مطابق سزائیں دی جائے۔ بچوں اور بچیوں کو زیادتی کے بعدقتل کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔جنسی درندگی کرنے والوں کو بروقت نشان عبرت بنایا جائے تو زیادتی کے واقعات کا خاتمہ ممکن ہے۔ معاشرے میں تیزی سے بڑھتا جنسی تشدد، جرائم، لاقانونیت قانون فافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ ذکر اللہ مجاہد نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موٹر وے پر بچوں کے سامنے گن پوائنٹ پر عورت کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو سر عام بھانسی دی جائے۔

کراچی:جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے تحت موٹروے اجتماعی زیادتی واقعہکے خلاف احتجاج کے دوران بچے پلے کارڈ اٹھائے کھڑے ہیں