کراچی کے بلدیاتی میئر شپ کی تاریخ

158

کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی کی بلدیاتی تاریخ مثالی رہی ہے۔ میئر جمشید نسروانجی اور عبدالستار افغانی جیسے لوگ کراچی کے میئر رہے، وسیم اختر جیسے میئر بھی گزرے ہیں،جنہوں نے اس شہر کو گندے پانی میں ڈبو دیا ہے۔

کراچی کی میئر شپ کی مزید تاریخ دیکھتے ہیں۔

شہرقائد میں بلدیاتی حکومت کا آغاز 1933 سے ہوا، جمشید نسروانجی کراچی کے پہلے میئرمنتخب ہوئے جو آج بھی جدید بانی کہلاتے ہیں۔

انیس سو چھپن تک اس شہر کے بیس میئرمنتخب ہوئے، اس کے بعد یہ سلسلہ رک گیا، انیس سواناسی میں جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی سے دوبارہ بلدیاتی نظام چلا۔ مرحوم عبدالستار افغانی دو بار میئر منتخب ہوئے۔

انیس سو اٹھاسی میں ایم کیوایم کے اٹھائیس سالہ ڈاکٹر فاروق ستار کو کراچی کے کم عمر ترین میئرہونے کا اعزاز حاصل ہوا، انیس سو بانوے میں انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔

نوسال بعد مشرف حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چودہ اگست دو ہزار ایک کو نیا بلدیاتی نظام متعارف کرایا، جس کے تحت جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے پہلے ناظم اور تیئسویں مئیر کا حلف اٹھایا۔

اسی نظام کے تحت دو ہزار پانچ کے دوسرے انتخابات میں مصطفی کمال نے ناظم اعلی کی سیٹ سنبھالی۔ اٹھائیس فروری دوہزاردس بطور ناظم اعلی انکا آخری روز تھا۔

دوہزار پندرہ میں وسیم اختر میئر کراچی منتخب ہوئے اور 30 اگست دوہزار بیس کو ان کی مدت ختم ہوئی۔