ناروے میں بھی قرآن کریم کی بے حرمتی پر ہنگامہ

203
اوسلو: نسل پرستوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف مسلمان سراپا احتجاج ہیں

اوسلو (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی یورپ کے ملک سوئیڈن میں جمعہ کے روز قرآن کریم کی بے حرمتی اور اس کے نتیجے میں فسادات کے بعد ناروے میں بھی اسی نوعیت کا اشتعال انگیز واقعہ رونما ہوگیا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں پارلیمان کی عمارت کے باہر اسلام مخالف مقامی نسل پرست تنظیم اینٹی اسلامائزیشن آف ناروے نے سرعام قرآن کریم کی بے حرمتی کی۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ ایک مظاہرے کا انعقاد کیا گیا اور بھرپور شرکت کی دعوت دی گئی۔ اسلام دشمنوں نے اس دوران قرآن کریم کے اوراق شہید کرنے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں مسلسل گستاخی بھی کی۔ انہیں اس اشتعال انگیزی سے روکنے کے لیے بڑی تعداد میں مسلمان بھی جمع ہوئے، جنہیں پولیس نے آہنی رکاوٹیں رکھ کر نسل پرستوں سے دور رکھا۔ مسلمان نوجوان تمام رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے اسلام دشمنوں کی جانب بڑھے اور نسل پرست انہیں آتا دیکھ کر فرار ہوگئے۔ پولیس نے مسلمانوں کو روکنے کے لیے اشک آور اسپرے کا استعمال کیا اور 29بھر نوجوانوں کو حراست میں لے لیا، جن میں نوعمر لڑکے بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نسل پرست خاتون کو پہلے بھی نفرت انگیز تقاریر کرنے پر جرمانہ کیا جا چکا ہے۔ اس عورت ہی نے قرآن کریم کی بے حرمتی کی جسارت کی۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز سوئیڈن کے ایک شہر مالمو میں نسل پرست اسلام دشمنوں نے قرآن کریم کی بے حرمتی کی تھی، جس کے بعد شہر میں ہنگامے اور فسادات شروع ہوگئے تھے۔ سوئیڈش پولیس نے مذہبی نفرت پھیلانے کے الزام میں 3 افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔