شام کی 9 سالہ جنگ میں ایک لاکھ شہری لاپتہ

213

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ کے جنگ زدہ ملک شام میں مارچ 2011ء سے اب تک تقریباً ایک لاکھ لوگ لاپتا ہیں۔ یہ بات انسانی حقوق کے نگران ادارے شامی نیٹ ورک کی جانب سے جبری نقل مکانی کے شکار افراد کے بین الاقوامی دن کے موقع پر شائع کردہ رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ شامی نیٹ ورک کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ مارچ 2011ء سے اگست 2020ء کے دوران 99 ہزار 479 شہری لاپتا ہوئے، جن میں سے اکثر کو بشارالاسد کی فوج اور اس کے بعد داعش نے اغوا کیا۔ رپورٹ کے مطابق اسدی فوج کے ہاتھوں لاپتا ہونے والوں کی تعداد 84 ہزار 371 ہے، جن میں 1738 بچے اور 4982 خواتین بھی شامل ہیں۔ جب کہ داعش کے ہتھے چڑھنے والے شہریوں کی تعداد 8648 ہیں، جن میں 319 بچے اور 225 خواتین شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسدی فوج نے ان میں سے 991 افراد کی زیرحراست ہلاکت کا اعتراف کرچکی ہے، جن میں 9 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں۔ شامی نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں اسد حکومت نے بین الاقوامی معاہدوں اور سمجھوتوں کی خلاف ورزی کی ہے، اور اسدی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدہ کیے گئے تقریباً 65 فیصد افراد کے اہل خانہ کو ان کی زندگی یا حراستی مقام سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئی۔