جرمنی میں حجاب مخالف مہم کو دھچکا ، پابندی کالعدم

429

 

برلن (رپورٹ: منیب حسین) یورپ کے کئی ممالک میں آئین اور قانون کا سہارا لیتے ہوئے اسلامی شعائر کے خلاف منظم مہم جاری ہے۔ ہر وقت شخصی اور مذہبی آزادی کی بالادستی کا راگ الاپنے والی یورپی اقوام کے سامنے جب مسلمانوں کی دینی علامتوں اور مظاہر کا معاملہ آتا ہے، تو وہ اپنی تمام خوش نما باتیں چھوڑ کر انہیں یورپی ثقافت کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مہم شروع کردیتی ہیں۔ ان مسائل میں سے ایک حجاب کا معاملہ ہے، جو کئی یورپی ممالک میں ایک سیاسی اور سماجی معرکہ بنا ہوا ہے۔ فرانس، جرمنی، بلجیم، آسٹریا، بلغاریا، ایسٹونیا، لٹویا، لکسمبرگ، ہالینڈ، نمارک، ناروے، سوئیڈن، سوئٹزرلینڈ اور اسپین میں وفاقی یا ریاستی سطحوں، سرکاری محکموں اور تعلیمی اداروں وغیرہ میں کسی نہ کسی صورت حجاب یا نقاب پر پابندی ہے۔ تاہم ان ممالک کے مسلمان اس مہم کے خلاف عدالتوں میں مقدمات لڑ رہے ہیں۔ جرمنی میں بھی اس معاملے پر قانونی جنگ جاری ہے، جہاں کی 16 میں سے 8 ریاستوں نے حجاب پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ان ریاستوں میں دارالحکومت برلن بھی شامل ہے۔ ایک تازہ اور خوش آیند پیش رفت میں جرمنی کی فیڈرل لیبر کورٹ نے اپنے فیصلے میں اسکولوں کے اندر استانیوں کے حجاب پہننے پر پابندی کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔ وفاقی عدالت کا یہ فیصلہ ایک مسلمان خاتون کی جانب سے جاری طویل قانونی جنگ کا نتیجہ ہے۔ حجاب کے باعث اس خاتون کے برلن کے سرکاری اسکول میں پڑھانے پر پابندی لگادی گئی تھی۔ تاہم اب وفاقی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ اس خاتون کے ساتھ اس کے مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا۔ یاد رہے کہ اس مسلمان خاتون کو ملازمت کے لیے انٹرویو کے دوران کہا گیا تھا کہ اگر انہوں نے حجاب پہننا جاری رکھا تو اسے برلن کے اسکولوں میں پڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس پر وہ اپنا معاملہ برلن برینڈن برگ کی لوئر لیبر کورٹ میں لے گئی تھی۔ اس مقدمے کا فیصلہ نومبر 2018ء میں سنایا گیا تھا، جس میں ماتحت عدالت نے خاتون کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔تاہم برلن برینڈن برگ لیبر کورٹ کے حکم کے خلاف مقامی انتظامیہ نے وفاقی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ اس عدالت نے بھی جمعرات کے روز اپنے فیصلے میں ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا، یوں یہ قانونی جنگ اپنے خوش آیند اختتام کو پہنچی۔ اسلامی شعائر کے حوالے سے یورپ کے گھٹے ہوئے ماحول میں اس پیش رفت کو ایک حوصلہ افزا خبر قرار دیا جارہا ہے۔