تجارتی اور صنعتی خبریں

189

jasarat.qazijavaidgmail.com

 مہنگائی بڑھ رہی ہے،میاں زاہد حسین
جی آئی ڈی سیس کاقابل قبول حل نکا لا جائے ،برآمدات اور ترسیلات میں اضافہ وقتی ہو سکتا ہے
آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک کی اقتصادی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے تاہم منافع خوری کی وجہ سے مہنگائی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے جس کاکوئی حل نہیں نکالا جا سکا ہے،اگر توانائی اور ٹیکس کے شعبوں میں اصلاحات کی جائیں تو ملکی معیشت کی سمت درست ہو سکتی ہے۔ میاں زاہد حسین نے ایک بیان میں کہا کہ مسلسل چوتھے مہینے میں جاری حسابات کا خسارہ سرپلس میں جا رہا ہے تاہم اس میں حکومت کے ساتھ کرونا وائرس کی کوششوں کا بھی دخل ہے، لاک ڈاﺅن کی وجہ سے اشیاءکی طلب میں کمی آئی ہے جبکہ درآمدکنندگان کے پاس سرمایہ ہی نہیں ہے تو درآمدات نے کم ہی ہونا ہے،برآمدات اور ترسیلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو کہ وقتی ثابت ہو سکتا ہے تاہم صنعتی شعبہ چل پڑا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت کو جی آئی ڈی سیس پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے پیدا ہونے والی صورتحال کا حل نکالنا ہوگا کیونکہ صنعتی سیکٹرمیں 460ارب روپے دو سال میں ادا کرنے کی سکت نہیں ہے اورسختی کرنے سے ےہ شعبہ مکمل طور پر بیٹھ جائے گ

 شپنگ کمپنیوں کونئے جہازوں کی خریداری ریں
یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے سیکریٹری جنرل اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدرزبیرطفیل نے کہا ہے کہ کہ کئی دہائیوں سے شپنگ سیکٹر کو نظر انداز کیا گیا لیکن وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کی اعلان کردہ شپنگ پالیسی ملک میں نئے جہازوں کو لانے کا سبب بنے گی اور شپنگ پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے ، خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت نے نئے جہاز کی خریداری آئندہ دس سالوں میں یعنی 2030 تک کسٹم ڈیوٹی، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس سے مستثنیٰہوگی اور ان جہازوں کو فرسٹ برتھ کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اوراس کی آمدنی پربھی ٹیکس عائد نہیں ہوگا جبکہ نجی شپنگ کمپنیوں کو مراعات دی گئی ہیں اس لئے قوی امید ہے کہ یہ پالیسی پاکستان میں نئے پرائیویٹ جہازوں کے لانے میں مدد دےگی اور نئے جہاز پاکستانی پرچم کے ساتھ دنیا بھر کا سفر کریں گے۔شپنگ سیکٹر سے وابستہ کاروباری افراد سے گفتگو کرتے ہوئے زبیرطفیل نے کہا کہ شپنگ پالیسی میں یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وزارت میری ٹائم افیئر کی درخواست پر لانگ ٹرم فنانس سہولت کے لیے ماہی گیروں کو بھی شامل کیا

 کراچی کو” آفت زدہ “ قرار دینے کا مطالبہ کردیا

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر آغا شہاب احمد خان نے شدید بارشوں سے کراچی کو پہنچنے والی نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ ہے کہ کراچی کو فوری طور پر ”آفات زدہ“ قرار دیتے ہوئے امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے کیونکہ متعدد علاقوں میں سیکڑوں مکانات ڈوب گئے ہیں باالخصوص نشیبی علاقوں میں واقع مکانات مکمل طور پر بہہ گئے ہیں اور ان کے علاقوں کے چاروں طرف بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال کی وجہ سے ایک بہت بڑی آبادی گھروں کی چھتوں پر پھنس کر رہ گئی ہے۔آغا شہاب نے ایک بیان میں کہا کہ کراچی کی غریب آبادی معاشرے کا سب سے زیادہ متاثر طبقہ ہے کیونکہ وہ منگل کی غیر معمولی موسلا دھار بارش کے دوران اپنے گھروں اور دیگر تمام سامان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لہٰذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو فوری طور پر مالی مدد کی صورت میں متاثرین کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے

کراچی سبزی منڈی میں بارش  سے کاروبار  معطل

شہر میںہونے والی طوفانی بارش میںکراچی کی سبزی منڈی میں ڈوب گئی اور کاروبار جزوی طور پر معطل ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق سبزی منڈی کے داخلی اور خارجی راستے پر بارش کا پانی کھڑا ہے جبکہ سبزی منڈی کے اندر بھی پانی کھڑا ہونے کے ساتھ ساتھ کیچڑ اور گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں،داخلی و خارجی راستوں پر پانی کھرا ہونے کے باعث مال بردار گاڑیوں اور نجی گاڑیوں کی سبزی منڈی میں آمد و رفت میںشدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ درجنوں مال بردار ٹرک کیچڑ میںپھنس گئے،سبزی منڈی کے اندر بارش کا پانی جمع ہونے سے سبزی سیکشن زیاہد متاثر ہوا ہے جہاں بیشتر دکانیں بند ہیںاور دکاندار حضرات گوداموں سے بارش کا پانی نکالتے رہے ،سبزی منڈی آنے والے راستوں سپر ہائی وے پر بھی متعدد مقامات پر بارش کا پانی کھڑا ہے جس کے باعث منڈی آنے والے خریداروں کو بھی دشواریوں کا سامنا ہے ۔

مرکنٹائل ایکس چینج میں 6.4ارب روپے کے سودے
پا کستان مرکنٹائل ایکسچینج لمیٹڈ میںگزشتہ روزپی ایم ای ایکس میں میٹلز, انرجی, کوٹس/فاریکس اورایکویٹی کے 6.394ارب روپے مالیت کے سودے ہوئے جن کی مجموعی تعداد8,315رہی۔سب سے زیادہ سودے سونے کے ہوئے جن کی مالیت 3.665ارب روپے تھی جبکہ چاندی کے سودوں کی مالیت 883.333ملین روپے رہی۔

سندھ میں سی این جی اسٹیشنز کھل گئے
سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کے تحت کراچی سمیت سندھ بھر کے سی این جی اسٹیشنز کوجمعرات صبح آٹھ بجے سے گیس فراہمی بحال کردی جائیگی۔ ترجمان ایس ایس جی سی کے مطابق صوبے بھر میںسی این جی اسٹیشنز کو منگل کی صبح آٹھ بجے سے جمعرات کی صبح آٹھ بجے تک 24 گھنٹے کےلئے گیس فراہمی معطل رکھنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے۔

اسٹیٹ بینک میں یوم عاشور پر تعطیل کا اعلان
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ29اور30اگست کو عاشورہ محرم الحرام کے باعث اسٹیٹ بینک بند رہے گا ۔اسٹیٹ بینک کے مطابق اس علان کے تحت اسٹیٹ بینک اور اس کے تمام ذیلی دفاتر مکمل طور پر بند رہیں گے ۔

علما یونیورسٹی میں منیجمنٹ سائنسز اور انٹرپرینیورشپ پر بین الاقوامی ورچوئل کانفرنس
علما یونیورسٹی 25 اور 26 ستمبر 2020ءکو منیجمنٹ سائنسز اور انٹرپرینیورشپ سے متعلق 13 ویں بین الاقوامی ورچوئل کانفرنس کا انعقاد کرے گی جو کہ علماءیونیورسٹی کی طرف سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز ساری دنیا کے ممتاز شرکاءکے ساتھ اس ورچوئل عالمی کانفرنس کو منعقد کرانے میں نمایاں ہے، جس کا سب سے اہم مقصد تعلیمی اداروں اور کارپوریٹ سیکٹر کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں وہ آپس میں معلوماتی تبادلوں کے ساتھ ساتھ اس اہم شعبے میں حاصل کئے گئے مختلف سنگ میل کا اظہار بھی کر سکیں۔ مزید اس کانفرنس کے ذریعے ، علما یونیورسٹی عالمی سطح پر ان شعبہ جات میں ایک مثبت تنوع لانے کے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے آن لائن دروازے کھول رہی ہے۔

گولڈمارکیٹ

انٹرنیشنل گولڈمارکیٹ میں گزشتہ روز سونے کی فی اونس قیمت میں3ڈالرز کی کمی ہوئی جس کے بعد سونے کی فی اونس قیمت1920ڈالرز کی سطح پر آگئی۔عالمی گولڈ مارکیٹ میںسونے کے نرخوںمیںکمی کے باعث مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت 100روپے کمی سے 1لاکھ16ہزار500اور دس گرام سونے کی قیمت 86روپے کمی سے99ہزار880روپے کی سطح پر آگئی جبکہ چاندی کی فی تولہ قیمت 50روپے کمی سے1380روپے ریکار ڈ کی گئی۔

پاکستان اسٹا ک ایکس چینج

پاکستان اسٹا ک ایکس چینج میں بدھ کو بھی کاروبار حصص میں تیزی کا تسلسل برقرار رہا اور کے ایس ای 100انڈیکس مزید569.77پوائنٹس کے اضافے سے40862.59پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیا جب کہ59.37فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں 79ارب1کروڑ46لاکھ روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تاہم حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم منگل کی نسبت2کروڑ70لاکھ72ہزار شیئرز کم رہا۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میںبدھ کو کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع بخش کمپنیوں کے شیئرز کی خریداری میں زبردست دلچسپی کے سبب تیزی دیکھنے میں آئی

کرنسی مارکیٹ

مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مزید 20پیسے کے اضافے سے 169روپے کی بلند سطح پر پہنچ گیا۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو انٹر بینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قیمت خرید5پیسے کے اضافے سے168.35روپے سے بڑھ کر168.40روپے اور قیمت فروخت24پیسے کے اضافے سے168.41روپے سے بڑھ کر168.65روپے ہو گئی جبکہ مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں20پیسے کا اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں ڈالر کی قیمت خرید168.40روپے سے بڑھ کر168.60روپے اور قیمت فروخت168.80روپے سے بڑھ کر169روپے تک جاپہنچی۔دیگر کرنسیوں میں یورو کی قیمت خرید 197روپے سے بڑھ کر197.50روپے اور قیمت فروخت 199روپے سے بڑھ کر199.50روپے ہوگئی جبکہ برطانوی پونڈ کی قیمت خرید 218.50روپے سے بڑھ کر219.50روپے اور قیمت فروخت220.50روپے سے بڑھ کر221.50روپے ہوگئی۔

 لکی سیمنٹ کو 7.32ارب روپے کا منافع
لکی سیمنٹ لمیٹڈ نے 30جون2020ءکو ختم ہونے والے مالی سال میں6.13ارب روپے کے بعد ازٹیکس منافع کا اعلان کیا ہے۔یہ منافع اقلیتی حصص داران (نان کنٹرولنگ انٹرسٹ )کے 1.19ارب روپے کے علاوہ ہے ۔ کمپنی کی فی حصص آمدنی پچھلے مالی سال کے 35.03روپے کے مقابلے میں 18.96روپے رہی۔مجموعی طور پرکمپنی کاٹرن اوور162.87ارب روپے رہاجو پچھلے سال کی اسی مدت کے136.59ارب روپے کے مقابلے میں19فیصد زیادہ ہے۔گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں مالی سال 2019-20کے دوران کمپنی کے مجموعی منافع میں 45.9فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس کی بنیادی وجہ ہولڈنگ کمپنی کے خالص منافع میں 79فیصد کمی ہے جوکہ کم مارجن اور زیادہ پیداواری لاگت کے باعث رہی۔ ہولڈنگ کمپنی کے خالص منافع میںکمی کو گزشتہ سال کے مقابلہ میں غیر ملکی آپریشنز (ایل سی ایل انوسٹمنٹ ہولڈنگ لمیٹڈ )کے خالص منافع میں نمایاں اضافے کی وجہ سے جزوی طورپر پورا کیا گیا۔ مشکل معاشی حالات اور چیلنجنگ مارکیٹ کے باوجود فروخت کے حجم میں اضافے،کانگو اور عراق دونوں پراجیکٹس کی قیمتوں میں اضافے اورپیدواری لاگت میں کمی کی وجہ سے خالص منافع میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ آئی سی آئی کا منافع گزشتہ سال کے برابر رہا جبکہ آٹو موبائل سیگمنٹ کے منافع میں اضافے کا بھی خالص منافع کو بہتر بنانے میں اہم کردار رہا۔