کشمیر جلد آزاد ہوگا‘ فلسطین کے دوریاستی حل کے حامی ہیں‘ صدر علوی

124
اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ بھارت میں ہندوتوا فاش ازم نہیں چل سکتا اور جلد کشمیر آزاد ہوگا، ہم کشمیریوں کو تنہا نہیںچھوڑیں گے۔جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے تیسری بار خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اسرائیل کے معاملے پر 2ٹوک بیان دیا، انہوں نے واضحکر دیا کہ فلسطینیوں کو حقوق ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے، اسرائیل کے بارے میں قائداعظم محمد علی جناح کی پالیسی پر قائم ہیں،اسرائیل اور فلسطین کے 2 ریاستی حل کے حامی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ دوستی مستحکم ہے اور رہے گی۔عارف علوی کا کہنا تھا کہ کرپشن پرکوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، اس معاملے میں فوج ، عدلیہ، میڈیا، سمیت تمام ہمارے ساتھ ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ ترقی کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، مشکل حالات کے باوجود معیشت کامیابی کی طرف گامزن ہے، موڈیز اور فچ نے پاکستان کی معاشی درجہ بندی کو بہتر بنایا ہے، دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل سے ملکی توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی، ایم ایل ون منصوبے سے تیز ترین سفری سہولیات میسر ہوں گی، تعلیم کے فروغ، صحت کارڈ اور یکساں قومی نصاب کی تیاری حکومت کے اہم اقدامات ہیں۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ سائنس اور ڈیٹا کے حوالے سے طارق بن زیاد ذہن میں آتا ہے جس نے کشتیاں جلائیں اور فتح حاصل کی، ہم نے ایسا ہی ویژن اختیار کیا کہ تاکہ معیشت بھی چلے اورعبادت گاہیں بھی کھلی رہیں۔ اللہ کی مدد تب آتی ہے جب آپ امت کا خیال رکھیں،ا سمارٹ لاک ڈاؤن کامیاب رہاعوام اور علما کا بھی اس حوالے سے شکر گزار ہوں۔انہوںنے کہا کہ انسانی حقوق کے طعنے دینے والے خود 100 مہاجرین کو بھی پناہ نہیں دے سکتے، افسوس کی بات ہے پاکستان میں اچھی خبروں کا پرچار نہیں کیا جاتا، نئی حکومت آئی تو ملک کرپشن میں جکڑا ہوا اور قرض میں ڈوبا ہوا تھا، ہمیں آتے ہی آئی ایم ایف اور دوستوں سے امداد کا مشورہ دیا گیا۔ قوم کی ہمت بندھانے کی بجائے ہمیں کہا گیا یہ نہیں کیا گیا وہ نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ملکی آبادی میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے قومی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے، خواتین کے حق ِوراثت کی پاسداری کو یقینی بنانا چاہیے، وفاقی اور صوبائی حکومت کے تعاون سے کراچی کے مسائل پر قابو پایا جا سکے گا، قوم نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور دیگر چیلنجوں پر کامیابی کے ساتھ قابو پایا ہے، کورونا صورتحال کے دوران کمزور طبقات کے لیے ریلیف پیکیج قابل ستائش اقدام ہے۔اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے بھی شرکت کی جب کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف، آصف زرداری اور بلاول زرداری موجود نہیں تھے ۔صدر مملکت کرنٹ اکائونٹ خسارے سے لاعلم نکلے، وزیراعظم نے تصحیح کروائی۔ خطاب میں صدر ساڑھے 8ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ بتاتے رہے، وزیراعظم نے صدر کو بتایا یہ خسارہ 3ارب ڈالر ہے۔صدر مملکت نے اپنی تقریر فی البدیع پڑھنا شروع کی تو اس موقع پر حکومتی ارکان نے نے ڈیسک بجا کر داد دی۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی اچھی تقریر کرنے پر متعدد بار ڈیسک بجاکر انہیں داد دی ۔قبل ازیں صدر مملکت کے خطاب کا آغاز ہوتے ہی اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے ڈیسک بجانا شروع کردییجس پر صدر نے اپنا باقاعدہ خطاب شروع کرنے سے پہلے برجستہ کہا کہ میں سمجھتا تھا گزشتہ سال کی نسبت آرام سے تقریر سن لی جائے گی۔بعد ازاں واک آؤٹ کردیا،اپوزیشن ارکان نے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔