تعلیمی اداروں میں طلبا سے ہراسانی کے خلاف تحفظ کابل  سینیٹ میں پیش

218

اسلام آباد:سینیٹ کے اجلاس میں تعلیمی اداروں میں طلبا سے ہراسانی کے خلاف تحفظ کا بل پیش کیا گیا ،بل سینیٹر جاوید عباسی نے پیش کیاجو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپردکردیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بل میں کہاگیاہے کہ ہراسانی کے جرم کے ارتکاب کے 7دن کے اندر شکایت درج کی جائے گی،زبردستی ہراسانی ، تشدد ، بداخلاقی اور اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق تحریری شکایت پیش کی جائے گی۔

بل میں واضح کہا ہے کہ گواہوں کی موجودگی میں ان کی فہرست پیش کی جائے گی،مدرسے ،اسکول، کالج ، ٹیوشن سینٹرز اور ووکیشنل اداروں کی ہراسانی شکایت ڈپٹی کمشنر کے پاس درج کی جائے گی،جبکہ جامعات یا ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعلیمی اداروں کی شکایت چیئرمین ایچ ای سی کو دی جائے گی۔

بل میں مزید کہا ہے کہ ہراسانی کی شکایت کو 30روز کے اندر نمٹانا ہوگا،جس کے لیے ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے گی،انکوائری کمیٹی نے اگر متعلقہ شخص کو ہراسانی کا مرتکب پایا تو سزا تجویز کرے گا۔

اسی طرح بل میں مزید بتایا گیا کہ ہراسانی پر بڑی سزا میں جبری ریٹائرمنٹ ، ملازمت سے برطرفی اور عہدے کا درجہ کم کردینے کی سزا شامل ہے،انکوائری کمیٹی جنسی تشدد کے کیسز پولیس یا کورٹ کو کرمنل کارروائی شروع کرنے کے لیے بھیجے گی۔

تعلیمی ادارے کی انتظامیہ کی سزا پر عملدرآمد میں ناکامی پر اسے 5لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا،ڈانٹ ، ڈپٹ، ترقی، انکریمنٹ روکنا اور متاثرہ شخص کو معاوضہ چھوٹی سزاؤں میں شامل ہوگا۔

دوسری جانب سینیٹ نے انسداد دہشت گردی کاترمیمی بل منظور کرلیا،بل قومی اسمبلی سے منظور شدہ ہے،جماعت اسلامی ، پی کے میپ، نیشنل پارٹی ، جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیٹرز نے بل پر بات نہ کرنے کی اجازت نہ دینے پر احتجاج کیا۔