بالشتیے

275

 خدا جانے وہ کون لوگ ہیں جو ایسے لوگوں کو گود لیتے ہیں جو ذہنی طور پر معذور ہوتے ہیں انہیں پال پوس کر جوان کرتے ہیں یہ لوگ جسمانی اعتبار سے تو بڑے ہوتے ہیں مگر ذہنی طور پر بچے ہوتے ہیں بونوں اور کوتاہ قامت لوگوں کی اس طرح پرورش کی جاتی ہے کہ وہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتے ہیں۔ گزشتہ دنوں عدالت عظمیٰ نے خواجہ بردارن کے خلاف پیراگون ہائوسنگ کیس میں جو تفصیلی فیصلہ سنایا ہے قوم پہلے ہی اس سے آگاہ ہے۔ ہم ایک مدت سے انہیں کالموں میں گزارش کرتے رہے ہیں کہ قوم پر مسلط ہونے والے حکمران حرص و ہوس کے جذام میں مبتلا ہیں۔ جب تک ان کا راستہ نہیں روکا جائے گا صحت مند ماحول پروان نہیں چڑھ سکتا۔ عدالت نے اپنی آبزرویشن میں لکھا ہے کہ بونے اور پست قامت لوگوں کو سلیکٹ کیا جاتا ہے، انہیں پروان چڑھایا جاتا ہے، ان کی پرورش کی جاتی ہے۔ اور پھر انہیں اقتدار میں لایا جاتا ہے۔ بد نما ماضی اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والوں کو قوم پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں اعتراف کیا ہے کہ نیب کا قانون سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نیب سیاستی وفاداریاں تبدیل کرانے سیاسی جماعتوں کو توڑنے اور مخالفین کو سبق سکھانے کے لیے یک طرفہ احتساب کرتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کی آبزرویشن قوم کا مشاہدہ ہے۔ مگر قوم اس حقیقت سے بھی آگاہ ہے کہ عدالتیں قومی خزانے پر بوجھ ہیں۔ جج اور جسٹس صاحباں صرف تنخواہ لیتے ہیں اور چھوٹے ملازمین کو خانہ زاد سمجھتے ہیں۔ یہ کیسی بد نصیبی ہے کہ جج اور جسٹس صاحبان ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ ہم انصاف نہیں کرتے فیصلہ کرتے ہیں اور فیصلہ کسی ایک فریق کے خلاف ہوتا ہے۔ مسند انصاف پر براجمان شخص اللہ کا نائب ہوتا ہے اور وہ انصاف کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ شیطان کا جان نشین صرف فیصلہ کرتا ہے انصاف اور فیصلے میں یہی فرق ہے کہ اللہ کا نائب انصاف کرتا ہے اور ابلیس کا نائب صرف فیصلہ کرتا ہے وہی فیصلہ جو اس نے سیدنا آدم کو سجدہ نہ کرتے وقت کیا تھا۔
بعض سیاستی مبصرین کا کہنا ہے کہ نیب ہی کو مورد الزام کیوں ٹھیرایا جائے پاکستان کا ہر ادارہ تو کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے کہ کیسی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ صدر مملکت عارف علوی کہتے ہیں کہ کرپشن تو رسول پاک کے دور میں بھی ہوتی تھی۔ وزیر اعظم عمران خان تو پہلے ہی فرما چکے ہیں کہ (نعوذ باللہ) صحابہ کرام کرپٹ اور بھگوڑے تھے۔ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے معاملے میں تو سب ہی بول رہے ہیں کیا یہ حیرت اور دکھ کی بات نہیں کہ صدر مملکت کے فرمان پر سب ہی خاموش ہیں۔ عادل اعظم نے حکمرانوں کے لیے ایک لفظ pygmy لکھا ہے بعض مبصرین کہا کہنا ہے کہ اس کا مطلب بونا نہیں ہے مگر ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہماری پاس اس کا متبادل لفظ موجود نہیں، ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو مگر اردو میں چھوٹے قد کے آدمی کے قد کی مناسبت سے کئی لفظ موجود ہیں مثلاً کوتاہ قامت، پست قامت، ٹھگنا، بونا اور بالشتیہ موجود ہیں۔ پشتو زبان میں بہت ہی چھوٹے قدکے آدمی کو ولیش بوٹا کہتے ہیں۔ ولیش بوٹے پر ہمیں یاد آیا کہ صدر ایوب خان کے دور میں شجر کاری کی مہم کی تیاری ہونے لگی تو انہوں نے گزشتہ سال کی شجری کاری کی رپورٹ طلب کرلی اور یہ جان کر حیران رہ گئے کہ گزشتہ سال جو شجر کاری کی گئی تھی اس کے دو فی صد پودے بھی باقی نہیں۔ متعلقہ افراد سے جواب طلب کیا گیا تو بتایا گیا کہ بکریاں بوٹے کھا گئی ہیں۔ اس زمانے میں ٹیڈی بکریاں بہت ہوا کرتی تھیں مالکان انہیں باہر چھوڑ دیا کرتے تھے۔ جو کچھ ملتا اس سے پیٹ بھر لیا کرتی تھیں۔ اس دور میں لوگ صبح صبح اپنی مرغیاں بھی باہر نکال دیتے تھے انڈے دینے والی مرغیاں وقت پر اپنے ڈربے میں انڈے دے کر باہر چلیں جاتی تھیں۔ پاکستان کی معاشی اور سیاسی حالت کو سدھارا جاسکتا ہے اس کے لیے کمیٹی اور کمیشن کی کوئی ضرورت نہیں صرف ایوب خان کے دور حکومت کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ ایوب خان کے دور میں گندم 14روپے من فروخت ہوتی تھی۔ اور پورے پاکستان میں اسی قیمت میں فروخت ہوتی تھی۔ حتی کہ گلگت میں گندم پنجاب سے جاتی تھی جس کا کرایہ گند م کی قیمت جتنا ہی ہوتا تھا۔ مگر وہاں بھی گندم 14روپے ہی فروخت ہوتی تھی۔