عنایت علی خان کے لیے بہار کا مژدہ

316

بہترین شعر جمالیاتی اظہار کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ پھر اگر مقصد اعلیٰ ہو اور انسانیت کی معراج نظر میں ہو تو شاعر کی شاعری پڑھنے والے کے دل و دماغ کو بلند پروازی کی طرف مائل کردیتی ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری مقصد اور تعمیری سوچ سے بھری پڑی ہے۔ عالمی ادب میں جو اُس کا مقام ہے اس کی وجہ جمالیاتی اظہار کی بلند پایہ کیفیت ہے جو قاری کو ایک سحر میں مبتلا کردیتی ہے اور زندگی میں مثبت سوچ دل کے تاروں میں ارتعاش پیدا کرکے عمل کے لیے آمادہ کرتی ہے۔ تنقید نگاروں کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ ادب بالخصوص شعر میں مقصدیت اُس کے حسن کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی بنیاد میں یہ سوچ ہے کہ وہ شاعری کو محض مسرت و شادمانی یا جذبات کے اُتار چڑھائو کے اظہار کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ ادب اگر انسان کے دل کی کیفیت پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے تو اس کا لازمی مطلب ہے کہ وہ اس کے عمل کو تبدیل کرنے کی قوت رکھتا ہے۔
آپؐ نے امراء القیس کی شاعری کے اسی پہلو کی طرف توجہ دلا کر کہا تھا کہ کیوں کہ اس کی شاعری معاشرے میں غیر اخلاقی جذبات و اعمال کا سبب ہے تو یہی چیز اسے جہنم کا سردار بنانے کی وجہ ہوگی۔ سو اگر ادب و شعر معاشرے میں تہذیب و اخلاق اور سوچ کی بلند پروازی عطا کرے تو وہ جنت کا سردار بنانے کی وجہ بھی یقینا ہوگی۔ پروفیسر عنایت علی خان کے بارے میں اگر یہ خوشخبری سنائی جائے تو بالکل درست ہوگی (ان شاء اللہ) انہوں نے تو جیسے اپنی شاعری کو اسلام کا پیغام عام کرنے کا ذریعہ بنایا ہوا تھا۔ طنزو مزاح اور سنجیدہ دونوں میدانوں میں اپنے پیغام کو وہ یکساں مہارت سے پیش کرتے تھے، نہ وہ مولوی ٹائپ خشک پروفیسر ہیں اور نہ ہی مزاح برائے مزاح پر اکتفا کرتے ہیں کہ اُن کہ ہاں تو
شگفتگی بھی ہے، تاثیر بھی، بصیرت بھی
ادب میں اُن کی شناخت طنز و مزاح ہے، وہ طنز و مزاح کے پردے میں وہ سب کہہ جاتے ہیں جو کہنا چاہتے ہیں، اور لوگ مزے بھی لیتے ہیں۔
شیخ کے منہ سے تو نکلی ہی مزے کی باتیں
ہم یہ سمجھے تھے کہ کچھ نام خدا کا ہوگا
ہنستے ہنستے لوگوں کو آئینہ دکھانے کا فن انہیں اکبر الٰہ آبادی کے قریب لے جاتا ہے۔ فکر کی باریکی پر ہنسی بھی اور آنکھوں میں آنسو بھی بیک وقت لانا کمال ہی تو ہے۔
درد فراق کی کسک، شوق کی نارسائیاں
چشم فلک کی چشمگیں، دہر کی کج ادائیاں
جن سے وفا کی تھی اُمید ان کی وہ بے وفائیاں
برق تبسم اُن پہ اک میری طرح گرائیے
آپ بھی مسکرائیے
سنجیدہ شاعری میں اُن کی حمد و نعت کا مقام بہت بلند ہے۔ عشق حقیقی کی جس کیفیت میں وہ شعر کہتے ہیں پڑھنے والا اپنے دل میں ویسی نہیں تو اُس سے کم بھی نہیں کیفیت محسوس کرتا ہے۔ مگر پڑھ پڑھ کر اور سن سن کر دل نہیں بھرتا۔
حرم والے سے جب تک ربط تھا اپنے مقابل میں
کوئی قیصر نہ کوئی وارث دارا و جم ٹھیرا
مگر جب اُس سے منہ موڑا تو اِس حالت کو ہم پہنچے
ہمارا مرتبہ دنیا کی سب قوموں سے کم ٹھیرا
اعتراف کے پردے میں عشق کا اظہار ملاحظہ فرمائیں
مجھے تونے جو بھی ہنر دیا ہے بہ کمال حسنِ عطا دیا
مرے دل کو حبِ رسولؐ دی، مرے لب کو ذوقِ نوا دیا
میں مدار جاں سے گزر سکا تو تری کشش کے طفیل سے
یہ ترے کرم کا کمال تھا کہ حصارِ ذات کو ڈھا دیا
انسان کے لیے حصار ذات کیسا مقام لاتا ہے انہیں بخوبی احساس بھی ہے اور احساس دلانا بھی چاہتے ہیں۔
قلبِ انساں سے خدا بننے کی خواہش نہ گئی
گرچہ واقف ہے کہ اس جرم میں تعزیر بھی ہے
اگر کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ عنایت علی خان کی مزاحیہ شاعری نے اُن کی سنجیدہ شاعری کو دبا دیا ہے تو یہ بات ٹھیک نہیں۔ ان کا مزاح تو ایک ہلکا سا پردہ ہے جس کے اندر تہذیب و اقدار اور معاشرے کے زوال کا انتہائی سنجیدہ نوحہ سنائی دیتا ہے۔
یہ ہوسکتا نہیں کیوں پاس آخر؟
مرا بیٹا شریعت بل نہیں ہے!
یہ پھر ٹوٹے گی اور یہ پھر بنے گی
کہ کابینہ ہے میرا دل نہیں ہے
پروفیسر صاحب کے خاندان نے 1948ء میں پاکستان ہجرت کی۔ بہت مشکل وقت دیکھا، خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ ہجرت کے تین سال بعد جب اسکول میں داخلے کی نوبت آئی تو چھٹی کلاس کے ایک مہربان استاد نے رحم کھا کر اس حالت میں اپنی کلاس میں داخل کرلیا کہ امیدوار کی اہلیت پرائمری کلاس کی دوسری کلاس کے آگے نہیں بڑھی تھی۔ پھر اس محنت شاقہ اور دعائوں کے دھکے سے اُسی سال منعقدہ وظیفے کا امتحان پاس کرلیا اور ساڑھے بارہ روپے کی رقم وظیفہ کی صورت میں ملنے لگی جو ماہانہ گھر کے خرچے کے لیے بڑا سہارا ثابت ہوئی۔ اس رقم سے کچھ پیسے اپنے بڑے بھائی کو جو کراچی کے ٹی بی سینی ٹوریم میں داخل تھے بھیجے تو رسید کے طور پر اُن کا پوسٹ کارڈ ملا اس پر دل کو ترازو ہوجانے والا یہ شعر بھی درج تھا کہ
ہم تو خزاں رسید جوانی کو رو چکے
تم سے جو ہوسکے تو بلا لو بہار کو
اور میں نے یہ شعر پڑھ کر دل ہی دل میں کہا تھا ’’بہار آئے گی ان شاء اللہ ضرور آئے گی‘‘
یقینا بہار آئی کچھ اس صورت میں کہ تعلیم مشکل سے حاصل کی، بستر علالت میں اُن کے والد کی زبان پر یہ خواہش تھی کہ میں تجھے گریجویشن کراتا تو وہ وقت بھی آیا کہ پروفیسر عنایت صاحب نے امتیازی نمبروں سے گریجویشن کی اور کالج میں گریجویشن کی جماعت کو پڑھایا۔ لیکن مالی حالات اوسط ہی رہے کہ ہمارے ہاں استاد کا مقام کچھ ایسا ہی ہے۔
یقینا اصل بہار عدن میں اُن کی منتظر ہوگی کہ بقول ان کے
طبیعت کیسی تسکین پا رہی ہے
مجھے جنت کی خوشبو آرہی ہے