اے جی پی آر کے ملازمین کے اثاثوں کی تحقیقات ہوگی،شبلی فراز

185
اسلام آباد: وفاقی وزیر طلاعات شبلی فرازاور وزیراعظم معائنہ کمیشن کے چیئرمین احمد یار ہراج مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد(صباح نیوز)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران ملک میں سرکاری خریداری میںدو سے تین کھرب روپے کی اضافی ادائیگیاں کی گئیں۔ نجی شعبہ کے برعکس سرکاری چیزیں مہنگی اور بھاری قیمت پر خریدی جاتی رہیں۔اے جی پی آر میں مکمل طور پر اصلاحات ہوں گی ۔سولہ سال قبل خریدا گیا برقی نظام بھی فعال نہ کیا گیا اب ایک ہفتہ میں آن لائن کسی بھی بل کی ادائیگی ہوگی ۔بدقسمتی سے اس ملک میں سرکاری ملازمین کی کرپشن کے پیسے کی قیمت حکومت ادا کرتی رہی ٹی اے،ڈی اے ،میڈیکل بلز جعلی بنتے رہے اس ادارے کی خرابیاں دوسرے اداروں میں سراہیت کر گئیں۔ وزیراعظم کو سفارشات ارسال کر رہے ہیں، ایف آئی اے ،اے جی پی آر کے ملازمین کے اثاثوں کی جانچ پڑتال اور تفصیلات جمع کریگی۔ مولانا فضل الرحمان بیچارا اخبار میں تصویر شائع ہونے کے لیے اے پی سی کر رہا ہے ۔ جب بھی احتساب تیز ہوتا ہے اپوزیشن والے اکٹھے ہونے لگتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو چیئرمین وزیراعظم معائنہ کمیشن حامد یار ہراج کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔معائنہ کمیشن چوبیس مقدمات میں جانچ پڑتال مکمل کر چکا ہے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ادارے کو دانستہ طور پر مفلوج کر دیا گیا تھا ۔ ایسی قباحتیں ڈالی گئی قانون کی خلاف ورزیاں کی گئیں ۔ ایسی قباحتیں بھی تھیں جو ان لکھا قانون بنتا نظر آیا ۔ حکومت نے اداروں کے استحکام کا فیصلہ کیا ۔ اپوزیشن ہوئی ۔ اے جی پی آر بھی اہم ادارہ ہے ، اضلاع کی حد تک اسکی نمائندگی ہوتی ہے ۔ خریداریوں پر عملدرآمد کا ذمہ دار ادارہ ہے ۔ انفرادی کی بجائے سرکاری خریداریوں میں نرخ کئی گنا زیادہ ہیں۔ ایک کھرب کی وفاقی حکومت نے خریداریاں کیں ۔ ہمارے اندازے کے مطابق ڈیڑھ سو سے پونے دو سو ارب زیادہ دیے گئے ۔ گیس کمپنیاں اس میں شامل نہیںہیں ۔ صوبائی خریداریوں کا بھی اندازہ لگا لیں ایک کھرب کا تو پاکستان کے عوام کی جیبوں سے سرکاری خریداریوں میں 300 ارب زیادہ خرچ ہوئے ہیں ۔ دس سالوں میں یعنی تین سے چار کھرب روپے خریداریوں میں اضافی دیے گئے ۔ کرپشن بھی شامل ہے ۔ پیسے بنانے میں سسٹم کو حصہ دار بنا لیا جاتا ہے ۔ مثلاً 100 ارب کی چیز 200 ارب روپے میں خریدی جاتی رہی ۔ وزیر اعظم عمران خان کا نہ کوئی کاروبار ہے نہ کوئی ذاتی مفاد ۔ اس لیے وہ عوامی ٹیکسوں کا تحفظ چاہتے ہیں ۔ آئندہ ایسی سرکاری خریداریاں نہ ہوں گی ۔ 3 ماہ میں مزید شفافیت نظر آئے گی ۔احمد یار ہراج چیئرمین وزیر اعظم معائنہ کمیشن نے کہا کہ سرکاری خریداریوں کے بارے میں معائنہ کمیشن نے تحقیقات کیں ۔ بہت بد عنوانیاں اور خرابیاں ہیں اس کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے ۔ نجی شعبے کی نسبت سرکاری خریداریاں مہنگی ہیں ۔ بنیادی رقم میں کرپشن شروع ہوتی ہے ۔ خواہ مخواہ کے اخراجات نکال لیے جاتے ہیں ۔ جان بوجھ کر منصوبوں میں ادائیگیاں تاخیر سے کی جاتی ہیں ۔ اخراجات بڑھ جاتے ہیں ۔ بگاڑ کو بڑھنے دیا گیا ۔اصلاح کی کوشش نہ کی گئی اپنے ہی ملازمین کی کرپشن کے پیسے حکومت ادا کرتی ہے ۔ حکومت بہتری کی طرف گامزن ہے ۔ سارا سسٹم ٹھیک ہونے والا ہے ۔ کوئی محکمہ بھی اس طرح نہیں کہ کوئی تسلی بخش کام نظر آئے ۔ ہر محکمہ اصلاح کے قابل ہے اور اسے التوا میں ڈال دیا گیا ۔ اے جی پی آر کی خرابیاں اور محکموں میں بھی سرایت کر چکی ہیں ء گریڈ 21 اور 22 کی آسامیاں وزیر اعظم کی اجازت بغیر نہیںہو سکتی ہیں مگر یہ تقرریاں اور تبادلے وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر ہوتی رہیں ۔ ایف آئی اے کو سارے نظام میں ملوث لوگوں کی نشاندہی کا کہا گیا ہے ۔ ان کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کی جائیں گی ۔ کھربوں روپے کی دس سالوں میں سرکاری خریداری میں بچت ہو سکتی تھی قرضے نہ لینے پڑتے۔ سرکاری معاملات کو صفاف شفاف بناتا ہے۔ نئے پاکستان میں ایک ایک پیسے کا تحفظ کرنا ہے ۔ اے جی پی آر میں اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ مالی نظم و ضبط میں بہتری کے لیے یہیں سے مدد ملے گی ۔