قومی اسمبلی : کراچی میں لوڈشیڈنگ پر ہنگامہ‘ وزیراعظم کا نوٹس کمیٹی قائم

174
اسلام آباد: آئیسولیشن اسپتال کے دورے پر وزیراعظم عمران خان کو سہولیات سے متعلق بریفنگ دی جارہی ہے

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) کراچی میں لوڈشیڈنگ کے معاملے پر قومی اسمبلی میںحکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ جمعرات کو اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی اراکین نے وزارت توانائی کی توجہ کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جانب مبذول کروائی تھی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ کراچی میں بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گزشتہ حکومتوں نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔اس موقع ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر امین الحق نے کہا کہ کے الیکٹرک نے ریاست کے اندر ریاست بنا رکھی ہے ، کے الیکٹرک کو 550کے بجائے 800میگا واٹ بجلی دی جارہی ہے ،کے الیکٹرک کو گیس بھی معاہدے سے زیادہ دی جارہی ہے، بجلی کا خرچ کم ہورہا ہے مگر لوڈشیڈنگ بڑھ رہی ہے،کے الیکٹرک نے مافیا کی شکل اختیار کرلی ہے ،کے الیکٹرک کو وفاق سے زیادہ بجلی اور گیس مل رہی ہے ،پی ایس او فرنس آئل دے رہی ہے ، منگل کو ایم کیو ایم پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی بنائی جائے جو مسئلے کی تحقیق کرے ۔اسد عمر نے کہا ہے کہ کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا معاملہ جلد حل کر لیں گے۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم راجا پرویزاشرف نے کہا کہ اسے کہتے ہیں سوال گندم جواب چنا۔ ہم نے پوچھا کراچی کو بجلی کب ملے گی یہ کہتے ہیں پچھلی حکومتیں ذمے دار ہیں ،دوچار ماہ تو یہ بات چل جاتی ہے مگر اب 2سال بعد بھی یہی کہا جارہا ہے، اب کہا جارہا ہے اگلے 2سال میں بتائیں گے، کراچی کو بجلی کب ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا، توانائی سب وفاق کے پاس ہے جس میں سندھ کا کوئی رکن نہیں ،اس سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کے الیکٹرک سندھ میں ہے، کیاسوال کے جواب میں یہ کہنا درست ہے کہ کے الیکٹرک سندھ کی زمین پر ہے، کیا ہماری معلومات میں اضافہ کیا جا رہا ہے؟بعد ازاں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ کراچی کو 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دوسری جگہوں سے دی جائے گی جس سے مزید 200 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔ اس کے علاوہ اسے 180 ایم ایم سی ایف ڈی اور 100 میگاواٹ بھی نیشنل گرڈ سے دے رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے اسد عمر، گورنر سندھ اور معاون خصوصی برائے پاور ڈویڑن کو کے الیکٹرک انتظامیہ سے ملاقات کرکے مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کردی۔ اسلام آباد میں وزیراعظم سے گورنر سندھ کی ملاقات ہوئی۔جس میں کے الیکٹرک کے معاملے پر گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے کے الیکٹرک سے متعلق معاملات کے حل کے لییوفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر، معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن شہزاد قاسم اور گورنرسندھ کو ہدایت جاری کر دیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کے الیکٹرک انتظامیہ سے جلد ملاقات کی جائے تاکہ مسائل کا حل ممکن بنایاجاسکے۔