فلسطینی اراضی پر قبضے کیلئے یہود نے خیمے گاڑدیئے

111

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) یہودی آباد کاروں کے ایک گروہ نے اسرائیلی فوجیوں کی مدد سے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر سلفیت کے مغرب میں بدیہ گاؤں میں فلسطینیوں کی ملکیت زمین پر خیمے گاڑھ دیے۔ مقامی ذرائع کے مطابق آباد کار خلت حسن کے علاقے میں زمینوں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں فلسطینی کارکنوں نے آس پاس کے دیہات کے تمام رہایشیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بدیہ گاؤں تک مارچ کریں، تاکہ آباد کاروں کی اراضی پر قبضہ کرنے کے ارادوں کو ناکام بنایاجاسکے۔ اس پر پیر کے روز اس علاقے میں فلسطینیوں نے ریلیاں نکالیں، جنہیں قابض فوج نے طاقت کے زور پر منتشر کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران قابض فوج نے مظاہرین پر بہیمانہ تشدد کیا۔ جب کہ یہودی آبادکاروں کے حملے میں 2 فلسطینی شہری گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئیجنہیں سلفیت اسپتال منتقل کیا گیا۔ فلسطینی انتظامیہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں سے ایک پیٹ اور دوسرا کندھے میں گولی لگنے سے زخمی ہوا، اور دونوں کو درمیانے درجے کے زخم آئے۔ دوسری جانب اسرائیلی اخبار اسرائیل ٹو ڈے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی انتظامیہ فلسطینی اراضی کے الحاق کے پروگرام پر 45 روز میں اپنا سرکاری موقف جاری کرے گی۔ یہ بات عبرانی اخبار نے امریکی عہدے داروں کے حوالے سے بتائی۔ اخبار کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ امریکا غرب اردن کے 50 فیصد سے زائد رقبے پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرے۔خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے یکم جولائی سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو بہ تدریج صہیونی ریاست کا حصہ بنانے کا اعلان کررکھا ہے ۔ امریکی حکومت اور اس کے اعلیٰ عہدے دار پہلے ہی فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی ریاست کے باقاعدہ تسلط کی حمایت کرچکے ہیں۔