مندر کی تعمیر کیس‘ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

180

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی، جس میں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیاہے سی ڈی اے نے عدالت میں بتایا کہ مندر کا بلڈنگ پلان نہ ہونے کی وجہ سے کام رکوا دیا ہے،عدالت نے سی ڈی اے سے استفسار کیا کہ پلاٹ کس جگہ واقع ہے اور کس مقصد کیلیے استعمال ہوگا؟ جس پر ڈائریکٹ اربن پلاننگ سی ڈی اے نے بتایا کہ ایچ نائن ٹو میں 2016ء میں پلاٹ دینے کے حوالے سے کارروائی شروع ہوئی، مندر،کمیونٹی سینٹر یا شمشان گھاٹ کے لیے یہ جگہ ہندو کمیونٹی کو الاٹ ہوئی، وزارت مذہبی امور، اسپیشل برانچ اور اسلام آباد انتظامیہ کی تجاویز کے بعد پلاٹ الاٹ کیا گیا، اسی پلاٹ کے ساتھ عیسائی،قادیانی اور بدھ مت کمیونٹی کیلیے قبرستان کی جگہ الاٹ ہو چکی ہے، 3.89 کنال جگہ 2017 میں الاٹ کرکے 2018ء میں جگہ ہندو پنچایت کے حوالے کی۔ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ مندر کا نقشہ آیا ہے منظوری کے لیے یا نہیں؟۔ جس پر جواب دیتے ہوئے سی ڈی اے نے کہاکہ ابھی معلوم نہیں لیکن منظوری کے لیے آیا نہیں ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے جواب دیا کہ حکومت نے ابھی تک مندر کی تعمیر کیلیے کوئی فنڈنگ نہیں کی، درخواست گزار 10کروڑ روپے کا کہہ رہے ہیں لیکن حکومت نے ابھی کوئی فنڈنگ نہیں کی،حکومت نے مندر کے لیے فنڈنگ کے معاملے پر اسلامی نظریاتی سے سفارشات مانگی ہیں، دنیا میں اچھا پیغام نہیں جا رہا، آئین بھی غیر مسلموں کو اس کی اجازت دیتا ہے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ مندر کی منظوری اور فنڈنگ دو الگ الگ مسئلے ہیں، حکومت نہ فنڈنگ دے سکتی ہے نہ مندر بنانے کی منظوری دے سکتی ہے۔جسٹس عامرفاروق نے اختتامی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل کو معاملہ بھجوا دیا ہے، جس کے بعدعدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔