میں کا وائرس

305

کبھی کبھی تو یہ احساس یقین کی حدوں کو چھونے لگتا ہے کہ پاکستان ملک بے امان ہے۔ یہاں کے حکمران بے حسی اور خود غرضی کی ساری حدیں عبور کر چکے ہیں۔ ان کی نظر میں ان کا ملک ان کا گھر ہے اور ان کی قوم ان کا خاندان ہے۔ باقی سارے لوگ خانہ زاد ہیں۔ کچھ عرصہ قبل دہشت گردوں نے سارے ملک میں تباہی مچائی ہوئی تھی اور تمام اداروں نے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے اپنے دفاتر کے ارد گرد ایک ایسا حصار قائم کردیا تھا کہ دہشت گرد ادھر کا رخ ہی نہ کرسکیں اور اگر کوئی غلطی سے ان کے دفتر پر حملہ آور ہو بھی جائے تو خود کو بم سے اڑانے کے سوا کوئی راستہ ہی نہ رہے۔ فوج اور عوام نے ملک کو اس آفت ناگہانی سے نجات دلائی۔ اب کچھ عرصے سے کورونا وائرس نے پوری دنیا میں پنجے گاڑ دیے ہیں۔ حکومت کو شکوہ ہے کہ عوام احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کررہے ہیں ان کی بے احتیاطی سے کورونا وائرس کو پھلنے پھولنے کے مواقع مل رہے ہیں۔ اس طرح عوام حکومت کی راہ میں روٹے بھی اٹکا رہے ہیں۔ حکومت کا شکوہ بجا مگر تالی دنوں ہاتھوں سے پیٹی جاتی ہے سو یہ معاملہ رانیں پیٹنے کا نہیں۔
ہم بارہا انہی کالموں میں لکھ چکے ہیں کہ اسپتال میں جانے والوں کا کہنا ہے کہ وہاں جائیں تو انہیں اچھوت سمجھا جاتا ہے، بعض شعبوں میں ڈاکٹر صاحباں مریضوں کودیکھتے ہی نہیں۔ بلکہ اپنے معائنہ روم سے بھی بہت دور رکھتے ہیں۔ چپڑاسی مریض سے اسپتال آنے کا سبب پوچھتا ہے تو چپڑاسی چند گولیاں دے کر فارغ کردیتا ہے۔ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے ایک بار کہا تھا کورونا وائرس خطر ناک ہے مگر احتیاط سے نبرد آزمائی اس کی فطرت نہیں۔ پیناڈول کی چند گولیاں ہی کورونا وائرس کا نام ونشان مٹا دیتی ہیں۔ اگر ان کی ہدایت پر مکمل طور پر عمل کیا جاتا تو کورونا وائرس تباہ کن ثابت نہ ہوتا۔ مگر نامی گرامی ڈاکٹر صاحبان اس پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ مریض سر درد اور بخار کی شکایت کرتا ہے تو اسے پیراسٹا مول دے کر فارغ کرنے کے بجائے مکمل طور پر اس کا چیک اپ کیا جائے تو کورونا وائرس پر قابو پایا جاسکتا ہے مگر ہمارا باختیار طبقہ پہلے ’’میں‘‘ کے وائرس میں مبتلا ہے۔ وہ اپنے دفاتر میں بند ہو کر بیٹھ جاتا ہے عوام جائیں جہنم میں، انہیں عوام سے نہیں تنخواہ سے غرض ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ عوام کو تحفظ کون فراہم کرے گا۔ دہشت گردی ہو تو یہ طبقہ مورچے بنا کر اپنے دفاتر میں بند ہوجاتا ہے۔ اور اگر کوئی وبائی مرض آ دبوچے تو بھی یہ طبقہ اپنے دفاتر میں چھپ کر بیٹھ جاتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ عوام کہاں جائیں جہاں تک قوم کا تعلق ہے تو حکمرانوں نے قوم کا قصہ ہی ختم کردیا ہے اور پاکستان میں قوم نہیں عوام بستے ہیں جنہیں کبھی مونث بنا دیا جاتا اور کبھی مذکر۔ ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولتی کہ پنجاب کے ایک سابق وزیر اعلیٰ کو آپریشن کے بعد خوابیدہ حالت میں یہ احساس ہوا تھا کہ پاکستان میں انصاف برائے فروخت ہے جو صاحب ثروت ہوتا ہے وہ انصاف خرید لیتا ہے، موصوف کا ارشاد گرامی تھا کہ انصاف انسان کا بنیادی حق ہے۔ مگر پاکستان کے عوام اس بنیادی حق سے بھی محروم ہیں۔ موصوف نے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ جب تک عدلیہ منڈی بنی رہے گی عوام کی حالت نہیں سدھر سکتی، نہ ملک اقوام عالم میں کوئی باوقار مقام حاصل کرسکتا ہے۔ موصوف نے چین اور کوریا کی مثالیں دیتے ہوئے کہا تھا آمریت وہاں بھی آئی تھی مگر عوام کے لیے باعث رحمت ثابت ہوئی تھی ہمارے ہاں آمریت زحمت بن جاتی ہے۔ وہاں خوشحالی آئی تھی یہاں بد حالی عوام کا مقدر بن گئی تھی۔ جو آج تک بنی ہوئی ہے۔ خوشحالی رادھا کی طرح ہوتی ہے جسے نو من تیل درکار ہوتا ہے۔ مگر آپ جیسے لوگ اس تیل پر قابض ہیں اور رادھا نو من تیل کے بغیر کسی کی بات سننے کی روادار نہیں ہوتی۔ موصوف نے چین اور کوریا کی مثالیں دیں تھیں مگر وہاں پر خالص آمریت تھی انہوں نے سیاست دانوں کو اقتدار سے دور رکھا تھا۔ اگر آمریت خالص ہو تو جمہوریت سے بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان چین اور ملائیشیا کی مثالیں دیتے ہیں مگر وہ اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ وہاں نیب نہیں ہے المیہ یہ بھی ہے کہ کوئی ایسا شخص موجود ہی نہیں جو ان کو سمجھاتا کہ لوگ نیب کو اغوا کا قانونی ادارہ کہتے ہیں۔ اچھی حکومت کرنے کے لیے حکمران زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھتے ہیں۔ عزت نفس کو مجروح کیا جائے تو کوئی بھی شخص اپنا جرم قبول نہیںکرتا۔ ایران، چین اور بھارت نے بھی کالے دھن پر سفیدی پھیری تھی مگر یہ کام عزت و احترام کے ساتھ کیا گیا تھا سو وہ عوام کی لوٹی ہوئی دولت وصول کرنے میں کامیاب رہے مگر تحریک انصاف کی حکومت کو لوٹی ہوئی دولت واپس لینے میں دلچسپی ہی نہیں۔ وہ گریبان چاک کرنے اور پگڑیاں اچھالنے میں دلچسپی لیتی ہے۔ حالانکہ حکومت وہی کامیاب ہوتی ہے جو عزت کرتی ہے اور عزت کراتی ہے۔