اور مقدمہ خارج

349

برصغیر کی تقسیم کے بعد بھارت کے ہمسایوں نے اس کی نفسیات اور تاریخ کا مطالعہ شروع کردیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ بھارت کے ساتھ امن و امان کے ساتھ رہنا ہے۔ تو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر رہنا ہوگا۔ بھارت کی تاریخ اور نفسیات یہی ہے جس نے اس سے آنکھیں چرانے کی کوشش کی۔ اس نے اس کی آنکھیں نکال لیں۔ اور جس نے آنکھیں دکھانے کا وتیرا اختیار کیا بھارت نے اس کے سامنے نہ صرف گھٹنے ٹیک دیے بلکہ مہاراج کوئی خدمت ہو تو بتائے کا ورد شروع کردیا۔ آج کے حالات و واقعات گواہ ہیں کہ چین اور نیپال نے بھارت کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ حالات بتاتے ہیں کہ ہم نہ بدلے ہیں نہ ہمارا کردار بدلے گا۔ ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہم صدیوں سے بھارت کی نفسیات سے واقف ہیں۔ اس کے باوجود اس کی فطرت سے ناواقف ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہم نے بھارت پر توجہ دینے کے بجائے آپس میں دست و گریباں رہنے ہی میں عافیت جانی۔
حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو اس کی نظر میں سب ہی اس کی محبت اور شفقت کے مستحق ہوتے ہیں۔ مگر ہمارا حکمران طبقہ جانب داری ہی میں اپنی بقا سمجھتا ہے، واجب احترام جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف حکومت نے بڑی تگ و دو کے بعد ایک ریفرنس دائر کیا اور عدالت عظمیٰ کو بھیج دیا۔ اہل دانش نے بہت سمجھایا کہ غلط روایت کی طرح مت ڈالو حکومت اور عدلیہ میں جو دراڑ ڈالی جا رہی ہے ملک کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے مگر یہ معاملہ شعور اور لاشعور کا تھا اور شعور ہار گیا اور لاشعور جیت گیا اس معاملے میں یہ بات قابل غور ہے کہ واقعی یہ لڑائی شعور اور لاشعور کے درمیان تھی یا ضمیر اور انا کے درمیان تھی۔ ویسے قابل غور امر یہ بھی ہے کہ لاشعور اور ضمیر کے درمیان کیا فرق ہے اگر اس معاملے پر غور کیا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ لاشعور نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ دراصل ضمیر ہی کو لاشعور کہہ کر اپنے خیالات کے اظہار کے لیے سہولتیں پیدا کی گئی ہیں۔ ہر آدمی کے ساتھ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے کہ مگر اس کے اندر کوئی ایسی قوت ہوتی ہے جو کام کرنے سے روکتی ہے۔ ہومیوپیتھی میں تو اس کا علاج بھی موجود ہے۔ ہومیو ماہرین کا کہنا ہے کسی کام سے روکنے یا کام کرنے پر مجبور کرنے والی قوت کا نام ضمیر ہے جسے ماہر نفسیات نے قافیہ بندی کے لیے لاشعور کا نام دے رکھا ہے۔ دراصل جسے شعور کہا جاتا ہے وہ ضمیر ہی ہوتا ہے محترم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں احتزاز احسن کہتے ہیں کہ اگر میں ان کا وکیل ہوتا تو مقدمے سے دست بردار ہوجاتا فائز عیسیٰ کے رویے نے عدلیہ کو مذاق بنا دیا ہے۔ بندہ پرور حکومت جو مقدمہ اپنے مخالفین کے خلاف دائر کرتی ہے وہ دراصل مذاق کی انتہائی بھونڈی شکل ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ اگر جسٹس صاحب ثابت کردیتے کہ ان کے اثاثے جائز پیسے سے خریدے گئے ہیں تو یہ مقدمہ قابل سماعت ہی نہ رہتا شنید ہے اکبر شہزاد کے بیرون ملک بہت سے اثاثے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ جب ان سے ان اثاثوں کے بارے میں تفصیلات طلب کی جائیں گی تو کیا کریں گے، کیسے کیسے ہتھکنڈے بروئے کار لائیں گے اور کس کس کو اپنے احسانات یاد دلائیں گے۔
محترم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنے اثاثوں کے بارے میں بارہا کہا ہے کہ ان کے تمام اثاثے ان کے والد محترم کی دین ہیں۔ جسٹس صاحب کا اس سے کوئی تعلق نہیں یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو حکومت کے لیے مشکل نہیں ملک کے ہر پٹوار خانے میں پاکستان کے قیام کے پہلے کا ریکارڈ بھی موجود ہے وہاں سے معلوم ہوسکتا ہے کہ پاکستان سے قبل جائداد کس کی تھی کس طرح فروخت ہوتی رہی مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارا نظام عدل بے فیض ہے۔ یہ کسی کو فیض یاب کرنے کا اہل ہی نہیں اس نظام میں نوازشیں ہوتی ہیں دنیا کی کسی عدالت میں ثبوت کے بغیر مقدمے کی سماعت نہیں ہوتی مگر پاکستان میں جو شخص وکیل کی فیس بھرنے کی استطاعت رکھتا ہے اور ہر پیشی پر وکیل کے منشی کو خوش رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو وہ تا حیات اپنے مخالف کو عدالتوں میں دھکے مار مار کے اس کی نسلوں کو بھی معذور کرسکتا ہے ستم بالائے ستم یہ کہ کوئی بھی جج فائل پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا 10، 15 برس کے بعد جب جج صاحب فیصلہ سنانے کا ارادہ کرتے ہیں تو انکشاف فرماتے ہیں کہ مدعی نے استقرار حق کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا لہٰذا عدم ثبوت کی بناء پر مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔