اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ

352

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں یہ دوٹوک اعلان کیا ہے کہ پاکستان عرب ممالک کے دبائو کے باوجود اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ پاکستان مسئلہ فلسطین کے دور ریاستی حل کا حامی ہے۔ وزیرخارجہ نے یہ وضاحت اپوزیشن ارکان کے استفسار پر کی ہے۔ اسلام آباد کی راہداریوں میں وقفے وقفے سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی افواہیں گردش کرنا اب معمول ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حامی ایک لابی موجود ہے مگر عوامی ردعمل کے خوف سے یہ لابی اکثر خاموش اور خوابیدہ رہتی ہے مگر کبھی کبھار یہ جاگ پڑتی ہے اور ’’اگر مگر‘‘ کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کرتی ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں مولوی ڈیوڈ نامی ایک مجہول الحواس شخص ایک خیمہ سجا کر پاکستانی پاسپورٹ سے اسرائیل کے سفر کی ممانعت کی مہر ہٹانے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ ایک نوجوان نے موقع پر جاکر مولوی ڈیوڈ کا یہ خیمہ اکھاڑ پھینکا تھا۔ یہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے کسی دینی مدرس کا فارح التحصیل ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ سیدنا موسیٰؑ نے خواب میں آکر اسے نام بدلنے کی ہدایت کی۔ اس طرح کے کئی کردار پاکستانی اداروں میں چھپے بیٹھے ہیں۔
فلسطینیوں کا المیہ یہ ہوا کہ ان کے عرب ہمسائے اور مسئلے کے فریق اور شریک ممالک بھی اسرائیل اور امریکا کے آگے ڈھیر ہوتے چلے گئے ہیں۔ اس کا آغاز اسرائلی صدر بیگن اور مصری صدر انور السادات کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدے سے ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت عرب دنیا کا سب سے موثر ملک مصر فلسطینیوں کی حمایت سے ہاتھ کھینچ بیٹھا تھا۔ اس معاہدے کے ردعمل میں مصر کے ناراض نوجوانوں نے انور السادات کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ایک ایک کرکے عرب ملکوں کو فلسطینیوں کی حمایت سے دست کش اور دست بردار کیا جاتا رہا۔ اب عالم یہ ہے کہ کوئی بھی عرب ملک اعلانیہ طور پر فلسطینی کاز کا حامی نہیں۔ زبانی حد تک تمام ممالک فلسطینیوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں مگر عملی میدان میں ان کی کارکردگی نہ صرف یہ کہ صفر ہے بلکہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھلے یا ڈھکے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط کررہے ہیں۔ اسرائیل عرب دنیا میں حاصل ہونے والی اس اسپیس کو اعلان بالفور کے تحت ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان مسلمان دنیا کا واحد ملک ہے جو اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی دیرینہ پالیسی پر قائم ہے۔ اس عرصے میں پلوں تلے بہت سا پانی بہہ گیا ہے۔ فلسطینیوں کے کاز کے حامی بڑے مسلمان راہنما اس راہ سے ہٹ گئے۔ بہت سے ملک اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے مگر پاکستان اپنے اس متعین راستے سے ہٹا نہیں جس کا تعین بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا تھا۔ پاکستان کی مشکل یہ ہے کہ جن حالات کا سامنا فلسطینی عوام کر رہے ہیں بالکل وہی حالات کشمیری عوام کو درپیش ہیں۔ دونوں کا کیس بھی ایک جیسا ہے۔ اسرائیل اور بھارت جیسے کرداروں میں بھی کوئی عملی اور نظری فرق نہیں۔ اسرائیل اور بھارت کا ایجنڈا بھی ایک ہے۔ اسرائیل ’’گریٹر اسرائیل‘‘ تو بھارت ’’مہا بھارت‘‘ کے تصورات کے تعاقب میں پاگل ہوئے جا رہے ہیں۔
امریکا سمیت مغربی طاقتیں ہمیشہ سے اس کوشش میں رہی ہیں کہ پاکستان کے حکمران طبقات میں ایک ’’انورالسادات ‘‘پیدا کیا جائے جو کشمیری عوام کی حمایت سے دست کش ہو کر انہیں بھارت کے رحم وکرم پر چھوڑ دے۔ پاکستان کے پیچھے ہٹتے ہی کشمیری عوام بھارت کے رحم وکرم پر ہوں گے۔ امریکا نے گزشتہ بیس برس کے دوران پیس پروسیس کے نام پر جو کھیل شروع کیا تھا اس میں پاکستان میں انور السادات کی تلاش کا تصور مرکزی حیثیت کا حامل تھا۔ اسرائیل کو تسلیم کرتے ہی کشمیر پر پاکستان کا کیس اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتا ہے اور اسے کشمیر پر بھارت کے قبضے کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے کہ کئی جہات ہیں۔ پاکستان صرف فلسطینی کاز کی حمایت ہی نہیں اپنی اصولی بنیاد کو جواز دینے کے لیے بھی اس کاز کی حمایت کر رہا ہے۔ پاکستان کی حکومتیں ہمیشہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے پر دبائو میں رہتی ہیں مگر یہاں اس دبائو کا مقابلہ کرنے کا خود کار نظام بھی کام کرتا ہے اور عوامی دبائو بھی ایک حقیقت کے طور پر موجود ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی حکومت اس راہ پر پیش قدمی نہیں کر سکتی۔ جنرل پرویز مشرف کے دو ر میں تو یوں لگ رہا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی منزل اب صرف چند قدم کی دوری پر ہے۔ یہودیوں کے مذہبی اور روحانی راہنما جنرل مشرف کی درازیٔ عمر کے لیے دعائیں کرنے لگے تھے۔ اسرائیل اور پاکستان کے مشترکات پر تحقیق ہونے لگی تھی دونوں کی قربتوں کے فوائد کی فہرستیں مرتب ہو نے لگی تھیں۔ موجودہ حکومت بھی اس دبائو سے آزاد نہیں رہی ہوگی۔ اچھا ہواکہ شاہ محمود قریشی نے دوٹوک انداز میں وضاحت کر دی۔
عرب دنیا کی بے بسی اس حوالے سے دیدنی ہے۔ فلسطینیوں کے کاز کے حامی بڑے عرب لیڈر ایک ایک کرکے نہایت عبرتناک طریقے سے منظر سے ہٹائے جا چکے ہیں۔ جن عرب ملکوں کے حکمرانوں کا ڈنکا پوری دنیا میں بجتا تھا اب ان ملکوں پر ایسے سرکٹے اور بے نام ونسب حکمران مسلط کر دیے گئے ہیں جن کا نام بھی بتانے والا کوئی نہیں۔ صدام اور قذافی کے ملکوں کے حکمران کون ہیں؟ اس کا جواب جاننے کے لیے گوگل کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اس ذلت کا شکار عرب دنیا سے اسرائیل کی مزاحمت کی توقع تو درکنار بلکہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرانے کی مہم کے باراتی ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے عرب ملکوں کے جس دبائو کی جانب اشارہ کیا ہے اس کی ساری حقیقت یہی ہے کہ عرب دنیا اب اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف نہیں بلکہ اس کی حمایت میں اپنا اثر رسوخ اور توانائی استعمال کر رہی ہے۔ فلسطین میں طاقت کو زمینی حقیقت قرار دے کر قبولیت بخشنے والا پاکستان کسی دوسری جگہ اس اصول کی مخالفت کیسے کر سکتا ہے؟۔