خدمت اور الخدمت

261

دنیا میں دو موضوع ایسے ہیں جو لوگوں میں اتنے زیادہ مقبول ہیں کہ شاید ہی دوسرے موضوع اتنے مقبول ہوں۔ یہ موضوع ’’پیسہ اور خوشی‘‘ ہے۔ عموماً لوگ سمجھتے ہیں کہ ان دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ یعنی پیسے سے ہر خوشی خریدی جاسکتی ہے یا جس کے پاس پیسہ ہے وہ ضرور ہی خوش ہے۔ لہٰذا اگر آپ کسی سے یہ سوال پوچھیں کہ وہ اپنی زندگی سے کتنا مطمئن ہے؟ تو وہ اس سوال کو اپنی آمدنی سے متعلق تصور کرے گا۔ اور اُس کا جواب براہِ راست اس کی آمدنی سے متعلق ہوگا۔ حالاں کہ خوشی کا تعلق اس بات سے نہیں کہ آپ کی آمدنی کیا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو سارے دولت مند اپنے سے کم دولت مندوں سے زیادہ خوش ہوتے۔ ہاں پیسے سے خواہشات کی تکمیل کسی حد تک ہوسکتی ہے، لیکن کبھی یہ خواہشات آپ کو زیادہ فکر مند اور پریشان بھی کردیتی ہیں، لوگ آمدنی کے اضافے کے اثرات کو محسوس کرنے اور خوش ہونے کے بجائے دوسروں سے اپنی آمدنی کا تقابل کا زیادہ احساس کرنے لگتے ہیں۔ لہٰذا دولت خوشی کی ضامن نہیں ہے۔ خوشی پر سب سے زیادہ بُرا اثر ڈالنے والی چیز ڈیپریشن یا بے چینی کی بیماری ہے۔ اس دن میں اس کو سڑک پر ٹہلتے دیکھ کر حیران رہ گئی۔ وہ یوں اطمینان سے پوری سڑک پر مزے میں ٹہل رہا تھا جیسے اپنے بڑے سے گھر کے لان میں ٹہل رہا ہو۔ وہ ایک مجذوب سا شخص تھا۔ لیکن نشئی نہیں تھا۔ کہ صحت اس پر گواہی دے رہی تھی۔ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ٹوٹی ہوئی چپل کے ساتھ مطمئن اور مگن سا تھا۔
تحقیق بتاتی ہے کہ اچھی صحت اور اچھا شریک حیات زندگی میں سب سے زیادہ خوشیوں کا باعث ہوتا ہے۔ تو اس مجذوب کے سکون اور اطمینان کی ایک وجہ تو اس کے پاس تھی لیکن دوسری کے بارے میں تو کسی بھی شخص کے لیے بھی کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ سوائے خود اس کے۔ ایک اور بڑا مشہور مقولہ ہے کہ ’’خوش دراصل وہ ہیں جنہوں نے خدمت کرنا سیکھ لیا ہے‘‘ اور خدمت سیکھنے اور سکھانے کے لیے ’’الخدمت‘‘ کی خدمات کو کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ہر روز اخبارات اور خبروں میں اُن کے کیے کام کی بازگشت سنائی دیتی ہے، اگرچہ یہ بازگشت پوری طرح اُن کی خدمات کا احاطہ نہیں کرتی، کچھ سیاسی وجوہات کے باعث اور کچھ چینل اور اخبارات کے اپنے مفادات کے باعث لیکن خدمت سیکھنے کے لیے اگر کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو وہاں راستے موجود ہیں جن میں اتنی وسعتیں ہیں کہ ہر کوئی اپنی مرضی اور پسند کے تحت اپنے کام کا شعبہ چن سکتا ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا، بے گھروں کو چھت فراہم کرنا، غریب بچوں کی تعلیم اور صحت، الخدمت ڈائیگناسٹک سینٹر، کلینک اور اسپتال گلگت بلتستان جیسے علاقوں میں بھی موجود ہیں۔ معذور لوگوں کے لیے علاج اور وہیل چیئر کی فراہمی ہو یا انہیں اور دیگر ضرور مند لوگوں کو روزگار فراہم کرنا ہو۔ الخدمت حاضر ہے۔ یتیم بچوں اور بچیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ آغوش کے نام سے پناہ گاہ کی چین موجود ہے۔ صاف پانی کی فراہمی کا کام الگ ہے، صرف سندھ میں تھرپارکر، مٹھی، ڈیپلو اور کتنے ہی اضلاع اور قصبوں میں صاف پانی کے سینٹر بنائے اور چلائے جارہے ہیں۔ اور اب عیدالاضحی قریب ہے بڑی عید… غریب لوگ اس کو بڑی عید کہتے ہیں اور شاید اس لیے کہ اس عید میں بڑی قربانیاں ہوتی ہیں۔ سارا سال وہ لوگ اس کا انتظار کرتے ہیں کہ اس عید میں انہیں دل بھر کر گوشت کھانے کو ملتا ہے۔ بڑے شہروں میں الخدمت قربانی کا اجتماعی انتظام کرتی ہے اور غریبوں کی بستیوں میں گوشت پہنچانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ دور دراز کے دیہاتوں میں وہیں قربانی کی جاتی اور گوشت تقسیم کردیا جاتا ہے۔ آج کل کورونا کی وبا پھیلی ہوئی ہے اس لیے قربانیاں شاید کم ہوں، حکومت جانوروں کی منڈیوں کے لیے بھی پابندی لگانے کا سوچ رہی ہے۔ ایسے میں بہتر ہے کہ قربانی الخدمت کی اجتماعی قربانی کے تحت کی اور کروائی جائے۔ اس کے لیے لوگوں کو تیار کیا جائے کہ وہ گھر بیٹھے غریب گھرانوں کے لیے گوشت فراہم کرنے میں مددگار بنیں۔ یوں ایک وقت میں دو نیکیوں کا ثواب حاصل کریں۔ قربانی کی قربانی اور کھانا کھلانے کا ثواب الگ۔
یوں تو کورونا کی وبا کے دوران الخدمت غریب اور مستحق لوگوں کو اربوں روپے کا راشن تقسیم کرچکی ہے لیکن اس کا انتہائی دلچسپ کام ’’الخدمت بلیسنگ باسکٹ سپرمارکیٹ‘‘ کا افتتاح تھا۔ جس کے تحت اقلیتی کمیونٹیز کے نمائندہ افراد نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب میں خواجہ سرا کمیونٹی کے گرو ہربچن برادری ’’خالصہ‘‘ کیتھولک آرگنائزیشن سیوا اور سماج، کریسنٹ عوامی چرچ اور خاکروب برادری کے لوگ شامل تھے۔ ’’الخدمت بلیسنگ باسکٹ سپر مارکیٹ‘‘ کے لیے ہر کمیونٹی کے لیے مختلف اوقات مختص کیے گئے تھے جس میں وہ اپنے لیے ضروری سامان حاصل کرسکتے تھے۔ تو بات ہو رہی تھی خوشی کی کہ خوشی دراصل وہ ہوتی ہے جو دوسروں کی خدمت کرکے اور انہیں خوشی دے کر حاصل ہوتی ہے۔ تو وہ لوگ جو تنہائی سے بے چین اور مایوس ہیں یا ڈپریشن کا شکار ہیں اور وہ سارے لوگ جو خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں خدمت سیکھنے کے لیے الخدمت سے رجوع کرنا چاہیے۔ جو خلق خدا میں خوشیاں بکھیرنے اور غم سمیٹنے میں مصروف ہے اور یہ حدیث بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ’’تم میں بہترین شخص وہ ہے جو دوسروں کے کام آئے‘‘۔