امریکا میں کالوں کی تحریک ۔حصہ سوم

375

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہرے منطقی طور پر امریکا میں رہنے والی اقلیت کی جانب سے خوف کا اظہار تھا ۔ نسل پرستی اور اس کا اظہار امریکا میں کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ سفید فام نسل کی جانب سے اپنے آپ کو برتر سمجھنا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ تاہم جارج فلائیڈ کی ہلاکت پرہونے والے مظاہروں کو اچانک متشدد ہوجانا اور املاک کو تباہ کرنا ضرور خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ بات سمجھ لینے کی ہے کہ ہجوم بھیڑ چال کی طرح ہے ۔ کوئی ایک چھوٹا سا گروپ کہیں پر لوٹ مار شروع کردے تو پورا ہجوم اس میں مصروف ہوجائے گا ، اسی طرح اگر کوئی چھوٹا سا گروپ خون خرابہ شروع کردے یا پولیس پر حملہ آور ہوجائے تو پورا ہجوم خود بہ خود اس کام میں لگ جائے گا ، بعد میں یہ چھوٹا سا گروپ جس نے ہنگامہ آرائی شروع کی ہوتی ہے ، خاموشی سے کہیں غائب ہوجاتا ہے ۔ ہجوم کی نفسیات سے وہ لوگ بخوبی آگاہ ہوتے ہیں ، جنہوں نے ہجوم کو جمع کیا ہوتا ہے ۔ وہی لوگ ہجوم کو مقصد براری کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ امریکا کی تمام ہی ریاستوں میں لوٹ مار کے وڈیو کلپ اگر غور سے دیکھیں تو یہ پتا چلانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ اس لوٹ مار میں صرف کالے یا دیگر غیر سفید فام اقلیتیں شامل نہیں ہیں بلکہ اس لوٹ مار میں سفید فام بھی اسی طرح جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں جس طرح دیگر بلوائی ۔
امریکا میںہر برس تقریبا ایک ہزار کالے افراد پولیس کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں مگر آج تک کسی ایک پولیس افسر کو بھی سزا نہیں ہوئی۔ اب تک صرف ایک پولیس افسر کو سویلین کو مارنے پر ساڑھے بارہ برس قید کی سزا ہوئی ہے مگر یہ بھی
حقیقت ہے کہ مذکورہ پولیس افسر صومالی نژاد امریکی تھا اور ماری جانے والی خاتون سفید فام ۔ ان حالات کی وجہ سے جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے نتیجے میں ہونے والے احتجاج نے نیا رخ اختیار کیا ہے اور پہلی مرتبہ تحریک کے منتظمین نے سیاٹل کے ایک حصے پر مشتمل علاقے پر خودمختار علاقے کا بورڈ لگا کر امریکی پولیس اور نیشنل گارڈز کو وہاں سے بے دخل کردیا ہے ۔ امریکی ریاست واشنگٹن کے اہم شہر سیاٹل میں کیپیٹل ہل کے آس پاس کے چھ بلاکوں پر مشتمل یہ خودمختار زون ابھی تک بلوائیوں کے قبضے میں ہے ۔
بدھ 10 جون کو سیاٹل پولیس نے پولیس اسٹیشن اور پریسنکٹ کے علاقے کے چھ بلاک جن میں کیپٹل ہل بھی شامل ہے ، خالی کردیے تھے جس پر مظاہرین نے ان بلاکوں پر قبضہ کرنے کے بعد انہیںخودمختار علاقہ قرار دے دیا ہے ۔ یہ امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ کسی علاقے کو خودمختار علاقہ قرار دیا گیا ہے ۔ اس علاقے پر مظاہرین کا مسلسل دباؤ تھا اور مقامی پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپیں بھی جاری تھیں جبکہ اس علاقے سے دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی تھیں ۔ پولیس نے نقصان سے بچنے کے لیے کنکریٹ کی رکاوٹیں اور خاردار تار کی باڑ کھڑی کی تھیں ۔پولیس کے اس اقدام کے خلاف ہزاروں شہریوں نے شکایت درج کروائی تھی جبکہ ایک مقدمہ بھی دائر کیا گیا تھا ۔ بعدازاںپولیس نے کسی ممکنہ خونریزی سے بچنے کے لیے یہ علاقہ خالی کردیا جس کے بعد مظاہرین نے کنکریٹ کی رکاوٹوں کو اپنے دفاعی انداز میں دوبارہ ترتیب دیا اور ان رکاوٹوں پر کیپیٹل ہل آٹونومس زون (CHAZ ) لکھ دیا ہے ۔ رات بھر مظاہرین نے جشن منایا اور ان کے مسلح افراد نئے خودمختار زون کے ساتھ پٹرولنگ کرتے رہے ۔ انہوں نے رکاوٹوں پر کارڈ بورڈ پر لکھ کر لٹکا دیا ہے کہ اب تم لوگ امریکا چھوڑ رہے ہو ۔ پولیس اسٹیشن پر اسپرے پینٹ سے سیاٹل پیپلز ڈپارٹمنٹ ایسٹ پریسنکٹ لکھ دیا گیا ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں شہر کی انتظامیہ کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ اپنا شہر واپس لو ۔ اگر تم نہیں لو گے تو میں لوں گا۔ یہ کھیل نہیں ہے ۔ ان بدصورت انارکسٹوں کو لازمی اور فوری روکنا ہوگا ۔ تیز حرکت کرو۔
طاقت کے استعمال کی ہدایت دینے پر سیاٹل کی میئر جینی ڈرکن نے امریکی صدر کو اپنے جوابی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ہم سب کو محفوظ بناؤ اور تم اپنے بنکر میں واپس جاؤ جبکہ واشنگٹن اسٹیٹ کے گورنر جے انسلی نے لکھا ہے کہ جو شخص حکمرانی کے لیے مکمل طور پر نااہل ہو ، اسے واشنگٹن کے معاملات سے دور ہی رہنا چاہیے ۔ سیاٹل کی میئر جینی ڈرکن نے اپنے ٹوئٹ میں Black live matter کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا ہے جو کہ مظاہرین کا نعرہ ہے ۔
سیاٹل میں CHAZ کا نعرہ بلند کرنے والے اور چاکنگ کرنے والے Black live matter موومنٹ کے منتظمین ہیں ۔ یہی یورپ ، نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں بائیں بازو کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک کو منظم کررہے ہیں ۔ اس وقت Black live matter کی فنڈنگ عروج پر ہے ۔ یہ تحریک دیگر اداروں کے علاوہ اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن ، فورڈ فاؤنڈیشن اور Borealis Philanthropy سے بھی بھاری فنڈز وصول کرتی ہے ۔فورچون میگزین کے مطابق Black live matter کی فنڈنگ کے لیے 50 ادارے رجسٹرڈ ہیں ۔ گارجین کی 9 جون کی رپورٹ کے مطابق صرف برطانیہ سے اس تحریک کے لیے ایک ملین پاؤنڈ جمع ہوچکے ہیں ۔ اس تحریک کا قیام تو 2013 میں ہوا تھا تاہم اس نے زور 2014 کے فرگوسن فسادات کے دوران پکڑا ۔ 2016 میں اس تحریک کے ساتھ چھوٹی بڑی دیگر 60 تحاریک کا اتحاد بنا اور اسے انسانی حقوق کی تحریک کا نام دیا گیا ۔
سیاٹل میں کیپیٹل ہل کے آس پاس قائم خودمختار علاقہ تو خالی کروالیا جائے گا مگر اس آغاز کا کیا انجام ہوگا ، یہ اہم سوال ہے ۔ اور پھر سے وہی سوال کہ گوری چمڑی والے یہودی کیوں اس قسم کی تحاریک کی دل کھول کر فنڈنگ کررہے ہیں ، ان کے پس پردہ مقاصد کیا ہیں ۔ ان اہم ترین سوالات کا جواب آئندہ آرٹیکل میں بوجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔