گلی محلوں میں کھیلتے نونہال اور نادان حکمرانوں کا راگ

361

محمد اقبال جامعی
ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہو گا بڑا معرکتہ آرا جملہ ہے اور شاید ہمیشہ ہی نااہل افراد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جب سے کورونا کی وبا کا سنا ہے عجیب عجیب دلیلیں بھی پڑھنے اور سننے کو مل رہی ہیں صاحب علم طبقہ پریشان ہے کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ کورونا اور لاک ڈاون کے سبب لوگ عقل اور خرد سے بیگانہ دکھائی دینے لگے ہیں ہم بھول بیٹھے ہیں کہ اللہ ہی ہمارا حامی اور ناصر ہے اور مشکل سے مشکل حال میں بھی ہماری مدد اور حفاظت کرنے والا ہے ہمارا اپنے دین اور مذہب اور اس کی تعلیمات سے رشتہ اتنا کمزور کیوں ہے ہم کیوں بھول گئے ہیں زندگی اور موت اسی قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے ہم دنیا کہ سارے جتن کرلیں اور کر بھی رہے ہیں لیکن جن کی موت کورونا میں لکھ دی گئی ہے ہم ساری دنیا کہ وسائل لگا کر بھی ان کی موت نہیں روک سکتے۔ ہمیں یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آرہی ہے اور ہمارے نادان حکمران ہوش کے ناخن کیوں نہیں لیتے انہیں اپنی ناقص عقلوں پر کیوں ناز ہے کہ احتیاط سے موت کو روکا جا سکتا ہے اگر احتیاط سے موت کو روکا جاسکتا ہوتا تو حکیم لقمان جیسے عظیم دانا ضرور موت سے بچنے کی احتیاطی تدابیر بتاتے اور ہم شاید یہ بھول چکے ہیں کہ موت برحق ہے موجودہ صورتحال میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت صحت کی سہولتوں کی جنگی بنیادوں پر فراہمی کو یقینی بناتی ساتھ ہی عوام کا مورل بلند کرنے کے اقدامات کرتی بلند حوصلہ افراد ہر مشکل کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن جب عوام کو نفسیاتی طور پر ہی خوف میں مبتلا کردیا جائے تو نہ تو دوائیں کام آتی ہیں اور نہ ماہر ڈاکٹر اور بڑے بڑے اسپتال ہماری قومی بدقسمتی ہے کہ فرنٹ لائین پر کام کرنے والے ڈاکٹرز کے بھی حوصلے پست کردیے گئے۔ حکمرانوں کی غلطیاں عوام کو خسارے میں مبتلا کردیتی ہیں اور ہمارے ساتھ یہی ہوا ہمارے حکمران اور ان کے مشیر عوام کی ہمت بندھانے کے بجائے انہیں خوف میں مبتلا کرنے کا سبب بن گئے اس کا نتیجہ نکلا کہ عام نزلہ بخار میں مبتلا افراد سے لوگ دور بھاگنے لگے اور بعض افراد نے صرف نزلہ اور زکام کی وجہ ہی سے خوف کھا کر اپنی زندگی ہاردی۔
خوف سے کس طرح لوگ مرجاتے ہیں اس کا ایک واقعہ بتاتا چلوں گائوں دیہاتوں میں موسم برسات کی آمد سے قبل لوگ اپنے گھروندوں کے چھپر ٹھیک کیا کرتے تھے ایک شخص اپنے بیٹے کے ساتھ چھپر پر چڑھا تار کے ساتھ اپنا صحن کا چھپر درست کررہا تھا کہ اچانک اس کے ہاتھ میں ایک تار سالگ گیا اس نے سمجھا کہ تار لگ گیا ہے عام طور پر اگر کسی کے ہاتھ وغیرہ کی انگلی میں چوٹ لگ جائے تو لوگ فوری طور پر ہاتھ صاف کر لیتے ہیں کام میں لگ جاتے ہیں متاثرہ فرد بھی اپنے کام میں لگ گیا اگلے برس پھر برسات کے موسم کی آمد ہونے والی تھی لوگ اپنے اپنے چھپر درست کررہے تھے وہ شخص بھی اپنا چھپر درست کرنے میں لگ گیا نئے تار باندھنے کے لیے جب اس نے توجہ کے ساتھ اس جگہ پر پہنچ کر دیکھا تو اس نے دیکھا کہ جس مقام پر اس نے تار باندھا تھا وہاں تو ایک سانپ کے بقیہ جات بھی لگے ہوئے ہیں اس کی سمجھ میں آیا کہ وہ جو اس کو پچھلے برس تار لگا تھا تار نہ تھا بلکہ سانپ نے ڈس لیا تھا وہ شخص خوف کی حالت میں گرا اور مرگیا۔ اس واقعے سے سمجھ لینا چاہیے کہ خوف کتنی بری شے ہے کہ زندہ شخص موت کے منہ میں چلا گیا کورونا کے معاملے پر بھی ہمارے ساتھ کچھ ایسا ہی ہورہا ہے عوام خوف کے عالم میں ہیں اور جب تک عوام خوف کی کیفیت سے باہر نہیں نکلیں گے تو قوت مدافعت بھی فعال نہیں ہوگی ہمیں اپنے عوام کی قوت مدافعت فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہمارے حکمراں طبقہ کو حفاظتی خول سے نکلنا ہوگا تاکہ عوام کے ذہنوں سے بیماری کا خوف ختم ہو، اس کے لیے لاک ڈاون سے چھٹکارہ پانا ہو گا تاکہ عوام بے خوف و خطر حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے نفسیاتی طور پر تیار ہو سکیں اس ضمن میں حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کو صحت کی سہولتوں کی فوری فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے صحت اور صفائی کے اداروں کو فعال کرے تاکہ عوام کو کچرے اور تعفن زدہ گندے پانی سے نجات ملے ایک طرف ہم لاک ڈاون کا ڈھندورا پیٹ رہے ہیں۔ دوسری طرف کراچی جیسے شہر کے حالات اتنے خراب ہیں کہ جابجا کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نظر آتے ہیں گٹروں کا گند زدہ پانی بہتا دکھائی دیتا ہے اور ہم صرف اپنے اداروں کو بند کرکے سمجھتے ہیں کہ عوام کا تحفظ یقینی بنا جا سکتا ہے انہیں خطرات سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ دنوں میں ٹیلی ویژن پر خبریں دیکھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ اچانک ہمارے صوبہ سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی صاحب نمودار ہوئے اور انہوں نے ارشاد کیا کے تعلیمی ادارے ابھی نہیں کھولے جائیں گے کیونکہ خطرہ ہے کہ اگر تعلیمی ادارے کھول دیے گئے تو کورونا کی وبا سے تعلیم کے شعبہ سے وابستہ طلبہ اور اساتذہ زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں میں اس خبر کو سن کر بڑا حیران بھی ہوا اور سوچتا رہا کہ یہ کیسے وزیر ہیں کہ بالکل ہی لا علم ہیں کہ تعلیمی ادارے تو ضرور بند ہیں لیکن طلبہ اپنے گھروں میں بند نہیں ہیں ان کا اپنے ارد گرد کے لوگوں اور دوستوں اور رشتے داروں سے میل جول پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے کراچی شہر کے علاقوں کا دورہ کرکے دیکھا جائے تو جا بجا لڑکے کھیل کود میں مصروف دکھائی دیتے ہیں راتوں کو دیکھیں تو جگہ جگہ ٹولیوں کی شکل میں لوگ بیٹھے گپ شپ کرتے دکھائی دیں گے اور اب تو صورت حال یہ کے نوجواں رات رات بھر گھومتے پھرتے اور تفریحات کرتے دکھائی دیتے ہیں اور جب ان سے پوچھا جائے کے اتنی رات ہوگئی ہے یہ کیا ہورہا ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ صبح اسکول یا کالج تھوڑی جانا ہے اور پھر یہی نوجوان دن دن بھر اپنے گھروں میں سوتے پڑے رہتے ہیں یہ وہ حقیت ہے جس کا شاید ہمارے وزیر موصوف کو علم ہی نہیں ہے ہم نے کورونا سے بچانے کے لیے اپنی نئی نسل کو ہی داو پر لگا دیا ہے اور پھر وزیر موصوف کا یہ کہنا کہ اگر اسکول کھل بھی جائیں گے تو والدین خود بھی اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں نہیں بھیجیں گے ایک عجیب منطق ہے۔ سونے پہ سہاگہ تمام طالب علموں کو پاس کرنے کی نوید سنا کر شعبہ تعلیم کا بیڑہ غرق کردیا گیا جب وفاقی اور صوبائی کا بینہ کے اجلاس منعقد کیے جاسکتے ہیں تو پھر طالب علموں کے امتحانات کیوں نہیں لیے جاسکتے تھے یہ حکومت کی ذمے داری تھی کہ وہ امتحانات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے اقدامات کرتی قومیں مشکلات کا مقابلہ کر کے ہی دنیا میں اپنا مقام حاصل کرتی ہیں حالات سے گھبرا کر گھٹنوں کے بل بیٹھ جانے والی قوموں کو تاریخ کے اوراق میں کبھی اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا جا تا ہے ہمارے بہترین طالب علموں کا استیصال کیا گیا ان حالات میں کامیاب ہونے والے طالب علموں کا مستقبل کیا ہے ہم ویسے بھی تعلیمی میدان میں دنیا کی دیگر اقوام سے پیچھے ہیں ہمارا تعلیمی نظام کمزور بنیادوں پر تو پہلے ہی کھڑا تھا رشوت، سفارش، نقل اور کاپی کلچر نے ہمارے طالب علموں میں وہ صلاحیت پیدا ہی نہیں ہونے دی تھیں جو زندہ قوموں کے طالب علموں کے روشن چہروں سے دکھائی دیتی ہے۔ اب کی صورت حال یہ ہے کہ اکثر والدین نے اپنے نونہالوں کی تعلیم و تربیت میں دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے پرائمری کلاسز کے بچے موبائل اور ٹیب میں کھیلوں میں مگن دکھائی دیتے ہیں اور بڑوں کی تو دلچسپیاں ہی ان کی عمروں سے کہیں زیادہ دکھائی دیتی ہیں بات کہیں سے کہیں نکل گئی کیوںکہ صورتحال ہے ہی کچھ ایسی سنگین اور اس سنگین صورت حال سے نکلنے کے لیے قومی سیاسی قیادت کو بڑی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے جو اب تک کسی سطح پر دکھائی نہیں دے رہا حکومت کو ہر سطح پر فوری اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل تھنک ٹینک قائم کرنا چاہیے جو غیر سیاسی پس منظر کے حامل ہو ں جو مختلف مسائل پر حکومت کی ہر سطح پر رہنمائی کریں کیونکہ موجودہ مشیروں اور وزیروں کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے اور اب یہ بات سب کی سمجھ میں آرہی ہے کہ عوامی مسائل حل کرنے کے لیے معاملہ فہم، مخلص فرض شناس اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باشعور افراد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں کا معمول بن گیا ہے کہ ہر حکومت حالات سنبھالنے کے بجائے کبھی سابقہ حکومتوں کا رونہ روتی ہیں اور کبھی ایک دوسرے کے عدم تعاون کا۔ ذمے داریاں اٹھانے سے پہلے تو سب ہی بڑھکیں مارتے ہیں لیکن عوام کو بے وقوف بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے وسائل کے حصول پر تو ہمیشہ نظریں رکھتے ہیں لیکن مسائل سے جان چھڑانے کی ترکیبیں نکالنے کے لیے مشیروں کی ٹیم جمع کر لیتے ہیں بس اب تو یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ ہی اس قوم کی مشکلات آسان کرئے۔