جج ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی ملزم کی رہائی کا پروانہ جاری

391

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی ملزم میاں طارق کی ضمانت پر رہائی کا پروانہ جاری کر دیا گیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد نے میاں طارق کی روبکار جاری کردیا ہے جس کے مطابق  ملزم میاں طارق کو ارشد ملک ویڈیو کیس میں ضمانت پر رہا کردیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل میں مرکزی ملزم میاں طارق محمود کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی تھی۔ کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامرفاروق پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے کی ۔

دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کس نے بلیک میلنگ کی؟ کس نے کس کو بلیک میل کیا؟کیا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ طارق محمود نے جج بلیک میل کیا جس پر ایف آئی اے اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ارشد ملک کے ملازمین نے بیان دیا کہ طارق محمود نے جج کو ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ارشد ملک نے اپنے بیان میں کیا کہا؟ بلیک میل کیسے ہوا؟دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا جج بلیک میل ہو گیا؟ اس آدمی کو کتنے عرصے سے جیل میں رکھا ہوا ہے جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ دس ماہ سے طارق محمود اڈیالہ جیل میں قید ہے ۔

جسٹس عامر فاروق نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کیا کہ لگ رہا ہے کہ آپ کے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود نہیں؟ عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ویڈیو دیکھی؟ جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ویڈیو دیکھی ہے، جج غیر اخلاقی حالت میں ہے اور ان کی ویڈیو بن رہی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس میں جج بھی قصور وار ہے ۔عدالت نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کی فرانزک رپورٹ اور جج کا بیان ہے ویڈیو درست ہے،میاں طارق کے خلاف کیا ثبوت ہے؟ملزم نے جج کو بلیک میل کیا ثبوت کدھر ہیں؟ آپ کی رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں ۔عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد ملزم کی ضمانت بعدازگرفتاری منظور کر لی۔