سابق سیکریٹری کالجز نے 410لیکچرراز کو کاہلی کے سبب انکریمنٹ سےمحروم کروادیا، سپلا

349

کراچی : سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسو سی ایشن (سپلا) کے مرکزی صدر پروفیسر سید علی مرتضیٰ کا کہنا ہےکہ سابق سیکریٹری کالجز رفیق برڑو اور ڈپٹی سیکریٹری کرن شیخ نے 410لیکچرراز کا مسقبل داؤ پراور کاہلی کے سبب انکریمنٹ سے بھی محروم کروادیا ہے۔

سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسو سی ایشن کے  اراکین کی  جانب سے بیان  میں کہا گیا ہے  کہ پندرہ سال سے ترقی کے منتظر لیکچررز کے لیے نو ماہ قبل ہونے والی ڈی پی سی کے منٹس کو منظور کروانے کے لیے ابھی تک متعلقہ محکمہ کو نہیں بھیجے جا سکے ہیں، جس کی وجہ سابق سیکریٹری کالج ایجوکیشن رفیق برڑو اور ایس جے اے اینڈ سی ڈی میں ڈپٹی سیکریٹری سروسز کرن شیخ نے لیکچررز کی ڈی پی سی پر دستخط نہیں کیے۔

سپلا کے رہنماؤں  کا مزید کہنا تھا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ان دونوں افسران کی لاپرواہی، سستی، عدم دلچسپی اورعدم دستیابی کے سبب سندھ کے چارسو دس لیکچررز کی انکریمنٹ سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔

سپلا کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ ڈی پی سی کے فوراً بعد کس قانون کے تحت بغیر کسی کاغذی کارروائی کے لیکچرراز کی اے سی آرز کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے ایس جے اے اینڈ سی ڈی کی ڈپٹی سیکریٹری کرن شیخ کو بھیجیں گئیں، جنہوں نے سات ماہ تک ا ن کاغذات کو اپنے دفتر میں دبائے رکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ  سیکریٹری کالج ایجوکیشن سید باقر عباس نقوی کی دلچسپی کے سبب لیکچررز کی ڈی پی سی کے منٹس جاری کیے گئے، جن پر تمام ممبران نے دستخط بھی کر دیے ہیں  لیکن سابق سیکریٹری کالجز رفیق برڑو اور ڈپٹی سیکریٹری کرن شیخ منٹس پر دستخط کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں، لگتا یوں ہے کہ  نو ماہ قبل ہونے والی ڈی پی سی کے منٹس پردستخط کے لیے لیکچرراز کو سڑکوں آنا پڑے گا۔

سپلا کے رہنماؤں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی  اورچیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ مطالبہ کیا کہ وہ ان دونوں افسران کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کے عہدوں سے برطرف کریں اور لیکچرراز کے منٹس اور پوسٹنگ آرڈر جاری کرتے ہوئے اس کا اطلاق 31 مئی سے قبل کیا جائے۔