محمد اظہار الحق کے خیالات کا تجزیہ

669

اب تک تو قوم سیکولر اور لبرل لکھنے والوں سے عاجز آئی ہوئی تھی مگر لگتا ہے کہ بعض اسلام پسند کالم نویسوں نے بھی قوم کو زہر پلانے پر کمر باندھ لی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال محمد اظہار الحق کا کالم ’’جب ہسپانیہ پر ہماری حکومت تھی‘‘ ہے۔ اس کالم میں اتنی قابل اعتراض بلکہ ہولناک باتیں ہیں کہ آدمی ان کا تفصیلی جواب لکھنے بیٹھ جائے تو ایک کتاب وجود میں آجائے لیکن محمد اظہار الحق کے کالم پر کتاب لکھنا وقت اور توانائی کا مناسب استعمال نہیں۔ چناں چہ محمد اظہار الحق کے کالم کے چند نکات ہی پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ محمد اظہار الحق نے لکھا ہے۔
’’نو مسلم محمد حمزہ یوسف نے کہا ہے کہ آج کل جس اسلام کا زور ہے وہ ’’جذباتی اسلام‘‘ ہے وہ جو سنجیدہ اسلامی علم و فضل تھا وہ رخصت ہوچکا ہے۔ اسلام کی حقانیت ثابت کرنے والے فلسفی، اسکالر اور متکلمین خال خال ہی نظر آتے ہیں‘‘۔
(روزنامہ دنیا۔ 19 مئی 2020)
مسلمانوں کی علمی حالت افسوسناک ہے۔ اس موضوع پر لکھتے اور کلام کرتے ہوئے ہمیں 30 سال ہوگئے ہیں مگر محمد اظہار الحق نے بات جس انداز میں کہی ہے اس میں دو بڑے مسائل ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ محمد اظہار الحق نے مسلمانوں کے علمی زوال کی بات اس طرح کہی ہے جیسے وہ مریخ پر آباد کسی ’’دوسرے‘‘ کے بارے میں بات کررہے ہیں۔ مگر مسلمان محمد اظہار الحق کا ’’دوسرا‘‘ نہیں ہیں۔ ’’مسلمان‘‘ اور ’’محمد اظہار الحق‘‘ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف نام ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ محمد اظہار الحق جو فرد جرم مسلمانوں یا امت مسلمہ پر عاید کررہے ہیں وہ فرد جرم خود ان پر بھی عاید ہوتی ہے۔ محمد اظہار الحق کی عمر 72 سال ہے۔ اس طویل عمر کا بیش تر حصہ محمد اظہار الحق نے شعر کہتے ہوئے گزارا ہے۔ چناں چہ اگر ہمیں ٹھیک یاد ہے اب تک محمد اظہار الحق کے پانچ شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ اب ہمیں یہاں پوچھنا یہ ہے کہ مسلمانوں کے علمی زوال کا ماتم کرنے والے نے خود فلسفے، علم کلام اور علم و فضل پر کتنی کتابیں تحریر کی ہیں؟ ایک بھی نہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو خود محمد اظہار الحق کا وجود اور زندگی بھی مسلمانوں کے علمی زوال کا حصہ ہے مگر وہ کلام اس طرح کررہے ہیں جیسے مسلمانوں کے علمی زوال کا سبب مریخ پر آباد ’’مسلمان‘‘ یا محمد اظہار الحق کے ’’دوسرے‘‘ ہیں۔ خود محمد اظہار الحق تو ماشا اللہ فلسفے اور حکمت کی گنگا جمنا بہا رہے ہیں۔ ایک مسئلہ تو یہ ہوا۔
محمد اظہار الحق کے مذکورہ بالا بیان میں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ’’جذباتی اسلام‘‘ یا جذبے کی بنیاد پر کام کرنے والا اسلام کوئی معمولی چیز نہیں۔ جذبہ انسان کی آگہی کا ایک بہت ہی بڑا ذریعہ ہے۔ اقبال کی شاعری میں عشق جذبے کی بنیاد پر کام کرنے والی قوت ہے۔ یہ قوت معلوم کو محسوس، مجرّد کو ٹھوس اور غیب کو حضور بناتی ہے۔ اس کے مقابلے پر وحی کی منکر عقل اور فلسفے کی کوئی اوقات ہی نہیں۔ اقبال کہتے ہیں۔
عقل گو آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں
مزید فرماتے ہیں۔
انجام خرد ہے بے حضوری
ہے فلسفہ زندگی سے دوری
اقبال عشق اور عقل کی محبت کو زندگی کی دو انتہائوں پر لے جا کر ختم کردیتے ہیں اور کہتے ہیں۔
برپا مرے ضمیر میں پھر معرکہ کہن ہوا
عشق تمام مصطفی عقل تمام بولہب
بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ جذبے اور جذباتیت میں فرق ہے۔ بلاشبہ فرق ہے۔ جذبہ وجود کی کلیت کا استعارہ ہے اور جذباتیت وجود کے صرف انفرادی گوشے کی ترجمان۔ جذبے کا تشخص اجتماعی ہے اور جذباتیت کا تشخص انفرادی۔ جذبہ انسان کے پورے مذہب، پوری تاریخ اور پوری تہذیب کی گویائی ہے اور جذباتیت ایک فرد کی خود کلامی۔ یہ جذبہ ہے جس کی وجہ سے مسلمان زندہ ہیں۔ یہ جذبہ ہے جس کی قوت سے مسلمانوں نے افغانستان میں پہلے وقت کی سپرپاور سوویت یونین کو منہ کے بل گرایا۔ یہ جذبہ ہے جس نے افغانستان میں وقت کی واحد سپر پاور امریکا کو بدترین شکست سے دوچار کیا۔ کیا ایسی قوت اس بات کی مستحق ہے کہ اس کا ذکر تحقیر کے ساتھ کیا جائے؟
المناک بات یہ ہے کہ محمد اظہار الحق نے برصغیر میں چلنے والی تحریک خلافت کو ’’جذباتیت‘‘ کی مثال قرار دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ صرف ’’قائد اعظم‘‘ تھے جو بھانپ گئے تھے کہ گاندھی مسلمانوں کو جذباتی کرکے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ قائد اعظم کی دور بین نگاہ نے اس تحریک کا انجام بھانپ لیا تھا۔ خلافت تحریک برصغیر کے مسلمانوں کی ’’جذباتیت‘‘ کی نہیں اس آفاقیت اور عالمگیریت کا ثمر تھی جس کا مظہر خود اسلام ہے۔ رسول اکرمؐ نے امت مسلمہ کو جسد واحد قرار دیا ہے۔ اقبال نے اس بنیاد پر کہا ہے کہ منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک۔ چناں چہ خلافت کے خاتمے کو برصغیر کے مسلمان اپنا نقصان اور اس کی بقا کو اپنا فائدہ سمجھ کر تحریک چلارہے تھے۔ اس تحریک کی قیادت گاندھی کے ہاتھ میں نہیں محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، ابوالکلام آزاد اور حسرت موہانی جیسے مسلم رہنمائوں کے ہاتھ میں تھی۔ رہے ’’قائد اعظم‘‘ تو خلافت تحریک کے زمانے میں وہ صرف ’’مسٹر جناح‘‘ تھے۔ خلافت تحریک 1919ء سے 1924ء تک جاری رہی۔ اس وقت قائد اعظم کانگریس کے ایک رہنما تھے اور کوئی بڑا مثالیہ یا Ideal ان کے سامنے نہیں تھا۔ یہ تو پاکستان کا ’’جذباتی آئیڈیل‘‘ تھا جس نے جناح کو قائد اعظم بنایا۔ خلافت تحریک 1940ء کے بعد چلتی تو قائد اعظم اس کی حمایت کرتے بلکہ وہ اس کی قیادت کرتے۔ ایک یونیورسٹی کا طالب علم ہی یونیورسٹی کے نصاب کو سمجھ سکتا ہے۔ گاندھی خلافت تحریک میں اس لیے شامل ہوئے تھے کہ انہوں نے خلافت اور سوراج یا Self Rule کے مسئلے کو باہم منسلک کردیا تھا۔ جہاں تک خلافت تحریک کی ناکامی پر تبرہ بھیجنے کا تعلق ہے تو ہماری کون سی تحریک ہے جو کامیاب ہوئی؟ ٹیپو سلطان ناکام ہوا۔ سراج الدولہ ناکام ہوا۔ 1857ء کی جنگ آزادی ناکام ہوئی۔ سید احمد شہید کی تحریک ناکام ہوئی۔ مگر ان تحریکوں نے ناکام ہو کر بھی مسلمانوں کی قوت مزاحمت کو زندہ رکھا۔ ایسا نہ ہوتا تو ایک قائد اعظم کیا دس قائد اعظم بھی پاکستان نہیں بنا سکتے تھے۔ اور خود پاکستان کون سا کامیاب ہوگیا۔ اپنے قیام کے 24 سال بعد پاکستان آدھا رہ گیا۔ بچے کھچے پاکستان کی حالت خراب ہے۔ کہنے والے گھٹیا لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان جناح کی جذباتیت یا انانیت کا مظہر تھا اسے ناکام ہونا ہی تھا۔ لاحول ولاقوۃ۔
محمد اظہار الحق نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مسلمان ماضی کی طرف دیکھتے ہیں مگر اب نہ صدیوں پہلے کی معاشرت واپس آسکتی ہے نہ عسکری سیٹ اپ۔ محمد اظہار الحق جیسوں کی بات اور ہے ورنہ زندہ انسان ہر چیز کو واپس لاسکتے ہیں۔ یہودیوں نے ڈھائی ہزار سال پہلے موجود اپنی ریاست کو ’’موجود‘‘ کرکے دکھا دیا۔ عبرانی ایک مردہ زبان تھی یہودیوں نے اسے مار مار کر زندہ کردیا۔ مگر ہم یہودیوں کی طرف کیوں دیکھیں۔ جس زمانے میں پاکستان کا مطالبہ اسلام کے نام پر کیا گیا کیا اس زمانے میں نظریہ کی بنیاد پر ملک بنائے جارہے تھے؟ کیا مسلمانوں نے پہلے بھی پاکستان جیسی ریاست بنا کر دکھائی تھی؟ کیا تاریخ میں اس بات کی کوئی نظیر موجود تھی کہ ایک کمزور قوم نے وقت کی واحد سپر پاور اور عظیم اکثریت سے لڑ کر ایک الگ ملک بنا ڈالا؟ مگر پاکستان کی صورت میں یہ سارے کام ہوئے۔ جذبۂ صادق سے سب کچھ ممکن ہے۔ ماضی کا مکمل احیا بھی۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے میرا زمانہ رہے گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا۔ میرے بعد خلافت راشدہ ہوگی اور اس کا دور رہے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ اس کے بعد ملوکیت ہوگی اور اس کا عہد رہے گا جب تک اللہ کی مرضی ہوگی۔ اس کے بعد کاٹ کھانے والی آمریت ہوگی۔ اس کا وجود باقی رہے گا جب تک اللہ کو پسند ہوگا مگر اس کے بعد دنیا ایک بار پھر خلافت علیٰ منہاج النبوہ کے تجربے کی جانب لوٹے گی۔ چوں کہ رسول اکرمؐ نے فرما دیا ہے تو محمد اظہار الحق اور ان جیسے خواہ کتنا ہی زور لگالیں ماضی نئے اسلوب میں خود کو دہرا کر رہے گا۔
محمد اظہار الحق کے خیالات ہی نہیں ان کے تضادات بھی ہولناک ہیں۔ ایک جانب وہ برصغیر کے مسلمانوں کو ’’مقامی‘‘ بننے کی تلقین کرتے ہیں اور ان کی خلافت تحریک پر طنز کرتے ہوئے اسے ’’جذباتی تحریک‘‘ کہتے ہیں اور دوسری جانب انہوں نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ پورے کرئہ ارض کی تاریخ ہماری اپنی تاریخ ہے۔ مسلمان ہونے کے علاوہ ہم ’’انسان‘‘ بھی ہیں۔ انسانی تاریخ جہاں بھی ہو جس عہد کی بھی ہو ہماری اپنی تاریخ ہے۔ یہ ’’انسانیت‘‘ کی میراث ہے۔ یعنی مسلمانوں کی پوری تاریخ تو مسلمانوں کی تاریخ نہیں ہے مگر پورے کرئہ ارض کی تاریخ ہماری تاریخ ہے۔ کیا رسول اکرمؐ نے کہیں فرمایا کہ کافروں اور مشرکوں، ابوجہل اور ابولہب کی تاریخ بھی مسلمانوں کی تاریخ ہے۔ کیا ہندوئوں کے شرک کی تاریخ مسلمانوں کی تاریخ ہے؟۔ کیا سوویت یونین اور چین کے کفر کی تاریخ مسلمانوں کی تاریخ ہے؟۔ کیا 10 کروڑ ریڈ انڈینز اور 4 کروڑ افریقوں کو قتل کرنے والے امریکیوں کی تاریخ ہماری تاریخ ہے؟۔ کیا یورپی استعمار کی تاریخ ہماری تاریخ ہے؟، کیا فلسطینیوں پر یہودیوں کے ظلم کی تاریخ ہماری تاریخ ہے؟، کیا ہڑپہ اور موئن جودڑو کی تاریخ ہماری تاریخ ہے؟۔
محمد اظہار الحق نے اپنے کالم میں ایک واقعہ بھی لکھا ہے۔ واقعہ یہ ہے۔ امریکا میں برپا ہونے والی ایک محفل میں کچھ عرب اور کچھ پاکستانی موجود تھے۔ تاریخ کا ذکر آیا تو ایک پاکستانی نے کہا جب ہسپانیہ پر ہماری حکومت تھی ایک عرب نے اسے ٹوکا اور کہا ہسپانیہ پر تمہاری نہیں عربوں کی حکومت تھی۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اسلام جس عرب سرزمین سے ابھرا وہاں کا ایک آدمی خود کو مسلمان کے بجائے عرب کہہ رہا ہے اور ایک پاکستانی اپنے اسلامی تشخص پر اصرر کررہا ہے اور محمد اظہار الحق اپنے اسلامی تشخص پر اصرار کرنے والے کو شرمندہ کررہے اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اسلام تو کہیں نہیں ہے ہر طرف صرف نیشنل ازم ہے۔ محمد اظہار الحق کے لیے اطلاعاً عرض ہے کہ ہم گزشتہ چالیس سال میں ایسے سیکڑوں گھٹیا مہاجروں، سندھیوں، بلوچیوں، پشتونوں اور سرائیکیوں سے ملے ہیں جو کہتے ہیں پاکستان اسلام کا مرکز تھوڑی ہے۔ یہ تو ’’پنجابی استعمار‘‘ کا مرکز ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس طرح محمد اظہار الحق نے ایک گھٹیا فقرے کو آگے بڑھایا کیا ’’پنجابی استعمار‘‘ کے گھٹیا فقرے کو بھی آگے بڑھایا جائے؟ کیا ایسا کرنا ہماری مذہبی، تہذیبی، تاریخی، امتی، ملی اور قومی حسیّت کے مطابق ہوگا؟۔