سگ نامہ

344

چار سال قبل جب میں حیدر آباد سے کراچی منتقل ہوا اور ماڈل کالونی سے متصل سورتی سوسائٹی میں رہائش اختیار کی تو میرے کرم فرما دوست جناب اعجاز احمد خان (سابق جمعیتی اور ماہر تعمیرات، جن کی کرم فرمائی سے یہاں پلاٹ کی خرید اور مکان کی تعمیر کے مراحل طے ہوئے تھے) کی وساطت سے سورتی سوسائٹی کے صدر محترم اور جناب سیکرٹری نے غریب خانے تشریف لا کر شرف ملاقات بخشا لیکن اس اعزاز سے قبل جس سانحے سے دوچار ہونا پڑا وہ زوجین تھے جنہیں سوسائٹی کے صدر اور سیکرٹری سے سوا سوسائٹی کی نگرانی کی فکر لاحق ہے۔ دن کے وقت تو دونوں نے صرف رواجی درشن کرانے پر اکتفا کیا لیکن نصف شب سے لے کے سحر تک ببانگ دہل اپنی عملداری کا پرفتوح اعلان صادر فرمایا۔ یوں تو حیدر آباد میں بھی اپنے سکونہ گھر (علی کمپائونڈ) میں گروہ کا ایک نمائندہ ہفتے میں ایک آدھ بار محلے کی کسی بلی کے تعاقب میں آنکلتا اور اُبلتے ہوئے گٹر کے قریب نمی پر استراحت فرما بھی ہوجایا کرتا تھا (خاص طور پر موسم گرما میں دھوپ کی شدت سے بچنے کے لیے ) پھر سرشام اپنے فرض منصبی کی ادائیگی کے لیے واپس چلا جایا کرتا تھا۔ قبل ازیں حیدر آباد کے معروف محلے ہیر آباد میں بھی چوں کہ قبل تقسیم متمول ہندو حضرات کی رہائش تھی وہاں سنا ہے ہردو ساکنین میں باقاعدہ معاہدہ پرامن بقائے باہمی طے پا گیا تھا جس کے تحت رات کا بھوجن فریق ثانی (جن کے مذکور بات شروع ہوئی ہے) بلاتکلف گھروں میں گھس کر صحن میں رکھے گئے کھانے کے برتنوں میں متنوع کھانوں سے شکم سیری کرتے اور اس طرح گھر کے مکینوں کو برتن بھانڈے دھونے کی فکر سے آزاد کردیتے۔ مُسلے (مسلمان) اور فریق اول کی ہدایت کے مطابق کسی ’’مُسلے‘‘ کو ہیر آباد کے پَوِتّر محلے میں سے ہو کر گزرنے میں مانع ہوا کرتے تھے۔
یوں تو شریعت اسلامی میں کتّا نجس قرار پایا ہے الاّیہ کہ اپنی فطری وفاداری کی صفت کی بنا پر گھر کی چو کسی اور شکار میں معاونت کے لیے اسے گوارہ کیا جائے۔ شوقیہ کتا پالنے والوں کے لیے وہ حدیث کافی ہے کہ جس گھر میں کتا اور تصویر ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ کہتے ہیں کسی سگ پسند کو یہ حدیث لفظ رحمت کے حذف کے ساتھ پہنچی تو کہنے لگے پھر تو کتا مالک کی حیات جاوداں کا ضامن ٹھیرا کہ فرشتوں میں جو حضرت عزرائیل کے اسٹاف کے ارکان ہیں وہ بھی کتا گیر گھر میں آنے سے گریز کریں گے۔ لیکن کسی مولوی نما دوست نے اس کی یہ خوش گمانی یہ کہہ کر دور کردی لیکن وہ فرشتے تو آئیں گے نا جو کتوں کی روح قبض کرتے ہیں۔
قرآن پاک میں ہمیں کتوں کے دو نمونے ملتے ہیں ایک محافظ نما کتا جو دیندار اصحاب کہف کے ساتھ اس وقت ہولیا تھا جب وہ کافر بادشاہ کے خوف سے ایک غار میں پناہ گزین ہوگئے تھے اور وہاں معجزاتی طور پر ان پر کئی سال نیند کا غلبہ رہا تھا کتا غار کے منہ پر روایتی انداز سے اپنی دو اگلی ٹانگیں پھیلائے (غالباً غنودگی کے عالم میں) بیٹھا رہا تھا (سورہ کہف آیت8)۔ دوسرا نمونہ ایک نفس پرست مُرتد کی مثل کے طور پر سورئہ اعراف کی آیت نمبر 172 میں ملتا ہے کہ اس کو مارنے کو بڑھو تو بھی زبان لٹکائے اور چھوڑ دو تو بھی زبان لٹکائے۔
کتوں کو مغربی ممالک میں جس چائو اور شیفتگی سے رکھا جاتا ہے اس کا ذکر بعد میں ہوگا پہلے آپ کو خود اپنے ملک میں کتوں سے عقیدت کا ایک محیر العقول واقعہ سنانا چاہوں گا۔ ایک بار اتفاق ٹھٹھہ سے حیدر آباد جانے کا ہوا۔ راستے میں بس مغرب کے وقت جھرک نامی قصبے میں ٹھیری۔ اُدھر حیدر آباد سے ٹھٹھہ جانے والی بھی ایک بس اُس مستقر (اڈے) پر آکر رکی اور اس میں سے ایک شخص ایک کنستر لے کر نکلا اور اُترتے ہی کنستر میں سے ہاتھ کی پکی گندم کی روٹیاں نکال کر سڑک پر اچھال کر پھینکنی شروع کردیں یہاں تک کہ کنستر خالی ہوگیا۔ اب جو نظر کنستر سے اُچٹ کر سڑک پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ کتوں کا ایک گروہ اُن روٹیوں پر پلا پڑا ہے۔ اور پھر میں نے یہ بھی بچشم سر دیکھا جب کتے شکم سیر ہو چکے تو ان کے گرد دائرہ بنائے کھڑے ہوئے منظر انسانی بچوں نے بچے ہوئے روٹی کے ٹکڑوں پر لڑنا شروع کردیا۔ حیرت سے قریب کھڑے ایک صاحب۔ اس منظر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بتلایا کہ جن اسمٰعیلی حضرات کے اس قصبے میں قدیم مکانات ہیں اُنہیں مذہبی تقدس حاصل تھا اور یہ کتے انہی کے کتوں کی نسل کے ہیں اس لیے انہیں عقیدت سے دیکھا جاتا ہے اور روزانہ ان کے لیے حیدر آباد سے روٹی لائی جاتی ہے۔ یہ جواز سن کر میری جو ذہنی کیفیت ہوئی یقینا قارئین کی بھی اس منظر کشی کے بعد اُس سے مختلف نہیں رہی ہوگی۔
کتوں پر فریفتہ انگریزوں نے جب تقسیم ملک کی کڑوی گولی نگلی اور بقول ان کے ہندوستانیوں کو مہذب بنانے کے انسانی فریضے (white man’s burden) کو ادھورا چھوڑ کر جانے لگے تو جہاں اپنی باقیات السیّات کے طور پر تہذیبی نشانیاں چھوڑیں ان میں برتری اور اعزاز کی علامت حُبِ سگ یا سگ پسندی بھی شامل تھی ویسے اس روایت سرانح تو نام نہاد اکبر اعظم کے دو اہم رتنوں فیض اور ابولفضل کی سگ پرستی میں بھی ملتا ہے کہ اُن میں سے بھی ایک بھائی (غالباً ابوالفضل) قرآن پاک کی بے نقط (بغیر نکتوں کے الفاظ پر مشتمل) تفسیر کتوں ہی کی مقدس صحبت میں بیٹھ کر لکھی تھی اور روایت کے مطابق جب اُن کے حریف شاعر نے عُرضی اُن سے (طنزاً) کتوں کی طرف اشارہ کرکے فارسی میں پوچھا تھا کہ ایں چیست؟ (یہ کیا شے ہے) تو اُن میں سے ایک نے تُرنت جواب دیا تھا کہ ’’عُرضیت‘‘ جس کے ظاہری معنی تھے ایک معروف چیز ہیں لیکن مدمقابل کا نام آجانے سے ایک مطلب یہ تھا ’’عرضی‘‘ ہیں۔ اب عرضی کی فتانت کب رکنے والی تھی بولا۔ ’’مبارک باشد‘‘ یعنی آپ کو مبارک ہوں لیکن مخفی معنی یہ تھے کہ تمہارے باپ ’’مبارک‘‘ ہیں کہ ان کے باپ کا نام ’’شیخ مبارک‘‘ تھا۔
(جاری ہے)