بھارت ،تبلیغی جماعت کے 376 ارکان پر فرد جرم عائد

131

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں کورونا وائرس کی آڑ میں تبلیغی جماعت کے 376غیر ملکی ارکان کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق مودی سرکار نے 34ممالک سے تعلق رکھنے والے تبلیغی ارکان پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک بھرمیں کورونا وائرس پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ مسلمانوں کی دشمن نئی دہلی حکومت کا کہنا تھا کہ مارچ میں نظام الدین مرکز میں تبلیغی اجتماع کے انعقاد کے بعد ملک میں وائرس تیزی سے پھیلا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق376 افراد پر 35الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ ان میں سے 20ممالک سے تعلق رکھنے والے 82 افراد کے خلاف پہلی بار اور 14ممالک سے تعلق رکھنے والے 294افراد کے خلاف دوسری بار فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ویزا قوانین، کورونا وائرس کے پیش نظر جاری کی گئی ہدایات، وبائی بیماریوں کے قانون، ہنگامی قانون اور حکم امتناع کی خلاف ورزی کی۔ حکومت نے فیصلہ آنے تک ان کے ویزے منسوخ کر دیے اور انہیں بلیک لسٹ کر دیا ہے، تاہم ابھی تک کسی کو گرفتارنہیں کیا گیا۔ مودی سرکار کی سازشوں کا شکار ہونے والے 294غیر ملکیوں کا تعلق ملائیشیا، تھائی لینڈ، بنگلادیش، نیپال، سری لنکا سے ہے۔ 82افراد میں سے 4کا تعلق افغانستان، 7کا برازیل اور چین جب کہ 5کا تعلق امریکاسے ہے۔ دیگر افراد آسٹریلیا، قزاقستان، مراکش، برطانیہ، یوکرائن، مصر، روس، اُردن، فرانس، تیونس، بلجیم، سعودی عرب، فجی، سوڈان، فلپائن اور الجزائر کے ہیں۔ بھارتی میڈیاکے مطابق عدالت اس معاملے پر 12جون کو سماعت کرے گی۔ فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ ملزمان سیاحتی ویزے پر بھارت آئے، لیکن انہوں نے مذہبی تقریبات میں شرکت کی۔ ان الزامات کے تحت ممکنہ طور پر 6ماہ سے لے کر 8 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب تبلیغی جماعت کے وکیل فضل ایوبی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ہریانہ میں فریدآباد اور میوات کی عدالتوں نے ویزا قوانین کی خلاف ورزی کی دفعات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ امید ہے کہ عدالت تمام ارکان کو اپنے ملک جانے کی اجازت دے گی۔ فضل ایوبی نے کہا کہ تبلیغ کے لیے آنے والے سیاحتی ویزے ہی پر آتے ہیں اور امیگریشن کاؤنٹر پر واضح کرتے ہیں کہ وہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں جائیں گے۔ ویزا قوانین کے مطابق غیر ملکی تبلیغ کے پروگراموں میں شرکت کر سکتے ہیں۔