شہباز شریف لیپ ٹاپ کے بجائے قرآن کے سامنے بیٹھیے

483

محمد مظفر الحق فاروقی
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے دو اہم خبریں میڈیا میں آئیں اور پھر دونوں ہی معدوم ہوگئیں۔ ایک خبر یہ تھی کہ اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو کینسر ہوگیا ہے اور دوسری خبر ان ہی دنوں یہ آئی کہ شہباز شریف صاحب سے کسی تقریب میں قرآن شریف کی تلاوت کرنے کے لیے کہا گیا تو وہ سورۃ الکوثر کی تلاوت نہ کرسکے۔ ان کو 3 آیات پر مشتمل قرآن شریف کی سب سے چھوٹی سورہ یاد نہ تھی۔ ہمارے ملک کا یہ نامور اور بڑا سیاستدان قرآن پاک کی سب سے چھوٹی سورۃ کو نہ پڑھ سکا۔ کچھ عرصے بعد موصوف نے یہ خبر سنائی کہ میں نے ٹیسٹ کرایا، ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ مجھے کوئی کینسر نہیں ہے۔ ان ہی دنوں میں نے ایک کالم لکھنا شروع کیا جس کا عنوان تھا ’’شہباز شریف صاحب، سورۃ الکوثر اور کینسر‘‘۔ یہ کالم نامکمل رہا۔ ان کا کینسر بھی ختم ہوا اور میرا موڈ بھی بدل گیا۔ شہباز شریف پاکستان میں ہوں یا پاکستان سے باہر وہ ہمیشہ ہی سے میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں، ان کی شخصیت ’’دلکش‘‘ بھی ہے اور ’’دلچسپ‘‘ بھی، وہ نت نئے روپ میں سامنے آتے ہیں، مختلف قسم کے انگریزی ہیٹ اور دوسری طرح کی ٹوپیوں کے استعمال نے ان کو اور بھی ’’مقبول‘‘ اور ’’پُرکشش‘‘ بنادیا ہے۔ ہیٹ تو ان پر سجتا ہے کبھی وہ ترکی ٹوپی اور وہ بھی لمبے پھلنے والی پہن کر سامنے آئیں تو دیکھنے والوں کو مزہ آجائے گا اور وہ میڈیا میں ایک نیا مقام اور روپ حاصل کرلیں گے۔ شہباز شریف صاحب اکثر دھیلے کی بات کرتے نظر آتے ہیں یا سنائی دیتے ہیں۔ ایک کروڑ پتی بلکہ ارب پتی انسان کے منہ سے دھیلے کا لفظ جچتا نہیں۔ شاید وہ واحد سیاستدان ہیں یا سرمایہ دار ہیں جن کے منہ سے دھیلے کا لفظ نکلتا ہے اس طرح کہ ’’اگر مجھ پر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو خدا کی قسم ہمیشہ کے لیے سیاست چھوڑ دوں گا‘‘۔
بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا دھیلا کیا ہوتا ہے۔ دھیلہ وہ سکہ ہے جو ایک پیسہ کا آدھا ہوتا ہے اور ایک روپے میں 64 پیسے ہوا کرتے تھے۔ رقم کی شاید یہ سب سے چھوٹی اکائی ہے۔ وہ درست کہتے ہیں۔ شہباز صاحب پر NAB والے کروڑوں کی کرپشن کا الزام لگاتے ہیں، ایک دھیلے کی کرپشن کا نہیں۔ آج کل شہباز شریف صاحب ایک نئے روپ میں نظر آتے ہیں، شاید وہ کورونا کے ڈر کی وجہ سے باہر نہیں آرہے وہ اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے دکھتے ہیں۔ دکھ ہوتا ہے یہ سوچ کر کہ یہ کس طرح کا بڑا وی آئی پی انسان ہے جو اس رمضان کے بابرکت مہینے میں بھی دنیا اور سیاست میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ ہمیشہ جو نیکیوں اور ثواب حاصل کرنے کا مہینہ ہے، وہ مہینہ جس میں نوافل کا اجر و ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70 سے 700 گنا تک بڑھادیا جاتا ہے۔ جہاں قرآن شریف کے ایک پارہ کا ثواب 700 پاروں کے برابر کردیا جاتا ہے، جہاں 100 روپے کا صدقہ اور خیرات سات ہزار روپوں کے برابر لکھ دیا جاتا ہے۔ وہ مہینہ موصوف دنیا اور سیاست کی نذر کررہے ہیں۔ شہباز صاحب یہ وہ مہینہ ہے جہاں آپ کو لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھنے کے بجائے قرآن پاک کے سامنے بیٹھنا چاہیے تھا۔ شہباز صاحب رمضان کا مہینہ قرآن کا مہینہ کہلاتا ہے اس ماہ میں قرآن کا نزول ہوا، اس گئے گزرے ماحول اور معاشرے میں لوگ آج بھی ایک ایک دو دو قرآن ختم کرلیتے ہیں، قرآن شریف کو ترجمہ اور تفسیر سے پڑھنا شروع کردیتے ہیں، یہ برکتوں والا مہینہ تیزی سے گزرتا جارہا ہے، کس کو پتا ہے اگلا رمضان دیکھنے کو ملتا ہے یا نہیں۔
شہباز شریف صاحب آپ کو قرآن پاک کی سب سے چھوٹی سورہ یاد نہیں آپ کو سورۃ الفاتحہ کیسے یاد ہوگی جس کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی۔ سورہ فاتحہ تو سات آیات پر مشتمل ہے، اس طرح تو آپ نماز بھی ادا نہیں کرپاتے ہوں گے۔ یہ آپ کے لیے کیا لمحہ فکر نہیں ہے۔ سیاست اور سیاسی بیانات آپ کو جنت میں نہیں لے جائیں گے، آپ کو آپ کی نماز جنت میں لے جائے گی یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں نبی کریمؐ کہہ رہے ہیں۔ آپؐ کی حدیث ہے ’’نماز جنت کی کنجی ہے‘‘۔ آپ نماز کیسے پڑھتے ہوں گے، آپ کی نماز تو ہوتی ہی نہیں ہوگی، نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا لازم ہے اور پھر تقریباً ہر نماز اور رکعت میں قرآن کی کم از کم 3 آیات کا پڑھنا بھی ضروری ہے۔ ان باتوں کی روشنی میں آپ خود جائزہ لیں آپ کس مقام پر کھڑے ہیں۔ آپ اکثر و بیش تر نماز جنازہ کی اگلی صف میں نماز پڑھتے نظر آتے ہیں کیوں کہ ویڈیو بن رہی ہوتی ہے جو ٹی وی پر نشر ہوتی ہے۔ نماز جنازہ فرض نہیں، پانچ وقت کی نماز فرض ہے جو شاید آپ کو پڑھنا نہیں آتی جو دکھ اور شرمندگی اور فکر کی بات ہے۔ یہ چند روزہ دنیاوی اور سیاسی زندگی ایک دن ختم ہوجائے گی جب کہ ہماری نماز اور ہمارا دین ہی ہمیں جنت کی راہ دکھائے گا۔ مجھے آج سے بہت سال پہلے کی ایک خبر یاد آرہی ہے، طالب علمی کا زمانہ تھا، فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت تھی وہ مشرقی مغربی دونوں پاکستان کے صدر اور حکمران تھے خبر یہ اخبار میں آئی کہ ’’ایوب خان نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا‘‘۔ تفصیل اس خبر کی یہ تھی کہ رمضان کا مہینہ تھا، ایوب خان نے خود کو قرآن سے جوڑ لیا۔ کمرے میں خود کو بند کرکے قرآن سے دل اور ذہن لگا لیا کیوں کہ یہی قرآن کا تقاضا تھا۔ شہباز صاحب کاش آپ بھی لیپ ٹاپ سے ہٹ کر قرآن کو سامنے رکھ لیتے جو آپ کو دنیا اور آخرت دونوں جہانوں کی کامیابیوں کا راستہ منور کرتا ہے۔ میں نے پاکستان کے سابق صدر فیلڈ مارشل یا جنرل ایوب خان کی مثال اس لیے لکھی تا کہ آپ کو احساس ہو کہ ایک آمر اور جنرل قرآن سے کتنی محبت کرتا تھا، وہ جانتا تھا اس کا فیلڈ مارشل ہونا قبر میں سوال کرنے والے فرشتوں کو بالکل متاثر نہ کرسکے گا۔ ایک حدیث کے مفہوم کی رو سے جب صاحب قبر پر عذاب آتا ہے تو صدقہ اور قرآن عذاب کے فرشتے کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے کہ میں اس پر عذاب نہیں ہونے دوں گا، یہ بندہ مجھ سے تعلق قائم کیے ہوئے تھا۔ شہباز صاحب ایوب خان بھی ایک سیاستدان تھے آپ بھی سیاستدان کے شہسوار ہیں۔ کاش آپ سابق صدر اور سیاستدان کے طرز عمل سے کچھ سیکھ لیں۔