کابل ،سکھوں کی عبادت گاہ پر خودکش حملہ،25 ہلاک

162

کابل (انٹرنیشنل ڈیسک) افغانستان کے دارالحکومت میں سکھوں کی عبادت گاہ پر حملے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے ۔ کابل حکومت نے تصدیق کی ہے کہ گرودوارے پر حملہ کرنے والے خود کش بم بار کے ساتھ مسلح افراد بھی موجود تھے۔ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تمام حملہ آور ہلاک ہو گئے ۔ خبررساں اداروں کے مطابق طالبان کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کارروائی کی تردید کردی گئی، جب کہ دہشت گرد تنظیم داعش نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی۔ وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان کا اپنے بیان میں حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کی تصدیق کی گئی، تاہم بیان میں ان کی تعداد کے بارے میں وضاحت نہیں کی گئی۔ ترجمان کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے 8افراد کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ فوجی آپریشن کے دوران 80افراد کو بحفاظت عبادت گاہ سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔ افغان پارلیمان کے سکھ رکن نریندر سنگھ کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد عمارت میں 200 سے زائد افراد پھنس گئے ، جنہیںنکالنے کے لیے فوج نے آپریشن شروع کیا اور اس دوران 4جنگجو ہلاک کردیے گئے ۔ واضح رہے کہ چند روز قبل ہی امریکا نے افغانستان کی امداد میں ایک ارب ڈالر کٹوتی کا اعلان کیا تھا۔ افغانستان میں سکھ برادری کی تعداد بہت کم ہے اور ایک اندازے کے مطابق 300سکھ خاندان افغانستان میں آباد ہیں۔ 2018ء میں بھی جلال آباد کے علاقے میں سکھوں پر حملہ ہوا تھا ، جس کی ذمے داری داعش نے قبول کی تھی۔ دوسری جانب مسلمانوں پر بھارت کی زمین تنگ کرنے والی مودی حکومت نے واقعے کی آڑ میں سیاست چمکانا شروع کردی۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں افغان حکومت سے سکھوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت موقع سے فائدہ اٹھاکر بھارت میں بسنے والے سکھوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وزارت خارجہ کے بیان میں افغان فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا کہ نئی دہلی کی حکومت افغانستان میں امن و سلامتی کے قیام کی کوششوں میں افغان عوام، حکومت اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔